پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے 29 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے۔ وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے معاہدوں کا باضابطہ تبادلہ کیا گیا۔
تقریب میں پاکستان اور ازبکستان کی وزارت خارجہ کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت، ترجیحی تجارت کے معاہدے کے تحت اشیاء کی فہرست میں توسیع کے پروٹوکول، انٹر ریجنل فورم کے قیام، دفاعی تعاون کے لیے ایکشن پلان، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے، غذائی تحفظ اور زرعی تحقیق کے شعبوں میں معاہدے طے پائے۔
دونوں ممالک کے درمیان پلانٹ پروٹیکشن، کھیل، منشیات اسمگلنگ کی روک تھام، کان کنی اور جیو سائنسز، سزایافتہ افراد کے تبادلے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس، تعلیم، ثقافتی ورثے کے تحفظ، میری ٹائم تعاون، تجارت میں سہولت، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، چھوٹے و درمیانے کاروبار اور ثقافتی شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی معاہدوں اور ایم او یوز کا تبادلہ ہوا۔
دوطرفہ قریبی تعلقات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے ازبک صدر شوکت مرزایوف کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ازبک صدر اور ان کے وفد کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے سنگِ میل ہے۔ انہوں نے ازبک صدر کو اعزازی ڈاکٹریٹ اور نشانِ پاکستان ملنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں اور اعلیٰ سطح تزویراتی تعاون کونسل کے قیام سے علاقائی روابط کو فروغ ملے گا۔
ازبک صدر شوکت مرزایوف نے شاندار میزبانی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک قریبی دوست اور قابل اعتماد شراکت دار ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی ترقی کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔
بعد ازاں اسلام آباد میں ایک سڑک کو تاشقند کے نام سے موسوم کرنے اور ایک پارک کو مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کے نام سے منسوب کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، جسے دونوں ممالک کے تاریخی اور ثقافتی تعلقات کی علامت قرار دیا گیا۔
اس سے قبل ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے اعلیٰ وزارتی وفد کے ہمراہ گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کا دورہ کیا جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق صدر ازبکستان کو جدید دفاعی نظام، صنعتی صلاحیتوں اور تکنیکی شعبوں پر بریفنگ دی گئی، جبکہ وفد نے پاکستان کی دفاعی پیداوار اور صنعتی ترقی میں مہارت کو سراہا۔





