تحریر: شیخ توصیف رستم
ہمارا معاشرہ کیا ذہنی بیمار ہو چکا ہے؟
جی ہاں، اور شاید یہ سوال آج کے دور کا سب سے اہم سوال ہے۔
آپ کسی محفل میں بیٹھیں، کسی شادی میں جائیں، کسی کی تیمارداری کریں، کسی جنازے میں شریک ہوں یا سوشل میڈیا پر چند منٹ گزار لیں—آپ کو ایک عجیب منظر بار بار دکھائی دے گا۔
ہر شخص اپنے اندر ایک طوفان لیے پھر رہا ہے۔
آپ اگر اپنی کسی پریشانی کا ذکر کریں تو سامنے والا اکثر آپ کی بات سننے کے بجائے فوراً کہتا ہے:
“آپ کی پریشانی تو کچھ بھی نہیں، اصل عذاب تو میں جھیل رہا ہوں!”
اور یوں آپ کی کہانی ادھوری رہ جاتی ہے، جبکہ وہ اپنی مشکلات کا ایک نہ ختم ہونے والا دفتر کھول دیتا ہے۔
آپ کہیں کہ “میں رات بھر نہیں سو سکا”،
تو وہ وجہ پوچھنے کے بجائے بتائے گا کہ وہ تین راتوں سے نہیں سویا۔
آپ اپنے زخم دکھانے جائیں، سامنے والا اپنے زخموں کی پوری تاریخ رکھ دیتا ہے۔
یہ صرف گفتگو کا انداز نہیں، یہ ہمارے معاشرے کی ذہنی تھکن کی علامت ہے۔
آج ہر انسان کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہے۔
کوئی بیماری سے پریشان ہے،
کوئی کاروبار کے نقصان سے،
کوئی بے روزگاری سے،
کوئی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
خواہشات بڑھ گئی ہیں، برداشت کم ہو گئی ہے، مقابلہ شدید ہو گیا ہے، اور سکون نایاب۔
پانچ سال کے بچے سے لے کر پچاس سال کے انسان تک—ہر ایک کے دل میں خوف، بے چینی اور تحفظات پل رہے ہیں۔
ہم زندگی نہیں گزار رہے، ہم جیسے ایک خاموش قید میں سانس لے رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس سب کا حل ممکن ہے؟
جی ہاں، بالکل ممکن ہے۔
لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل سے بھاگنے کے بجائے ان کا سامنا کریں۔
اگر آپ نے اپنے ذہن کو بے لگام چھوڑ دیا، تو یہی کمزور خیالات آپ کو برسوں اندھیروں میں قید رکھیں گے، اور آپ اپنی زندگی کا خوبصورت حصہ مایوسی، ڈپریشن اور ذہنی تھکن کے حوالے کر دیں گے۔
آج سے، ابھی سے—اپنے مسائل کی ایک فہرست بنائیں۔
ایمانداری سے دیکھیں کہ کون سا مسئلہ فوری حل ہو سکتا ہے، کون سا وقت مانگتا ہے، اور کس کے لیے صرف صبر درکار ہے۔
اپنی زندگی کو ترتیب دیں۔
اور سب سے بڑھ کر—روحانیت کا سہارا لیں۔
اس کے لیے کسی پیر، فقیر یا بزرگ کے دروازے پر جانے کی ضرورت نہیں۔
آپ کا سب سے بڑا روحانی رہنما آپ کے اپنے اندر موجود ہے—بس آپ نے اسے جگانا ہے۔
کوشش کریں ہر وقت باوضو رہیں۔
فجر اور عصر کی نماز سے ابتدا کریں، پھر آہستہ آہستہ پانچ نمازیں آپ کی عادت بن جائیں گی۔
دن میں صرف ایک صفحہ قرآنِ پاک پڑھیں—صرف دو منٹ کافی ہیں۔
روزانہ دس مرتبہ درودِ ابراہیمی پڑھیں،
اور ایک تسبیح “استغفراللہ” کو اپنا معمول بنائیں۔
یہ سب ملا کر آپ کے دن کے صرف دس منٹ لیتے ہیں،
مگر یہی دس منٹ آپ کی پوری زندگی بدل سکتے ہیں۔
پھر آپ خود دیکھیں گے کہ کیسے دل مضبوط ہوتا ہے، مایوسی کم ہوتی ہے، سکون واپس آتا ہے، اور زندگی میں بہار دوبارہ داخل ہوتی ہے۔
یاد رکھیں—
مسائل ختم نہیں ہوتے،
لیکن انسان مضبوط ہو جائے تو مسائل چھوٹے لگنے لگتے ہیں۔




