انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیریوں کی امداد اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کردار ادا کریں
کشمیر محض علاقائی تنازع نہیں، زندہ انسانی المیہ ہے۔ سربراہ جماعت جلالیہ پاکستان
عالمی برادری بھارتی مظالم کا نوٹس لے، کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دیا جائے۔اظہار خیال
اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور مسئلہ کشمیر حل کرے۔
کھاریاں(قاری نصیر احمد کلیار) جماعت جلالیہ پاکستان کے سربراہ شیخ الحدیث الحاج ڈاکٹر مفتی پیر سید محمد نوید الحسن شاہ مشہدی سجادہ نشین درگاہ مقدسہ جلالیہ بھکھی شریف نے کہا ہے کہ جماعت جلالیہ پاکستان خون کے آخری قطرے تک اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ عالمی برادری بھارتی مظالم کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کا جائز اور مسلمہ حق دلانے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک زندہ انسانی المیہ ہے۔ عالمی برادری کی مسلسل خاموشی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو مزید تقویت دے رہی ہے۔ جماعت جلالیہ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری شیخ الحدیث پروفیسر ڈاکٹر مفتی محمد ظفر اقبال جلالی نے کہا ہے کہ شیخ الحدیث الحاج ڈاکٹر پیر سید محمد نوید الحسن شاہ مشہدی سربراہ جماعت جلالیہ پاکستان کی ہدایت پر جماعت جلالیہ پاکستان کی جانب سے ہر سال کی طرح اس سال بھی 5 فروری یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پراسلام آباد، راولپنڈی، گجرات، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، مظفر آباد، میرپور اور دیگر اضلاع میں شہدائے کشمیر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ریلیاں، سیمینارز، کانفرنسز اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔اسی طرح جماعت جلالیہ ضلع منڈی بہاؤالدین کے زیر اہتمام آج صبح دس بجے صدر گیٹ سے پریس کلب منڈی بہاؤالدین تک یکجہتی کشمیر ریلی نکالی جائے گی۔جس کی قیادت شیخ الحدیث الحاج مفتی ڈاکٹر پیر سید محمد نوید الحسن شاہ صاحب مشہدی سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھکھی شریف و سربراہ جماعت جلالیہ پاکستان فرمائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت فوری طور پر 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اقدام کو واپس لے۔ عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے حل میں فعال کردار ادا کرے۔ ہم عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں، متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔مریضوں اور متاثرین کے علاج معالجہ کے لیے سہولیات اور ادوایات فراہم کریں ۔ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی فراہمی کے لیے توانا آواز اٹھائیں ۔رفاہی اور فلاحی اقدامات میں اہم کردار کریں ۔





