تحریر : محمد مظہررشید چودھری
اوکاڑہ نے 3 مئی کو ایک بار پھر صحافتی شعور، جرات اور یکجہتی کی ایک خوبصورت مثال پیش کی۔ عالمی یومِ صحافت کے موقع پر ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان کے زیرِ اہتمام ’آزادی اظہارِ رائے کے لیے علاقائی صحافیوں کا کردار‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار نے اس حقیقت کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ اسے عملی شکل میں بھی پیش کیا۔ یہ محض ایک رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ ایک ایسے عزم کا اظہار تھا جس میں سچ، ذمہ داری اور عوامی مسائل کی حقیقی ترجمانی کا جذبہ نمایاں تھا۔میں جب اپنی چھوٹی بہن سیاسی وسماجی شخصیت مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ کے ہمراہ مقررہ وقت پر ہال میں پہنچا تو وہاں موجود ماحول ایک غیر معمولی صحافتی یکجہتی کی عکاسی کر رہا تھا۔ ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان کے سیکرٹری جنرل عابد حسین مغل اور سٹی پریس کلب اوکاڑہ کے عہدیداران نے جس گرمجوشی سے استقبال کیا، اس سے واضح ہو گیا کہ یہ اجتماع کسی رسمی کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ مقصد کے تحت منعقد کیا گیا ہے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس کی سعادت مجھے حاصل ہوئی، جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سابق صدر سٹی پریس کلب اوکاڑہ اور معروف شاعر احتشام جمیل شامی نے نہایت خوبصورتی سے انجام دیے۔تقریب میں ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان کے مرکزی سینئر نائب صدر سید طاہر احمد شاہ، مرکزی نائب صدر ڈاکٹر محمد ذکریا، مرکزی سیکرٹری جنرل عابد حسین مغل، مرکزی سیکرٹری خواتین ونگ عائشہ امجد، ممبر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی محمد اشفاق چودھری، جنرل سیکرٹری ویسٹ پنجاب مرزا اویس بیگ، صوبائی نائب صدر ویسٹ پنجاب عرفان نوید غوری، ڈویژنل صدر ساہیوال میاں عارف ممتاز بودلہ، ممبر پنجاب بار کونسل چودھری امجد پرویز، ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) خواتین ونگ مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ، ضلعی صدر آر یو جے اوکاڑہ ظفر اقبال چودھری، چیئرمین راؤ عتیق گوہر، صدر ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹس اوکاڑہ ڈاکٹر اعجاز انجم کھوکھر، صدر سٹی پریس کلب اوکاڑہ عباس علی جٹ ،چیئرمین حاجی عمر فاروق ،جنرل سیکرٹری محسن محمود چودھری سمیت ضلع بھر کے پریس کلبوں کے عہدیداران اور سینکڑوں صحافیوں کی شرکت نے اس بات کو ثابت کیا کہ علاقائی صحافت آج بھی ایک مضبوط اور متحرک قوت ہے۔

سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں سابق صدر سٹی پریس کلب محمد مظہر رشید چودھری، احتشام جمیل شامی، رائے امدادعلی، اعجاز حسین بھٹی، تنویر اعجاز گیلانی، صابر مغل، عمران زاہد کھوکھر، حافظ جمشید اشرف، چودھری شہزاد انجم کمبوہ، رانا ظفر اقبال، سینئر صحافی محمد اسلم پراچہ، رائے علی اکبر، حافظ حسنین رضا، تسکین کمبوہ اور دیگر شامل تھے۔ مقررین نے اپنے خطابات میں اس امر پر زور دیا کہ آزادی اظہارِ رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں بالخصوص علاقائی سطح پر صحافیوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ علاقائی صحافی وہ کردار ادا کر رہا ہے جو اکثر بڑے میڈیا ہاؤسز نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ دور دراز علاقوں میں جا کر عوامی مسائل کو اجاگر کرتا ہے، جہاں نہ صرف بنیادی سہولیات کی کمی ہوتی ہے بلکہ مقامی سطح پر ناانصافیاں بھی عام ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود علاقائی صحافی محدود وسائل، دباؤ اور خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے، جو کہ اس کے عزم اور پیشہ ورانہ دیانت کا واضح ثبوت ہے۔سیمینار کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آزادی صحافت پر عائد غیر ضروری پابندیوں کو ختم کیا جائے اور پیکا ایکٹ میں ایسی ترامیم کی جائیں جو صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی صحافیوں کے پیش کردہ 10 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز کی منظوری کا مطالبہ بھی کیا گیا، جس میں تحفظ، روزگار اور پیشہ ورانہ سہولیات سے متعلق اہم نکات شامل ہیں۔تقریب میں شہید صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جنہوں نے سچ کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ لمحہ اس بات کی یاد دہانی تھا کہ صحافت کا پیشہ صرف معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری ہے، جس کے لیے قربانیاں بھی دینا پڑتی ہیں۔یہ سیمینار اس حقیقت کا واضح اظہار تھا کہ اگر علاقائی صحافت مضبوط ہوگی تو ملک کی مجموعی صحافت بھی مضبوط ہوگی، کیونکہ جمہوریت کی جڑیں ہمیشہ نچلی سطح پر ہی مضبوط ہوتی ہیں۔ جب گاؤں اور قصبوں کی آواز سنی جائے گی، تب ہی ایک مضبوط اور متوازن معاشرہ تشکیل پا سکے گا۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یومِ صحافت کا یہ اجتماع محض ایک دن کی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔ علاقائی صحافی آج بھی سچ، دیانت اور جرات کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی آواز کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ آزادی اظہار حقیقی معنوں میں ایک زندہ حقیقت بن سکے۔





