ڈنگہ (سٹی رپورٹر) گیپکو نے ڈنگہ میں 5 ماہ کی مسلسل طویل بندش سے ایم این اے چوہدری نصیر احمد عباس سدھو کے ڈیڑھ سال میں اربوں روپے کی لاگت سے بجلی اپ گریڈیشن پروگرام کو عوام کے دلوں سے نکال دیا۔ لوگ اب ایم این اے کے اس پروگرام کو بھول کر سوشل میڈیا پر منفی کمنٹس کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چوہدری نصیر احمد عباس سدھو نے حلف لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ حلقہ این اے 65 سمیت ڈنگہ میں لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی پرانی تاروں‘ ٹرانسفارمرز کی شدید کمی‘ گلیوں میں تاروں کے جال اور نواحی آبادیوں میں بجلی کی عدم فراہمی ہے۔ انہوں نے ڈیڑھ سال سے اربوں روپے کی لاگت سے ڈنگہ کے تمام اندرونی محلوں میں فور کور کیبلز‘ نئی ایچ ٹی تاروں اور ٹرانسفارمرز کی فراہمی کے علاوہ نواحی محلوں میں بجلی کے پول‘ ایچ ٹی تاروں اور ٹرانسفارمرز کی فراہمی کے ذریعے وہاں بجلی پہنچانے کا کام شروع کیا۔ اربوں روپے کی لاگت اور ان کی بجلی اپ گریڈیشن ٹیم کی دن رات محنت سے آخر کار عوام کا مسئلہ حل ہو گیا۔ بار بار ٹرپنگ‘ ٹرانسفارمر کے جلنے‘ گلی محلوں میں تاروں کے جال وغیرہ سب ختم ہو گئے اور مخالفین نے بھی ان کے بجلی اپ گریڈیشن پروگرام کی تعریف شروع کر دی۔ تا ہم محکمہ گیپکو نے ان کی اس مقبولیت کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یکم نومبر 2025ء سے ہر ہفتے میں 2 بار درختوں کی کٹائی اور جمپر کی سیٹنگ کے نام پر بجلی صبح 8 سے 12 بجے تک بند کرنا شروع کر دی۔ یہ سلسلہ باقاعدگی سے 31 دسمبر 2025ء تک جاری رہا۔ لوگوں کے کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔ دو عیدوں پر درزی کپڑے بروقت تیار نہ کر سکے۔ آٹا چکیاں‘ فوٹو سٹیٹ والے دکاندار بری طرح متاثر ہو گئے اوپر سے تھانہ روڈ‘ کمپلیکس روڈ پر نئی سڑکوں کی تعمیر کے باعث ہر ہفتے ایک بار تاروں کے کنارے کرنے کی مہم بھی تواتر سے صبح 8 سے دن 3 بجے تک جاری رہی۔ یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ تمام سابق حکومتیں ماہ رمضان المبارک میں لوڈ شیڈنگ بھی ختم کر دیتی تھیں۔ بجلی کی شدید کمی کے باعث رمضان المبارک میں بجلی اور سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی جاتی تھی۔ تا ہم اس ماہ رمضان میں گیپکو نے رمضان المبارک کے آغاز اور گرمی کے شروع ہوتے ہی روزہ داروں کا امتحان لینے میں اضافہ کر دیا۔ اب بجلی درختوں کی کٹائی کے لئے ہفتہ میں 3 بار جبکہ تاروں کی شفٹنگ کے نام پر ایک ماہ میں 5 بار بند کر دی جاتی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ گزشتہ روز واپڈا نے صبح 8 سے 2 بجے کا شیڈول شہریوں کو دیا مگر اصل میں انہوں نے صبح 8 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک بجلی بند رکھی۔ لوگوں کو نماز کے لئے وضو کا پانی تک نہ مل سکا۔ 8 گھنٹے کی بندش کے باعث سر پر آئی عید کے لئے ٹیلرز کپڑے بروقت دینے سے لاچار ہیں۔ اعتکاف میں بیٹھے لوگ شدید گرمی میں تڑپتے رہے۔ یوں لگتا ہے کہ گیپکو نے ایم این اے چوہدری نصیر احمد عباس سدھو کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ نہ درختوں کی کٹائی ختم ہوتی ہے اور نہ 5 ماہ سے جمپر سیٹنگ ہو سکی۔





