ستمبر 17, 2026

کراچی میں فروخت ہونے والا کچا دودھ اور مرغی کا گوشت خطرناک اینٹی بایوٹک مزاحم بیکٹیریا سے آلودہ ہونے کا انکشاف

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) پاکستان میں خوراک کے ذریعے پھیلنے والی اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (AMR) کے بڑھتے ہوئے خطرات پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ انکشاف اسلام آباد فوڈ بورن اے ایم آر سے متعلق منعقدہ دوروزہ قومی کانفرنس میں سامنے آیا، جس کا انعقاد فوڈاینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن آف دی یونائیٹڈ نیشنز(ایف اے او)پاکستان نے جمہوریہ کوریا کی وزارتِ فوڈ اینڈ ڈرگ سیفٹی اور ملکی شراکت دار اداروں کے تعاون سے کیا۔ کانفرنس میں صحت، خوراک، ویٹرنری اور ماحولیاتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی اور ون ہیلتھ فریم ورک کے تحت پاکستان میں اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کے بڑھتے ہوئے خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس کے دوران جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سید محمد غفران سعید نے کراچی میں کئے گئے ایک پائلٹ سرویلنس مطالعے کے نتائج پیش کئے۔ یہ تحقیق ایف اے او پاکستان کے اشتراک سے اورسندھ فوڈ اتھارٹٰی کی ڈویژنل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے تعاون سے مکمل کی گئی۔مطالعے کے تحت کراچی کے مختلف علاقوں سے حاصل کئے گئے کچے دودھ اور مرغی کے گوشت کے 100 نمونوں (50 دودھ اور 50 مرغی) کا مائیکروبیالوجیکل تجزیہ کیا گیا۔ تحقیقی ٹیم میں ڈاکٹر سید محمد غفران سعید، ڈاکٹر عبد الحق (چیئرمین، شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی)، ڈاکٹر سیما اشرف (کوالٹی مینجمنٹ نمائندہ، سندھ فوڈ اتھارٹی) اور اُمنہ اسلم (مائیکرو بیالوجسٹ، ڈویژنل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری) شامل تھیں۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق دونوں اقسام کے نمونوں میں Escherichia coli بیکٹیریا کی موجودگی پائی گئی، جن میں سے متعدد ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ تھے۔خصوصاً دودھ کے نمونوں میں عام استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹک Augmentin کے خلاف تقریباً 74 فیصد مزاحمت ریکارڈ کی گئی، جو ماہرین کے مطابق ایک نہایت تشویشناک صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہے۔ مزید یہ کہ بعض نمونوں میں دیگر اہم اینٹی بایوٹکس کے خلاف بھی مزاحمت دیکھی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوراک کے ذریعے اینٹی بایوٹک مزاحم بیکٹیریا انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر غفران سعید نے کہا کہ کچا دودھ اور مرغی کا گوشت اینٹی بایوٹک مزاحم بیکٹیریا کے ذخائر کے طور پر کام کر سکتے ہیں، جو خوراک کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہو کر پیچیدہ اور مشکل علاج والی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مویشیوں میں اینٹی بایوٹکس کے غیر ضروری استعمال، ناقص حفظانِ صحت کے انتظامات اور غیر منظم سپلائی چین کو اس مسئلے کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔ کانفرنس میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان دنیا کے بڑے دودھ اور پولٹری پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، تاہم دودھ کا بڑا حصہ بغیر پاسچرائزیشن کے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ پولٹری کی فروخت بھی اکثر غیر منظم طریقوں سے ہوتی ہے، جس سے آلودگی اور اینٹی بایوٹک مزاحمت کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین نے سفارش کی کہ خوراک میں اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کی نگرانی کے نظام کو مؤثر اور مربوط بنایا جائے، دودھ اور گوشت کی باقاعدہ مائیکرو بیالوجیکل جانچ یقینی بنائی جائے۔ مویشیوں میں اینٹی بایوٹکس کے غیر ضروری استعمال کی سخت نگرانی کی جائے، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔
کانفرنس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کراچی میں FAO پاکستان کے اشتراک سے کیا گیا یہ پائلٹ مطالعہ ملک میں خوراک سے متعلق اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کی نگرانی کےلئے ایک اہم بنیاد فراہم کرے گا، اور عوامی صحت کے تحفظ کے لئے مربوط ون ہیلتھ حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے