امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامس "ٹومی” پیگوٹ نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے دو روزہ "انتہائی نتیجہ خیز” مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس توسیعی معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو مستقل امن میں بدلنے کے لیے سازگار ماحول اور مزید وقت فراہم کرنا ہے۔ یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اتوار کے روز سابقہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے جا رہی تھی، اور اس فیصلے سے خطے میں بڑے پیمانے پر دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔
On May 14 and 15, the United States hosted two days of highly-productive talks between Israel and Lebanon. The April 16 cessation of hostilities will be extended by 45 days to enable further progress. The State Department will reconvene the political track of negotiations on June… pic.twitter.com/Dcs9NJDdN5
— Tommy Pigott (@statedeptspox) May 15, 2026
امریکی ترجمان ٹومی پیگوٹ کے مطابق، واشنگٹن میں ہونے والے ان کامیاب مذاکرات کے سلسلے کو برقرار رکھنے کے لیے باقاعدہ شیڈول طے کر لیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ آئندہ ماہ 2 اور 3 جون کو دونوں ممالک کے درمیان "سیاسی سطح” کے مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرے گا تاکہ کسی مستقل امن معاہدے پر پہنچا جا سکے۔ اس سیاسی عمل سے قبل، سکیورٹی اور سرحدی معاملات کو حل کرنے کے لیے 29 مئی کو پینٹاگون (امریکی وزارتِ دفاع) میں اسرائیلی اور لبنانی فوجی وفود کے درمیان "سکیورٹی ٹریک” مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا، جس میں دونوں ممالک کی افواج کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ عالمی برادری نے اس اہم پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔





