تحریر: محمدانوربھٹی
ہجرت جہاں سے بھی کی جائے وہ کبھی شوق کا سفر نہیں ہوتی وہ ہمیشہ دل کے ٹوٹنے کی آخری آواز ہوتی ہے انسان اس وقت تک نہیں اٹھتا جب تک اس کے قدموں کے نیچے کی زمین واقعی کانٹوں میں تبدیل نہ ہو جائے وہ آخر تک ٹھہرتا ہے وہ خود کو سمجھاتا ہے وہ اپنوں کے بدلتے ہوئے رویوں کو وقتی تھکن کا نام دیتا ہے وہ اپنے زخموں کو وقت کی پٹی سے باندھتا ہے وہ ہر تلخی کو حالات کا جبر کہہ کر معاف کرتا ہے مگر ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب معافی خود پر ظلم بننے لگتی ہے جب خاموشی عزت نفس کا گلا گھونٹنے لگتی ہے جب موجودگی کو برداشت کیا جانے لگے اور محبت کو احسان بنا دیا جائے تو پھر ہجرت ناگزیر ہو جاتی ہے ہجرت دراصل اس مقام کا نام ہے جہاں انسان اپنے وجود کو بچانے کے لیے پیچھے ہٹتا ہے ورنہ کون ہے جو اپنے گھر کی دہلیز چھوڑنا چاہتا ہو کون ہے جو مانوس دیواروں سے نظریں چرا کر اجنبی راستوں کا مسافر بننا چاہتا ہو گھر سے ہجرت کرنا محض اینٹوں اور چھت کو چھوڑ دینا نہیں ہوتا وہ بچپن کی ہنسی کو پیچھے چھوڑ دینا ہوتا ہے وہ ماں کی دعا کی خوشبو سے دور ہو جانا ہوتا ہے وہ اس کمرے کو الوداع کہنا ہوتا ہے جہاں خواب پہلی بار آنکھوں میں اترے تھے اور دل سے ہجرت اس سے بھی زیادہ کٹھن ہوتی ہے کیونکہ گھر کی دیواریں خاموش ہوتی ہیں مگر دل بولتا ہے دل سوال کرتا ہے دل یاد دلاتا ہے کہ کبھی یہاں تمہارا نام عزت سے لیا جاتا تھا کبھی یہاں تمہاری مسکراہٹ سے چراغ جلتے تھے پھر آہستہ آہستہ لہجے بدلتے ہیں آنکھوں کی چمک مدھم ہوتی ہے اور وہی جگہ جہاں تم اپنی مکمل سچائی کے ساتھ کھڑے تھے تمہارے لیے تنگ ہونے لگتی ہے انسان بہت سہہ کر برداشت کر کے ہجرت کرتا ہے وہ اپنی انا کو کئی بار مارتا ہے وہ اپنی خواہشوں کو دفن کرتا ہے وہ اس امید پر جیتا ہے کہ شاید کل بہتر ہو شاید بات سمجھ لی جائے شاید رویہ بدل جائے مگر جب شاید کی ڈور بار بار ٹوٹ جائے تو پھر انسان اپنے دل کو سمجھاتا ہے کہ اب رکنا اپنی بے قدری پر مہر ثبت کرنے کے مترادف ہے ہجرت میں دکھ اس لیے زیادہ ہوتا ہے کہ اس میں یادیں زندہ رہتی ہیں جسم تو آگے بڑھ جاتا ہے مگر روح پیچھے رہ جاتی ہے وہ بار بار مڑ کر دیکھتی ہے وہ خود سے پوچھتی ہے کیا واقعی اب واپسی ممکن نہیں اور جواب میں خاموشی ملتی ہے ایک بھاری خاموشی جو سینے پر رکھے پتھر کی طرح سانس لینا مشکل کر دیتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ ہجرت ہمیشہ درد کے بطن سے جنم لیتی ہے جب حضرت محمد ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف قدم بڑھایا تو وہ کوئی عام سفر نہ تھا وہ جدائی کا وہ لمحہ تھا جس میں اپنے شہر کی