اسرائیل نے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کی کھل کر حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران میں احتجاج کرنے والوں کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں گیدون سار کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام آزادی کے مستحق ہیں اور اسرائیل کی ان سے کوئی دشمنی نہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ ایرانی حکومت سے ہے جو دہشت گردی اور انتہاپسندی کی سب سے بڑی برآمد کنندہ ہے اور جو نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ایرانی مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل ایران میں جاری آزادی کے مظاہروں کا بغور مشاہدہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج پورے ایران میں پھیل چکے ہیں اور اسرائیل ایرانی عوام کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت کرتا ہے، ساتھ ہی مظاہروں کے دوران معصوم شہریوں کے قتل کی مذمت بھی کرتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس کے دوران امید ظاہر کی کہ ایرانی قوم جلد جبر اور ظلم سے نجات حاصل کرے گی۔ نیتن یاہو کے مطابق جب وہ دن آئے گا تو اسرائیل اور ایران ایک بار پھر اپنے عوام کے پُرامن اور خوشحال مستقبل کے لیے شراکت دار بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو بھی ہوئی جس میں ایران میں جاری مظاہروں کے علاوہ غزہ اور شام کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ 14 روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتوں سے جاری ان مظاہروں کے دوران اب تک 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔




