اکتوبر 29, 2026

بے قدری کے زخم اور دیر سے جاگی محبت

تحریر: محمد انور بھٹی

بندن میاں اُس شام محلے کی پرانی بیٹھک میں خاموش بیٹھے تھے۔ وہی بیٹھک جہاں کبھی قہقہوں کی آوازیں دیواروں سے ٹکرا کر لوٹتی تھیں جہاں چائے سےاُٹھتی ہوئی بھانپ میں دوستیوں کی خوشبو گھلا کرتی تھی جہاں لوگ ایک دوسرے کے دکھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا کرتے تھے۔ مگر آج وہاں عجیب سی ویرانی تھی۔ ٹوٹی ہوئی کرسی کے پاس رکھا مٹی کا چراغ مدھم روشنی دے رہا تھا اور چھت پر لٹکتا بوڑھا پنکھا ایسے گھوم رہا تھا جیسے وہ بھی برسوں کی تھکن اپنے وجود میں اٹھائے جی رہا ہو۔ باہر گلی میں ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور بارش کے قطروں کی آواز بندن میاں کے دل میں اترتی چلی جا رہی تھی۔ ان کی نظریں سامنے دیوار پر جمی ہوئی تھیں مگر حقیقت میں وہ دیوار کو نہیں اپنی زندگی کے اُن بے شمار زخموں کو دیکھ رہے تھے جو لوگوں نے محبت کے نام پر دیے تھے۔
بندن میاں اکثر کہا کرتے تھے کہ انسان کے جسم پر لگنے والے زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں مگر روح پر لگنے والے زخم کبھی مکمل مندمل نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ عجیب ہوتے ہیں۔ وہ پہلے انسان کو توڑتے ہیں ،اس کے اعتماد کو قتل کرتے ہیں، اس کی راتوں کی نیند چھین لیتے ہیں، اس کی آنکھوں سے خواب چرا لیتے ہیں اور پھر ایک دن محبت کا لبادہ اوڑھ کر واپس آ جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چند نرم لفظ، چند مصنوعی آنسو اور چند وقتی توجہ شاید اُن زخموں کو مٹا دے گی جو برسوں تک روح کو زخمی کرتے رہے۔ مگر بندن میاں جانتے تھے کہ دکھ صرف دل پر نہیں لگتےبلکہ وہ انسان کی شخصیت پر نقش ہو جاتے ہیں۔
اُس روز بندن میاں کے سامنے محلے کا ایک نوجوان بیٹھا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں عجیب سی اداسی تھی۔ وہ مسلسل اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ رہا تھا جیسے اپنی قسمت کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ بندن میاں نے دھیرے سے پوچھا،کیا ہوا بیٹا؟ آج چہرے پر یہ خزاں کیوں اتری ہوئی ہے؟
نوجوان نے ایک لمبی سانس لی اور کہا،بندن میاں یہ لوگ یہ رشتے ،آخر ایسے کیوں ہوتے ہیں؟ جب انسان ان سے محبت ،خلوص اور اپنائیت کا خواہش مند ہوتا ہے تو اُسے نظرانداز کرتے ہیں جب وہ خاموش ہو جائے تو پھر اُسے اہمیت دینے آ جاتے ہیں۔ جب انسان زندہ دل ہوتا ہے تو اُس کی قدر نہیں کرتے اور جب وہ اندر سے مرنے لگتا ہے تو پھر محبت جتاتے ہیں۔ آخر کیوں؟
بندن میاں مسکرائے مگر وہ مسکراہٹ بھی دکھ میں بھیگی ہوئی تھی۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں بارش کے بادل آہستہ آہستہ سرک رہے تھے۔ پھر وہ بولے۔۔بیٹا۔۔دنیا میں سب سے سستا لفظ محبت ہے اور سب سے مہنگی چیز احساس۔ لوگ محبت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر احساس دینے سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ احساس دینا قربانی مانگتا ہے، اخلاص مانگتا ہے، وقت مانگتا ہےاور آج کا انسان سب کچھ دینا چاہتا ہے سوائے اپنے وقت اور خلوص کے۔بندن میاں نے اپنی لاٹھی ایک طرف رکھی اور کرسی سے ٹیک لگا لی۔ اُن کی آواز میں عجیب سی تھکن تھی۔میں نے اپنی زندگی میں ایسے بے شمار لوگ دیکھے ہیں جو دوسروں کے دلوں کو کھلونا سمجھتے رہے۔ جب دل چاہا محبت دی، جب دل چاہا بے وفائی کر دی، جب چاہا قریب آ گئے، جب چاہا اجنبی بن گئے اور پھر وہ حیران ہوتے ہیں کہ آخر لوگ بدل کیوں جاتے ہیں۔ ارے بھئی، انسان پتھر تو نہیں ہوتا۔ جب مسلسل بے قدری ملے، جب ہر بار نظرانداز کیا جائے، جب ہر احساس کا مذاق بنایا جائے تو ایک وقت آتا ہے جب دل خاموش ہو جاتا ہے۔بارش تیز ہو چکی تھی۔ گلی میں پانی بہنے لگا تھا۔ بندن میاں کی نظریں اُس بہتے پانی پر جم گئیں۔۔بیٹا۔۔انسان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اُسے محبت نہ ملے۔ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اُسے جھوٹی محبت ملے۔ وہ محبت جو صرف ضرورت کے وقت جاگتی ہو وہ اہمیت جو صرف تنہائی کے خوف سے دی جاتی ہو وہ اپنائیت جو صرف مطلب پورا ہونے تک قائم رہے۔ ایسی محبت انسان کو زندہ نہیں رکھتی آہستہ آہستہ اندر سے مار دیتی ہے۔نوجوان خاموشی سے سن رہا تھا۔ بندن میاں کی آواز اب بھاری ہو چکی تھی۔کچھ لوگ انسان کو اتنا نظرانداز کرتے ہیں کہ وہ خود کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے شاید اُس میں ہی کوئی کمی ہے شاید وہ محبت کے قابل ہی نہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ کمی اُس انسان میں نہیں ہوتی جو محبت ،خلوص اور بہتر سلوک مانگ رہا ہوتا ہے کمی اُس شخص میں ہوتی ہے جو محبت اور خلوص دے نہیں سکتا۔
بندن میاں نے آہستگی سے اپنی بوسیدہ جیب میں ہاتھ ڈالاپرانا سا رومال نکالا اور خاموشی کے ساتھ اپنی بھیگی ہوئی آنکھیں پونچھنے لگے۔ کسی نے سمجھا شاید یہ بارش کے چند آوارہ قطرے تھے جو پلکوں تک آ پہنچے تھےمگر جو لوگ درد کی زبان سمجھتے ہیں وہ جانتے تھے کہ بعض نمی بارش کی نہیں برسوں کے دبی ہوئی احساسات کی ہوتی ہے۔ اُس لمحے بندن میاں کی نگاہیں کہیں بہت دور کھو گئی تھیں جیسے یادوں کے کسی سنسان قبرستان میں بھٹک رہی ہوں جہاں ہر قبر پر ایک ادھوری محبت دفن ہو۔پھر وہ دھیرے سے بولےمیں نے ایک ماں کو دیکھا تھا ایسی ماں جس نے اپنی پوری جوانی اولاد کے نام وقف کر دی تھی۔ وہ راتوں کو جاگ جاگ کر بچوں کے بخار تولتی رہی اپنے حصے کی روٹی اُن کے منہ میں ڈالتی رہی اپنے بدن پر پرانے کپڑے پہنتی رہی مگر بچوں کے لیے عید کے نئے جوڑے ضرور لاتی رہی۔ اُس نے اپنی خواہشوں کو اس طرح دفن کیا جیسے کوئی خاموشی سے اپنے خوابوں کی میت دفن کرتا ہے۔ کبھی اپنے زیور بیچ دیے، کبھی اپنی دوائیں چھوڑ دیں، کبھی اپنے دکھ چھپا لیےصرف اس لیے کہ اُس کے بچوں کی زندگی میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
بندن میاں کی آواز یہاں آ کر بھرا گئی۔ چند لمحے خاموش رہے، پھر ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولےمگر وقت بڑا سنگ دل ہوتا ہے۔ جن ہاتھوں کو پکڑ کر بچے چلنا سیکھتے ہیں اکثر وہی ہاتھ بڑھاپے میں تنہا رہ جاتے ہیں۔ وہ ماں بھی آخرکار ایک چھوٹے سے کمرے تک محدود کر دی گئی۔ ایک ایسا کمرہ جہاں دیواریں تو تھیں مگر اپنائیت نہیں تھی، کھڑکیاں تو تھیں مگر اُن میں انتظار کے سوا کچھ نہیں تھا۔ مہینوں کوئی اُس کے پاس بیٹھ کر دو لفظ محبت کے نہ بولتا۔ اُس کی آنکھیں ہر شام دروازے کی طرف اٹھتیں جیسے کوئی مسافر آخری ٹرین کا انتظار کرتا ہے۔ ہر آہٹ پر وہ چونک جاتی کہ شاید بیٹا آیا ہو شاید آج کوئی اُس کے پاس بیٹھے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرےاُس سے پوچھے کہ اماں تم کیسی ہو؟ مگر دروازے اکثر خاموش رہتےاور ماں کی آنکھوں میں امید کا چراغ ذرا ذرا بجھتا رہتا۔ہوا میں عجیب اداسی گھل گئی تھی۔ بندن میاں نے لرزتی سانس لی اور بولےپھر ایک دن وہی ماں بسترِ مرگ پر پہنچ گئی۔ اچانک گھر بھر میں شور مچ گیا۔ سب اُس کے اردگرد جمع ہو گئے۔ کوئی اُس کے ہاتھ چوم رہا تھا، کوئی آنسو بہا رہا تھااورکوئی اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا۔ وہی لوگ جو زندگی بھر اُس کے پاس بیٹھنے کے لیے وقت نہ نکال سکے تھے آج اُس کے آخری لمحوں میں خود کو سب سے بڑا وفادار ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر میں سوچتا ہوں مرنے سے چند لمحے پہلے دی گئی محبت آخر کس زخم کا مداوا کرتی ہے؟ جب ایک انسان پوری زندگی محبت کو ترستا رہا ہو تو آخری سانسوں میں بہائے گئے آنسو اُسے کیا سکون دے سکتے ہیں؟
بندن میاں نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں بادل خاموشی سے تیر رہے تھے۔ اُن کی آواز اب اور بھی دھیمی ہو چکی تھی ماں صرف ایک رشتہ نہیں ہوتی وہ انسان کی پوری کائنات ہوتی ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر اُس وقت محبت جتاتے ہیں جب وقت ہمارے ہاتھوں سے پھسل چکا ہوتا ہے۔ زندہ ماں کے قدموں میں بیٹھنے کے بجائے ہم اُس کی قبر پر پھول رکھنے کو وفاداری سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ ماں کو پھول نہیں وقت چاہیے ہوتا ہےعزت چاہیے ہوتی ہے چند لمحے اپنائیت کے چاہیے ہوتے ہیں۔یہ کہتے ہوئے بندن میاں خاموش ہو گئے۔ صرف بارش کی ہلکی ہلکی آواز باقی رہ گئی تھی اور اُس خاموشی میں جیسے ہزاروں ماؤں کی دبی ہوئی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔
بیٹھک میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ صرف بارش کی آواز باقی تھی۔پھر بندن میاں بولتے گئے اور اُن کے لفظ دل کے اندر اترتے چلے گئے۔یہ دنیا عجیب بازار ہے بیٹا۔ یہاں لوگ زندہ انسانوں کی قدر نہیں کرتےمگر دفنانے کے بعد قبروں پر پھول بہت رکھتے ہیں۔ یہاں انسان کے جیتے جی اُس کے احساسات کا مذاق اڑایا جاتا ہےمگر مرنے کے بعد اُس کی اچھائیاں بیان کی جاتی ہیں۔ یہاں باپ کی خاموش محبت کو اُس کی سختی سمجھ لیا جاتا ہے ماں کی فکر کو اُس کی مداخلت کہہ دیا جاتا ہے مخلص دوست کی نصیحت کو اُس کی دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ پھر ایک دن جب وہ سب ہاتھ سے نکل جاتے ہیں تو انسان پچھتاووں کے اندھیرے میں بیٹھ کر روتا رہ جاتا ہے۔
