اپریل 26, 2026

"ہمارے پاس تمام کارڈز ہیں”؛ صدر ٹرمپ نے کشنر اور وٹکوف کا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا، ایران کو براہِ راست رابطے کا مشورہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی نمائندوں، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ پاکستان اچانک منسوخ کرنے کا اعلان کر کے سفارتی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا جب یہ دو رکنی اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد روانگی کے لیے تیار تھا۔ امریکی میڈیا سے گفتگو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ 18 گھنٹے کی طویل پرواز کر کے پاکستان جانا اور وہاں "بے مقصد باتوں” کے لیے بیٹھنا وقت کا ضائع کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ "اس وقت تمام کارڈز امریکہ کے پاس ہیں، ان (ایران) کے پاس کچھ نہیں”۔ انہوں نے ایرانی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں اندرونی سطح پر شدید الجھن اور جھگڑے جاری ہیں اور کسی کو معلوم نہیں کہ قیادت کون کر رہا ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ جب تمام اختیارات ہمارے پاس ہیں تو ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اتنا لمبا سفر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایرانی قیادت واقعی بات چیت کرنا چاہتی ہے تو انہیں صرف ایک فون کال کرنے کی ضرورت ہے، امریکہ ان کے پیچھے نہیں جائے گا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ دورے کی منسوخی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جنگ دوبارہ شروع ہو رہی ہے، بلکہ یہ صرف وقت کی بچت اور کام کی زیادتی کی وجہ سے کیا گیا فیصلہ ہے۔ دوسری جانب، یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے طویل ملاقاتیں کیں اور اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچانے کی کوشش کی۔ ایرانی وفد کے مسقط اور ماسکو روانہ ہونے کے فوراً بعد امریکہ کی جانب سے اس دورے کی منسوخی نے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو ایک نئے موڑ پر کھڑا کر دیا ہے۔