اکتوبر 31, 2026

سرکاری اسپتالوں میں غفلت برداشت نہیں، ڈاکٹر ڈیوٹی کے دوران موبائل استعمال نہ کریں: مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں آنے والے مریض امیر نہیں ہوتے، اس لیے صحت کے شعبے میں معمولی سی کوتاہی بھی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹر ڈیوٹی کے اوقات میں موبائل فون استعمال نہیں کریں گے تو قیامت نہیں آ جائے گی۔

لاہور میں سرکاری اسپتالوں کے ایم ایس اور سی ای اوز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسپتالوں میں ہر قسم کی ادویات موجود ہیں، تاہم اصل مسئلہ فنڈنگ نہیں بلکہ مانیٹرنگ اور احتساب کا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ افسران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنے کے بجائے خود فیلڈ میں جا کر صورتحال کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کہیں سہولیات کی کمی یا رشوت ستانی تو نہیں ہو رہی۔

مریم نواز نے خبردار کیا کہ غریب عوام کی ادویات کے پیسوں میں کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ادویات موجود ہونے کے باوجود مریضوں کو فراہم نہیں کی جاتیں اور علاج کے لیے رشوت لی جاتی تھی۔ اگر کسی ایک مریض کو بھی مناسب علاج نہ ملا تو یہ متعلقہ حکام سمیت سب کی ناکامی ہوگی۔ انہوں نے اسپتالوں میں فائر سیفٹی سسٹم یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

بچوں کی ہارٹ سرجری سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بچوں کی سرجری کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور دل کے مریض بچوں کا مکمل ڈیٹا بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سوا 10 ہزار سرجریز نہیں بلکہ صحت کے شعبے میں ایک انقلاب ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ 100 ارب روپے دینے کے باوجود بعض اوقات مجرمانہ غفلت سامنے آتی ہے۔ ایک بیڈ پر دو یا تین مریضوں کے بجائے ایک مریض ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ 1500 نئے ڈاکٹرز اور 5 سے 6 ہزار نرسز بھرتی کی جا چکی ہیں اور ڈاکٹرز انسانی جانیں بچانے کو اپنا مشن بنائیں۔