اکتوبر 28, 2026

پاکستانی سفارت کاری نے جنگ کے دہانے پر کھڑی دنیا کو مکالمے کی میز تک لا بٹھایا

تحریر: محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

اسلام آباد نے ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر اپنے وجود کی معنویت ثابت کی ہے۔ یہ شہر، جو بظاہر ایک پرسکون دارالحکومت دکھائی دیتا ہے، گزشتہ چند روز میں عالمی سیاست کے ایسے منظرنامے کا مرکز بن گیا جہاں نصف صدی سے ایک دوسرے کے مدِ مقابل کھڑی دو طاقتیں، امریکہ اور ایران، ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھیں۔ سنتالیس برس بعد ہونے والے یہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے، مگر ان کا انعقاد بذاتِ خود ایک ایسی سفارتی پیش رفت ہے جس نے پاکستان کو عالمی منظرنامے میں ایک بار پھر مرکزی مقام عطا کر دیا ہے۔یہ امر معمولی نہیں کہ دنیا کی دو متحارب قوتیں، جن کے درمیان بداعتمادی کی دیواریں کئی دہائیوں سے قائم ہیں، اپنے اختلافات کے حل کے لیے اسلام آباد کو منتخب کریں۔ اس انتخاب میں پاکستان کی سفارتی ساکھ، سیاسی توازن، اور علاقائی اعتماد کی وہ قوت شامل ہے جو برسوں کی آزمائش کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جس تدبر، سنجیدگی اور خاموش اعتماد کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کیا، وہ پاکستان کی ریاستی پختگی کا اظہار ہے۔اسلام آباد میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، جن کے ساتھ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ دوسری طرف ایرانی وفد محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں پہنچا، جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سینئر سفارتی شخصیت مجید تخت روانچی شامل تھے۔ ان ناموں کی موجودگی اس امر کی دلیل تھی کہ یہ کوئی رسمی سفارتی نشست نہیں، بلکہ ایسے مذاکرات تھے جن کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر مرتب ہو سکتے تھے۔مذاکرات سے پہلے دونوں وفود کا استقبال بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل تھا۔ نور خان ایئربیس پر جب ایرانی وفد اترا تو پاکستانی قیادت نے جس وقار کے ساتھ ان کا خیر مقدم کیا، اس میں ریاستی اعتماد نمایاں تھا۔ بعدازاں امریکی نائب صدر کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کی حفاظتی حصار بندی کے ساتھ اسلام آباد لایا گیا، جو اس دورے کی حساسیت اور اہمیت کا واضح اظہار تھا۔ یہ محض پروٹوکول نہیں تھا، بلکہ ایک پیغام تھا کہ پاکستان ان مذاکرات کو اپنی قومی ترجیحات میں شامل سمجھتا ہے۔اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوئے، مگر سفارت کاری میں ہر ملاقات کا مقصد فوری نتیجہ حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ بعض نشستیں صرف جمود توڑنے کے لیے ہوتی ہیں، بعض صرف دروازے کھولتی ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے ایک ایسا راستہ کھولا ہے جہاں دہائیوں کی خاموشی کے بعد بات چیت کی نئی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے، بلکہ انہوں نے مستقبل کے امکانات کو جنم دیا ہے۔اس تمام عمل کے دوران پاکستان نے جس متوازن سفارتی کردار کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ایک طرف امریکہ جیسی عالمی طاقت، دوسری طرف ایران جیسی علاقائی قوت، اور ان دونوں کے درمیان پاکستان نے نہ صرف اعتماد برقرار رکھا بلکہ ایک غیر جانب دار ثالث کے طور پر اپنی حیثیت بھی منوائی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستیں محض جغرافیہ نہیں رہتیں بلکہ عالمی ضمیر کا حصہ بن جاتی ہیں۔ادھر خطے کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ اسرائیل کے لبنان پر حالیہ حملوں میں سینکڑوں افراد کی شہادت نے مشرقِ وسطیٰ کو مزید بے چین کر دیا ہے۔ ان حملوں کے بعد ایران اور پاکستان نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، اور اب یورپی ممالک اور ترکیہ بھی خاموشی توڑتے ہوئے اسی موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں اب جنگ کے تسلسل کے خطرات کو محسوس کرنے لگی ہیں۔ لبنان کی تباہ حال گلیاں، ملبے تلے دبی زندگیاں، اور انسانی المیہ اس امر کا تقاضا کر رہا ہے کہ سفارت کاری کو محض بیانات تک محدود نہ رکھا جائے۔پاکستان کے لیے اس سارے عمل کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ دنیا نے اسے ایک بار پھر سنجیدہ، ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں اکثر ممالک جنگی صف بندیوں کا حصہ بن جاتے ہیں، پاکستان نے مفاہمت، ثالثی اور توازن کی راہ اختیار کی۔ یہی وہ راستہ ہے جو اقوام کو عالمی احترام دلاتا ہے۔اسلام آباد کے یہ مذاکرات شاید فوری طور پر کسی تاریخی معاہدے کا سبب نہ بن سکے ہوں، مگر انہوں نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو نئی توانائی ضرور بخشی ہے۔ عالمی سیاست میں اصل کامیابی ہمیشہ معاہدوں سے نہیں ناپی جاتی، بعض اوقات اصل کامیابی یہ ہوتی ہے کہ متحارب قوتیں آپ کے دروازے پر آئیں، آپ کی میز پر بیٹھیں، اور آپ کے کردار پر اعتماد کریں۔پاکستان نے اس امتحان میں خود کو ثابت کیا ہے۔ آج اسلام آباد صرف ایک دارالحکومت نہیں، بلکہ عالمی سفارت کاری کے نقشے پر ایک معتبر نام بن کر ابھرا ہے۔ تاریخ ایسے ہی لمحوں سے بنتی ہے، اور یہ لمحہ پاکستان کے لیے ایک روشن سفارتی باب کی حیثیت رکھتا ہے٭