اکتوبر 28, 2026

ضلع کھاریاں بناؤ۔

پروفیسر راجہ شہزاد احمد (کھاریاں )

حق دو کھاریاں کو ، اس لیے کہ
پنجاب کے گیارہ اضلاع کی آبادی ،مجوزہ ضلع کھاریاں (تحصیل سرائے عالمگیر+تحصیل کھاریاں+تحصیل ڈنگہ ) سے کم ہے

ضلع کھاریاں کیوں ضروری ہے ؟
آئیے ابادی کے لحاظ سے جائزہ لیتے ہیں

تحصیل کھاریاں+تحصیل سرائے عالمگیر کی مشترک آ بادی قریب ترین انسان شماری کے مطابق 12,58,245یعنی ساڑھے بارہ لاکھ سے زائد ہے جبکہ
انتہائ دلچسپ اور حیرت ناک بات یہ کہ پنجاب کے مندرجہ زیل اضلاع کی کل آبادی مجوزہ ضلع کھاریاں (تحصیل کھاریاں، مجوزہ تحصیل ڈنگہ اور تحصیل سرائے عالمگیر) سے کم ہے
ضلع لیہ (تین تحصیلیں ) گیارہ لاکھ اکیس ہزار نو سو اکاون
ضلع بھکر (چار تحصیلیں ) دس لاکھ اکاون ہزار چار سو چھپن
ضلع حافظ آباد (دوتحصیلیں ) آٹھ لاکھ انتیس ہزار نو سو اسی
ضلع راجن پور (تین تحصیلیں ) گیارہ لاکھ تین ہزار چھ سو اٹھارہ
ضلع لودھراں (تین تحصیلات ) گیارہ لاکھ اکہتر ہزار آٹھ سو

ضلع چنیوٹ (تین تحصیلات ) نو لاکھ اکاون ہزار ایک سو چوبیس
ضلع وہاڑی (تین تحصیلات ) چھ لاکھ چون ہزار نو سو پچپن

یعنی مجوزہ ضلع کھاریاں سے تقریبا” آدھی

ضلع نارووال (دو تحصیلات ) بارہ لاکھ پینسٹھ ہزار ستانوے (تقریبا ” برابر )
ضلع میانوالی (تین تحصیلات ) دس لاکھ چھپن ہزار چھ سو بیس

جبکہ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع کی ابادی ضلع کھاریاں سے کم ہے آزاد کشمیر کا سب سے بڑا ضلع کوٹلی ہے جس کی پانچ تحصیلوں کی کل آبادی چھ لاکھ چالیس ہزار سے کچھ اوپر ہے یعنی مجوزہ ضلع کھاریاں سے نصف

اب زرا حوصلہ کر کے پڑوسی اضلاع کی ابادی کے بارے میں پڑھیے

ضلع جہلم (چار تحصیلات ) نو لاکھ انہتر ہزار نو سو ستاون
ضلع منڈی بہاؤ الدین (تین تحصیلیں ) گیارہ لاکھ ساٹھ ہزار پانچ سو باون

یعنی پنجاب کے گیارہ اضلاع ایسے ہیں جن کی ابادی تحصیل کھاریاں و تحصیل سرائے عالمگیر کی مجموعی ابادی سے کم ہے اسی لیے اہل شعور کا مطالبہ ہے کہ تحصیل کھاریاں اور تحصیل سرائے عالمگیر پر مشتمل نیا ضلع کھاریاں تشکیل دیا جائے جس میں ڈنگہ کو تحصیل کا درجہ حاصل ہو تحصیل ڈنگہ کی حدود اتو والی نہر سے پار سارے علاقہ کے علاؤہ کوٹلہ قاسم علی خان تک ہو اس طرح تحصیل کھاریاں و تحصیل ڈنگہ و تحصیل سرائے عالمگیر کے عوام کو دور دراز کا سفر۔ طے کر کے گجرات ضلعی دفاتر میں نہ جانا پڑے
اتنے بڑے علاقے سے حاصل کردہ ٹیکسز اسی علاقے کے عوام کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی پر خرچ ہوں فی الحال تو کھاریاں میونسپل کمیٹی کا عملہ صفائی بھی اکثر اوقات گجرات شہر کی صفائ کے لیے بلا لیا جاتا ہے جبکہ مقامی طور پر بھی صفائ کی اشد ضرورت ہوتی ہے اب تنخواہیں تو میونسپل کمیٹی کھاریاں ادا کرے لیکن کام گجرات میں ہو ؟ کیا یہ نا انصافی نہیں ہے ؟
اگر خیبر پختونخوا کا طائرانہ جائزہ لیں تو مندرجہ ذیل اضلاع کی ابادی مجوزہ ضلع کھاریاں سے کم ہے

چترال ، دیر ، کوہستان ، سوات ، صوابی ، اور پانچوں ایجنسیاں جن کو اضلاع کا درجہ دے کر صوبہ کے پی کے میں ضم کیا گیا ہے ،
بلوجستان میں کویٹہ ,قلات کو چھوڑ کر تمام اضلاع کی ابادی ضلع کھاریاں سے کم ہے
صوبہ سندھ میں ضلع مٹھی ، ضلع تھر پارکر کی ابادی ضلع کھاریاں سے کم ہے
گلگت بلتستان میں گلگت کو چھوڑ کر تمام اضلاع (سکردو ، گانچھے ، وادی یاسین ، طورغر ، ہنزہ وغیرہ ) سب ابادی کے لحاظ سے ضلع کھاریاں سے چھوٹے ہیں

اگر وہ کم ابادی والے علاقے اضلاع بن سکتے ہیں تو (تحصیل کھاریاں ،تحصیل سرائے عالمگیر ، تحصیل ڈنگہ ) کے عوام کا کیا جرم ہے کہ ان کو ضلع کا سٹیٹس حاصل نہیں ؟

یہ مسلمہ اصول ہے کہ ابادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ نئے اضلاع ، نئ تحصیلیں ، نئے ڈویژن اور نئے صوبے بنائے جاتے ہیں تا کہ عوام کی رسائی قریب ترین دفاتر تک ہو اور مقامی وسائل کو۔ اسی جگہ خرچ کیا جائے جہاں سے وہ جنریٹ کیے گئے
یہ فطری مطالبہ اور وقت کی ضرورت ہے مجھے جس فورم پر بلایا گیا میں اعدادوشمار سمیت حاضر ہو کر اپنی بات ثابت کروں گا ان شاء اللہ