اپریل 19, 2026

آبنائے ہرمز میں بھارتی جہازوں پر فائرنگ، بھارت نے ایرانی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا

آبنائے ہرمز میں بھارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کے سنگین واقعے کے بعد بھارت اور ایران کے درمیان سفارتی تناؤ میں شدید اضافہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں بھارتی وزارتِ خارجہ نے دہلی میں تعینات ایرانی سفیر محمد فتح علی کو طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا ہے، ترجمان بھارتی وزارتِ خارجہ رندھیر جیسوال کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے ایرانی سفیر سے ملاقات کے دوران بھارتی تیل بردار اور تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور انہیں احتجاجی نوٹ بھی تھمایا، قبل ازیں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بھارت کے دو بڑے تیل بردار بحری جہازوں کو روک لیا تھا اور عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس دوران ان پر فائرنگ بھی کی گئی، ان جہازوں میں ایک "وی ایل سی سی” سپر ٹینکر بھی شامل ہے جس پر 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا ہے، دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عمان کے شمال مشرق میں پاسدارانِ انقلاب کی گن بوٹس نے ٹینکر کی جانب آ کر فائرنگ کی تاہم خوش قسمتی سے ٹینکر اور عملہ محفوظ رہے، شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران کم از کم دو مزید تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے لیکن فوری طور پر نقصان کی حتمی نوعیت واضح نہیں ہو سکی ہے، اس واقعے نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