گلیوں سے محبت بھی تھی اور حق کی خاطر چھوڑ دینے کا عزم بھی تھا ہجرت میں آنسو بھی تھے مگر وقار بھی تھا اسی طرح ہر وہ شخص جو اپنے اصولوں کی حفاظت کے لیے پیچھے ہٹتا ہے وہ دراصل شکست نہیں قبول کرتا بلکہ اپنی حرمت کو بچاتا ہے مگر یہ سچ اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ دل ٹوٹتا ضرور ہے کیونکہ انسان پتھر نہیں ہوتا وہ یادوں سے بنا ہوتا ہے اور یادیں آسانی سے مرتی نہیں وہ ہر نئے منظر میں پرانے عکس تلاش کرتی ہیں ہر نئی آواز میں کسی مانوس صدا کی بازگشت ڈھونڈتی ہیں ہجرت کے بعد زندگی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے ایک وہ جو نظر آتی ہے اور ایک وہ جو اندر خاموشی سے روتی ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ تم مضبوط ہو کیونکہ تم نے چھوڑ دیا مگر وہ نہیں جانتے کہ چھوڑنا کتنا مشکل تھا کتنی راتیں جاگ کر گزریں کتنی بار دل نے کہا رک جاؤ اور کتنی بار خودی نے کہا اب بس کرو انسان جب کسی کے دل سے ہجرت کرتا ہے تو وہ اپنے ساتھ صرف اپنا وجود نہیں لے جاتا وہ اپنے خوابوں کے ٹکڑے بھی سمیٹتا ہے وہ ان وعدوں کی راکھ بھی ساتھ رکھتا ہے جو کبھی مستقبل کی بنیاد سمجھے گئے تھے اور پھر ایک دن وہ نئے راستے پر چلنے لگتا ہے مگر اندر ایک خلا باقی رہتا ہے ایک ایسا خلا جسے وقت بھر تو دیتا ہے مگر نشان مٹاتا نہیں ہجرت کا سب سے بڑا کرب یہ ہے کہ انسان کو خود کو قائل کرنا پڑتا ہے کہ تم نے درست فیصلہ کیا کیونکہ دل اکثر ماضی کے ساتھ وفادار رہتا ہے عقل مستقبل کی بات کرتی ہے اور انسان ان دونوں کے بیچ معلق رہتا ہے مگر ایک حقیقت ایسی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ یہ کہ جب کسی جگہ تمہاری عزت محفوظ نہ رہے جب تمہاری موجودگی کو بوجھ سمجھا جائے جب تمہارے سچ کو ضد کہا جائے اور تمہاری خاموشی کو کمزوری تو پھر وہاں رکنا اپنے آپ سے خیانت ہے ہجرت کبھی بزدلی نہیں ہوتی وہ آخری جرات ہوتی ہے وہ اس بات کا اعلان ہوتی ہے کہ میں خود کو مٹنے نہیں دوں گا میں اپنی حرمت کو روندے جانے نہیں دوں گا اگرچہ اس کے لیے مجھے تنہا راستہ اختیار کرنا پڑے گا ہجرت کرنے والا شخص باہر سے پرسکون دکھائی دے سکتا ہے مگر اس کے اندر ایک قیامت برپا ہوتی ہے وہ ہر نئے چہرے میں پرانا اعتبار تلاش کرتا ہے وہ ہر نئے تعلق میں ڈرتا ہے کہ کہیں پھر سے وہی انجام نہ ہو مگر وقت آہستہ آہستہ اسے سکھاتا ہے کہ ہر ہجرت بربادی نہیں ہوتی کچھ ہجرتیں نئی تعمیر کا پیش خیمہ ہوتی ہیں جیسے بیج کو مٹی میں دفن ہونا پڑتا ہے تب کہیں جا کر وہ شجر بنتا ہے اسی طرح انسان کو بھی کبھی کبھی اپنے مانوس ماحول سے نکلنا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنی