اکتوبر 28, 2026

باشعور عورت، مضبوط معاشرہ

تحریر : محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

دنیا بھر میں ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف تقریبات منعقد کرنا یا رسمی پیغامات دینا نہیں بلکہ اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ عورت معاشرے کی بنیاد اور ترقی کا اہم ستون ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ خواتین نے ہمیشہ اپنی صلاحیتوں، محنت اور عزم کے ذریعے معاشروں کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کے حقوق، تعلیم اور سماجی مقام کے حوالے سے دنیا بھر میں مسلسل مکالمہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر کے زیرِ اہتمام انٹرنیشنل ویمنز ڈے 2026 کے موقع پر ایک باوقار سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد طالبات اور نوجوان نسل کو خواتین کے حقوق، ذمہ داریوں اور سماجی کردار کے بارے میں آگاہی دینا تھا۔ اس پروگرام کے سرپرستِ اعلیٰ وائس چانسلر یونیورسٹی آف اوکاڑہ پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین تھے جبکہ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ایکاترینا گاوریشیک (ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکیجز، یونیورسٹی آف اوکاڑہ) شریک ہوئیں۔ ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر کی ڈائریکٹر اور فوکل پرسن ڈاکٹر سمیرا حسن نے بطور منتظمہ پروگرام کی نگرانی کی جبکہ ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر کی فی میل ایمبیسیڈر مناہل شاہد نے بھی تقریب کے انتظامات میں نمایاں کردار ادا کیا۔تقریب کی مہمانِ اعزاز/مقرر مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) وومن ونگ اوکاڑہ تھیں۔ انہیں ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔ اس موقع پر معروف کاروباری شخصیت شہناز ظفر بھی موجود تھیں۔اپنے خطاب میں مس صائمہ رشید نے خواتین کے عالمی دن کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس دن کی بنیاد دراصل ان مزدور خواتین کی جدوجہد میں ہے جنہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں بہتر اجرت اور مناسب اوقات کار کے لیے آواز بلند کی۔ 1908 میں امریکہ کی فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین مزدوروں نے سخت حالات کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ کم اجرت اور طویل اوقاتِ کار کے خلاف آواز اٹھا رہی تھیں۔ ان خواتین کو شدید تشدد اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر ان کی جدوجہد نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ خواتین کو مساوی حقوق دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بعد ازاں 1911 میں اس جدوجہد کی یاد میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا اور 1975 میں اقوام متحدہ نے اس دن کو باقاعدہ عالمی سطح پر منانے کا اعلان کیا۔مس صائمہ رشید نے اپنی گفتگو میں اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ اگر اسلامی تعلیمات کو دیکھا جائے تو اسلام نے خواتین کو وہ مقام اور عزت دی جو اس دور میں کسی اور معاشرے میں موجود نہیں تھی۔ ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب دنیا کے کئی معاشروں میں عورت کو بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا تھا، اس وقت اسلام نے عورت کو عزت، احترام اور قانونی تحفظ فراہم کیا۔تاریخِ اسلام میں ہمیں خواتین کے کردار کی کئی روشن مثالیں ملتی ہیں۔ حضور اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہؓ ایک کامیاب اور بااثر تاجرہ تھیں۔ وہ نہ صرف معاشی طور پر مضبوط تھیں بلکہ انہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں حضور اکرمﷺ کی بھرپور حمایت بھی کی۔ اسی طرح حضرت عائشہؓ علم و دانش کی ایک عظیم شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں اور انہوں نے دینی علوم کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی خواتین کو معاشرتی ذمہ داریاں دی جاتی تھیں۔ حضرت عمرؓ کے دور میں شفا بنت عبداللہ کو بازاروں کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ وہ بازاروں میں جا کر اشیائے خورونوش کی قیمتوں، تول اور معیار کی نگرانی کرتی تھیں اور خلیفہ وقت کو رپورٹ پیش کرتی تھیں۔ یہ مثال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلامی معاشرے میں خواتین کو معاشی اور سماجی معاملات میں بھی فعال کردار دیا جاتا تھا۔مس صائمہ رشید نے کہا کہ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے نہایت عزت و احترام دیا ہے۔ قرآن مجید میں بیٹی کو رحمت قرار دیا گیا ہے اور ماں کے مقام کو بے حد بلند رکھا گیا ہے۔ اسی طرح اسلام نے عورت کو وراثت کا حق، تعلیم حاصل کرنے کا حق اور اپنی رائے کے اظہار کا حق بھی دیا ہے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے بعض معاشرتی روایات کو دین پر ترجیح دینا شروع کر دیا۔ نتیجتاً وہ حقوق جو اسلام نے عورت کو دیے تھے، عملی زندگی میں کمزور پڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی زندگیوں میں اسلامی اصولوں کو اپنائیں اور خواتین کو وہ مقام دیں جس کا دین اسلام نے واضح طور پر تعین کیا ہے۔اپنے خطاب کے دوران انہوں نے طالبات کو خاص طور پر تعلیم، کردار اور خود اعتمادی کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف تعلیم حاصل کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اس تعلیم کو عملی زندگی میں بھی ظاہر کرنا ضروری ہے۔ ایک باکردار اور باشعور عورت اپنے خاندان اور معاشرے دونوں کے لیے مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔انہوں نے نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کی بھی تلقین کی۔

ان کے مطابق موجودہ دور میں موبائل فون اور سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکے ہیں۔ اگر ان کا استعمال مثبت انداز میں کیا جائے تو یہ علم اور شعور کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، لیکن غیر ذمہ دارانہ استعمال انسان کی عزت اور وقار کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کو ذمہ داری اور شعور کے ساتھ استعمال کریں۔مس صائمہ رشید نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کو اپنے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے۔ آج کے دور میں خواتین کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں جن میں گھریلو تشدد، ہراسانی اور دیگر مسائل کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ مگر ان قوانین سے فائدہ اسی وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب خواتین کو اپنے حقوق اور قانونی راستوں کے بارے میں آگاہی حاصل ہو۔انہوں نے طالبات کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی زندگی میں ہمیشہ سچائی، دیانت اور مضبوط کردار کو اپنائیں۔ جب ایک لڑکی تعلیم، اخلاق اور کردار کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے فخر کا باعث بنتی ہے۔تقریب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ تعلیمی ادارے صرف علم کی فراہمی تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ طلبا و طالبات کی شخصیت سازی اور سماجی شعور کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقد ہونے والی یہ تقریب اس بات کا واضح پیغام تھی کہ ایک ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے کی بنیاد خواتین کے احترام، تعلیم اور بااختیار بنانے میں پوشیدہ ہے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا دارومدار اس کی خواتین کے کردار پر ہوتا ہے۔ جب خواتین تعلیم یافتہ، باشعور اور خوداعتماد ہوں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہی پیغام خواتین کے عالمی دن کا اصل مقصد بھی ہے کہ عورت کو اس کا جائز مقام دیا جائے اور اسے ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ خواتین کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عورت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں ایک فعال اور مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر ایسا ماحول پیدا کریں جہاں خواتین عزت، تحفظ اور مساوی مواقع کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ یہی ایک مضبوط، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت ہے