کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
پاکستانی قوم کی قوتِ برداشت کا اگر عالمی سطح پر موازنہ کیا جائے تو یقیناً ہم دنیا کی صابر ترین قوم قرار پائیں گے کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں جو ہر مشکل کو اللہ کی رضا اور ہر ناانصافی کو قسمت کا لکھا مان کر خاموشی سے قبول کر لیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربا اضافے، جس نے فی لیٹر قیمت کو 355 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے، مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور اس مہنگائی کے طوفان نے گھی، چینی، آٹا، دالیں، پھل، سبزیاں اور ادویات سمیت ہر روزمرہ استعمال کی چیز کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ یہاں سب سے بڑا تضاد اور تکلیف دہ امر یہ ہے کہ حکومت خود دعویٰ کرتی ہے کہ ملک میں اتنے دنوں کا پٹرول اور ڈیزل کا اسٹاک موجود ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پرانی قیمت پر خریدا ہوا اسٹاک ابھی موجود ہے تو پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر فوری طور پر کیوں ڈال دیا گیا؟ اصول تو یہ ہونا چاہیے کہ جب پرانا اسٹاک ختم ہوتا تب پٹرول اور ڈیزل کے نئے اسٹاک کے ساتھ نئی قیمتوں کا اطلاق کیا جاتا مگر یہاں تو یوں لگتا ہے جیسے مقصد صرف عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالنا ہو۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ مہنگائی کا یہ سارا بوجھ صرف غریب اور دیہاڑی دار طبقے پر ڈالا جاتا ہے جبکہ ملک کی طاقتور اشرافیہ اور بیوروکریسی آج بھی سرکاری خزانے سے مفت پٹرول اور ڈیزل کے ساتھ ساتھ بھاری مراعات اور شاہانہ عیاشیوں کے مزے لے رہی ہے۔ اگر واقعی ملک مشکل حالات میں ہے تو غریب کی روٹی چھیننے کے بجائے افسر شاہی کے ان ٹھاٹھ باٹھ پر کٹ کیوں نہیں لگایا جاتا؟ ایک فرضی مگر حقیقت سے قریب تر صورتحال کا تصور کریں کہ اگر کل حکومت تمام حدود پار کرتے ہوئے یہ اعلان کر دے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 500 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے اور ساتھ ہی پمپ پر ایندھن ڈلوانے کے بعد ہر شہری کو 10 چھتر بھی مارے جائیں گے تو یقین مانیں کہ یہاں پھر بھی کوئی انقلاب نہیں آئے گا کیونکہ ہمارے معاشرے کی نفسیات اتنی عجیب ہو چکی ہے کہ ہم مصیبت میں سے بھی سہولت کا پہلو نکال لیتے ہیں۔ پٹرول پمپ پر لگی قطاروں میں کھڑے لوگ ایک دوسرے کو یہ کہہ کر تسلی دیتے نظر آئیں گے کہ کوئی بات نہیں یار، ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور کچھ دور اندیش تو یہاں تک کہہ دیں گے کہ شکر کرو کم از کم پٹرول اور ڈیزل مل تو رہا ہے، باقی ملکوں میں تو لائنیں لگی ہوتی ہیں یعنی ہم اپنی جیب سے بھاری قیمت بھی ادا کریں گے، پیٹھ پر چھتر بھی کھائیں گے اور پھر بھی اس نظام کے گن گائیں گے جو ہمیں جینے کی بنیادی سہولیات تک فراہم نہیں کر پا رہا۔ حد تو یہ ہے کہ ان بڑے محبِ وطن دانشوروں کا اعتراض یہ نہیں ہو گا کہ عوام کو کیوں مارا جا رہا ہے بلکہ وہ یہ مشورہ دیتے نظر آئیں گے کہ اصل مسئلہ قیمت کا 500 ہونا نہیں بلکہ چھتر مارنے والوں کی تعداد کم ہے، اگر دو چار بندے اور لگا دیتے تو سروس بہتر ہو جاتی۔ یہ ہماری برداشت نہیں بلکہ وہ خطرناک بے بسی ہے جو کسی بھی زندہ قوم کو قبرستان کی خاموشی میں بدل دیتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں محض زندہ رہنے کے بجائے باعزت جینے کا شعور عطا کرے اور ہمارے حکمرانوں کو عوامی تکالیف کا احساس کرنے کی توفیق دے۔ آمین