اصل صلاحیت کو پہچان سکے ہجرت دکھ دیتی ہے مگر وہ شعور بھی دیتی ہے وہ انسان کو سکھاتی ہے کہ محبت اور خودداری میں توازن کیسے قائم رکھا جائے وہ اسے یہ سبق دیتی ہے کہ ہر تعلق کو بچانے کی ذمہ داری یکطرفہ نہیں ہوتی اور جہاں صرف ایک ہی شخص تھامے کھڑا ہو وہاں آخرکار ہاتھ چھوٹ ہی جاتا ہے ہجرت کے بعد جب انسان پلٹ کر دیکھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ جس چیز کو اپنی دنیا سمجھ رہا تھا وہ دراصل اس کی آزمائش تھی اور آزمائشیں ہمیشہ عارضی ہوتی ہیں مستقل تو صرف انسان کا کردار ہوتا ہے اگر ہجرت کردار کو بچا لے تو وہ نقصان نہیں سودا ہے اگر ہجرت دل کو زخمی کر دے مگر روح کو زندہ رکھے تو وہ گھاٹا نہیں فائدہ ہے اس لیے جو لوگ ہجرت کر جاتے ہیں ان پر آسانی سے حکم نہ لگایا جائے ان کی خاموشی کے پیچھے کہانیاں ہوتی ہیں ان کی آنکھوں کی نمی کے پیچھے برسوں کی برداشت ہوتی ہے انہوں نے اچانک دروازہ بند نہیں کیا ہوتا انہوں نے بارہا دستک دی ہوتی ہے بارہا سمجھانے کی کوشش کی ہوتی ہے مگر جب دروازے اندر سے بند کر دیے جائیں تو باہر کھڑا رہنا خود کو ذلیل کرنے کے مترادف ہوتا ہے تب انسان اپنی آخری ہمت جمع کرتا ہے اور چلا جاتا ہے بہت دکھی دل کے ساتھ بہت ٹوٹے ہوئے خوابوں کے ساتھ مگر ایک عزم کے ساتھ کہ وہ اپنی باقی زندگی کو اپنی شرائط پر گزارے گا ہجرت کا دکھ وقت کے ساتھ مدھم ضرور ہوتا ہے مگر اس کی یاد انسان کو ہمیشہ محتاط رکھتی ہے وہ دوبارہ کسی جگہ خود کو مکمل طور پر سونپنے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے مگر یہی احتیاط اسے بالغ نظر بھی بناتی ہے آخرکار انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ تعلق وہی نبھائے جاتے ہیں جہاں عزت اور خلوص دونوں موجود ہوں ورنہ صرف جذبات کی بنیاد پر تعمیر کی گئی عمارتیں زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں ہجرت اگرچہ دل پر بوجھ ڈالتی ہے مگر وہ انسان کو اس کی اصل قدر بھی سکھاتی ہے وہ اسے یہ باور کراتی ہے کہ تمہاری ذات کسی ایک دروازے کی محتاج نہیں تمہاری روشنی کسی ایک کھڑکی سے وابستہ نہیں اگر ایک جگہ اندھیرا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری کائنات بجھ گئی ہے بس اتنا ہے کہ تمہیں اپنا چراغ اٹھا کر آگے بڑھنا ہے اور یہی ہجرت کا اصل مفہوم ہے درد کے ساتھ آگے بڑھنا آنسوؤں کے ساتھ مسکرانا اور ٹوٹنے کے باوجود اپنے آپ کو باقی رکھنا کیونکہ آخرکار انسان کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ حالات سے ہار کر بھی اپنے وقار سے دستبردار نہ ہو اور اگر ہجرت اس وقار کو بچا لے تو وہ دکھ کے باوجود رحمت بن جاتی ہے۔





