اکتوبر 29, 2026

ایران کا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کرنے پر اعتراض نہیں، پاکستانی وزیراعظم بہترین لیڈر ہیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، تائیوان اور چین کے حوالے سے اہم ترین بیانات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران اپنا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کر دے تو امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے عالمی سیاست اور تجارتی معاملات پر کھل کر بات کی۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستانی وزیراعظم کی زبردست تعریف کی اور ان کی قیادت کو سراہا۔

تائیوان اور چین کے درمیان جاری کشیدگی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے تاحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی باقاعدہ منظوری نہیں دی، "ممکن ہے ہم ہتھیار دیں اور ممکن ہے نہ دیں”۔ انہوں نے واضح کیا کہ تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اس معاملے پر ان کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ تائیوان پر کوئی بڑا فوجی تنازع ہونے جا رہا ہے، تاہم انہوں نے تائیوان کے حوالے سے چین سے کوئی تحریری یا زبانی وعدہ بھی نہیں کیا۔

صدر ٹرمپ نے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات اور پابندیوں کے حوالے سے ایک بڑے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں ایرانی تیل خریدنے والی چینی تیل کمپنیوں پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کریں گے، جبکہ اس کے بدلے میں چین امریکہ سے اربوں ڈالر مالیت کی سویا بین خریدے گا۔ عالمی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان سے امریکہ، چین اور ایران کے درمیان جاری تجارتی اور سیاسی تناؤ میں عارضی کمی آنے کا امکان ہے۔