بندن میاں کی آواز اب لرزنے لگی تھی۔انسان کو سب سے زیادہ توڑنے والی چیز دھوکہ نہیں ہوتی بے قدری ہوتی ہے۔ کیونکہ دھوکہ تو دشمن بھی دے سکتا ہے مگر بے قدری اکثر اپنے کرتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے لیے انسان اپنی دنیا قربان کر دیتا ہے وہی ایک دن اُسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ اُس کی کوئی اہمیت نہیں۔
نوجوان نے دھیرے سے پوچھا،پھر انسان کیا کرے بندن میاں؟
بندن میاں نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔انسان کو اپنے دل کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ہر شخص کو اتنا حق نہیں دینا چاہیے کہ وہ ہماری روح کو زخمی کر دے۔ محبت ضرور کرو مگر اپنی عزتِ نفس کو قربان کر کے نہیں۔ رشتے نبھاؤ مگر اپنی ذات کو مٹا کر نہیں۔ کیونکہ جو لوگ آپ کی خاموش تکلیف نہیں سمجھ سکتے وہ آپ کے آنسوؤں کی قیمت بھی کبھی نہیں جان سکتے۔باہر بارش رک چکی تھی۔ ہوا میں مٹی کی خوشبو پھیل گئی تھی۔ بندن میاں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا۔۔بیٹا۔۔یاد رکھنامحبت وہ نہیں جو تکلیف دینے کے بعد جتائی جائے۔ محبت وہ ہے جو تکلیف آنے سے پہلے ڈھال بن جائے۔ اہمیت وہ نہیں جو نظرانداز کرنے کے بعد دی جائے۔ اہمیت وہ ہے جو خاموشی کو بھی پڑھ لے۔
پھر بندن میاں چند لمحے خاموش رہے۔ جیسے وہ اپنی زندگی کے اوراق پلٹ رہے ہوں۔میں نے اپنی عمر کے اس آخری حصے میں ایک بات سیکھی ہے۔ انسان کو ہمیشہ اُن لوگوں کی قدر کرنی چاہیے جو اُس کے خراب وقت میں اُس کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ کیونکہ خوشیوں کے ساتھی تو بازاروں میں بھی مل جاتے ہیں مگر دکھوں کے ساتھی قسمت والوں کو ملتے ہیں۔نوجوان کی آنکھوں میں آنسو آ چکے تھے۔ بندن میاں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔کبھی کسی کو اتنا مت رلاؤ کہ اُس کی خاموشی بددعا بن جائے۔ کبھی کسی کو اتنا نظرانداز مت کرو کہ وہ تمہارے بغیر جینا سیکھ لے۔ اور کبھی محبت کو اتنا دیر سے مت جتاؤ کہ سامنے والے کے دل میں احساس ہی مر جائے۔
پھر بندن میاں اٹھے اپنی لاٹھی سنبھالی اور آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔ مگر جاتے جاتے رکے اور پلٹ کر بولےیاد رکھناانسان کی اصل خوبصورتی اُس کے چہرے میں نہیں اُس کے رویّے میں ہوتی ہے۔ دنیا میں سب سے بڑا صدقہ کسی ٹوٹے ہوئے دل کو وقت پر محبت دینا ہے۔ اور سب سے بڑا گناہ کسی مخلص انسان کو اپنی بے اعتنائی سے اندر ہی اندر مار دینا ہے۔ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے رشتے زندہ رہیں تو لوگوں کو وقت دو، احساس دو، عزت دوکیونکہ مرنے کے بعد دی گئی محبت صرف قبر پر رکھے پھولوں کی طرح ہوتی ہےجوخوبصورت تو ضرورہوتی ہوگی مگر بے معنی۔