اپریل 20, 2026

نادیو نوبل امن انعام، ایتھے ہن جنگاں ای ہون گیاں

تحریر: محمد انور بھٹی


بندن میاں اس دن بھی اپنی پرانی بیٹھک میں اسی نشست پر بیٹھا تھا جہاں وقت آ کر رک جاتا ہے اور خبریں صرف سنائی نہیں دیتیں بلکہ اندر اترتی ہیں وہی بیٹھک جس میں موجودٹیبل پر رکھےپرانے اخبارات تاریخ نہیں بلکہ وعدوں کی لاشیں تھے وہ وعدے جو ہر دور میں امن کے نام پر کیے گئے اور جنگ پر ختم ہوئے تھے کیلیں دیوار میں کم اور سوال زیادہ گڑے ہوئے تھے اور ہر کیل یہ پوچھتی تھی کہ آخر یہ دنیا کب سچ بولے گی فرش پر بچھا قالین اپنے دھبوں سمیت گویا خود ایک نقشہ تھا کہیں تیل کے داغ کہیں چائے کے نشان کہیں جلے ہوئے سگریٹ کا سرکل جیسے دنیا کے ہر بحران کی کوئی نہ کوئی علامت یہاں آ کر جم گئی ہو سامنے رکھا ریڈیو بندن میاں کے لیے خبر کا آلہ نہیں بلکہ ضمیر کا لاؤڈ اسپیکر تھا جو وہ سب نشر کرتا تھا جو ریاستیں چھپانا چاہتی ہیں بندن میاں نے ریڈیو کی آواز ذرا سی بڑھائی تو خبر آئی کہ امریکہ نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کر دی ہے خبر میں وہی الفاظ تھے جو ہر جنگ کے آغاز پر استعمال ہوتے ہیں محدود کارروائی قومی مفاد جمہوریت کا تحفظ انسانی حقوق بندن میاں نے ہونٹ بھینچے مونچھوں کو تاؤ دیا آنکھیں سکڑیں اور ایک گہرا سانس لے کر بولا نادیو نوبل امن انعام ایتھے ہن جنگاں ای ہون گیاں مت دو یہ امن کا انعام یہاں تو جنگیں ہی ہونی ہیں یہ جملہ اس کی زبان سے ایسے نکلا جیسے برسوں سے اندر جمع کوئی سچ اچانک راستہ پا گیا ہووہ ہنسا ضرور مگر اس ہنسی میں خوشی نہیں تھی وہ ہنسی ویسی تھی جیسے جنازے میں کسی کے منہ سے بے اختیار قہقہہ نکل جائے اور پورا مجمع چونک اٹھے بندن میاں جانتا تھا کہ بعض سچ ایسے ہوتے ہیں جو ہنسی میں ہی کہے جا سکتے ہیں ورنہ آنسو اجازت نہیں دیتے اس نے کہا دنیا میں امن ہمیشہ انہی لوگوں کے ہاتھوں بیچا جاتا ہے جن کے گودام بارود سے بھرے ہوتے ہیں اور نوبل امن انعام بھی شاید انہی گوداموں کی رسید ہے فرق صرف اتنا ہے کہ رسید سنہری فریم میں لگی ہوتی ہے اور بارود بچوں کے جسموں میں پیوست ہوتا ہے
بندن میاں نے کہا صدر ٹرمپ امن پسند ہیں یا نہیں یہ سوال ہی غلط ہے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ان کی امن پسندی کس قیمت پر ہے کیونکہ قصائی بھی جانور سے محبت کرتا ہے مگر چھری کے ساتھ اور اگر امن واقعی نوبل انعام سے آتا تو آج وینزویلا کے آسمان پر امریکی جہاز سایہ نہ بناتے اگر صدر ٹرمپ کو ان کی خواہش کے مطابق امن کا نوبل انعام دے دیا جاتا تو شاید بم گرنے سے پہلے ایک باادب اعلان ہوتا کہ معذرت ہم امن کے سفیر ہیں براہ کرم تباہی کو ذرا مؤخر کر دیا جائے تاکہ تصویر صاف آ سکے۔بندن میاں نے ریڈیو بند کیا کیونکہ بعض اوقات خاموشی خبر سے زیادہ سچی ہوتی ہے اس نے کہا یہ کیسی امن پسندی ہے جو وائٹ ہاؤس میں تقریر کرتی ہے اور لاطینی امریکہ میں لاشیں گنتی ہے یہ کیسی انسان دوستی ہے جو کیمرے کے سامنے مسکراتی ہے اور نقشوں پر سرخ دائرے لگاتی ہے نوبل امن انعام اب امن کا نہیں بلکہ عالمی منافقت کا تمغہ بن چکا ہے جو اس شخص کو دیا جاتا ہے جو سب سے خوش نما زبان میں سب سے خوفناک حکم جاری کرے۔اس نے کہا مسئلہ یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ جنگجو ہیں مسئلہ یہ ہے کہ وہ جنگ کو بھی امن کہہ کر بیچتے ہیں اور وینزویلا پر حملہ دراصل اسی امن کا عملی مظاہرہ ہے جو تقریروں میں سفید کبوتر چھوڑتا ہے اور میدان میں لوہے کے عقاب بندن میاں کے نزدیک یہ وہی امن ہے جو کتابوں میں فلسفہ اور میدان میں قبریں بناتا ہے۔وہ اٹھا بیٹھک میں دو قدم چلا اور پھر رک کر بولا اگر نوبل کمیٹی واقعی آنکھیں رکھتی تو وہ امن کی تعریف وینزویلا کے بچوں کی آنکھوں میں تلاش کرتی نہ کہ کسی صدر کی ٹویٹ میں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ٹویٹ میں طاقت بولتی ہے اور بچوں کی آنکھوں میں صرف سچ اور سچ ہمیشہ بے آواز ہوتا ہےنادیو نوبل امن انعام ایتھے ہن جنگاں ای ہون گیاں اب صرف پنجابی طنز نہیں رہا یہ عالمی سیاست کا خلاصہ بن چکا ہے کیونکہ اس دنیا میں امن ہمیشہ طاقتور کے لیے ہوتا ہے اور جنگ کمزور کے حصے میں آتی ہے طاقتور کے لیے امن ایک پالیسی ہے کمزور کے لیے ایک خواب اور خواب ہمیشہ بم کی آواز سے ٹوٹتے ہیں
بندن میاں نے کہا صدر ٹرمپ کو امن نوبل انعام دینے کی خواہش ایسے ہی ہے جیسے کسی آگ لگانے والے کو فائر بریگیڈ کا تمغہ دے دیا جائے اور پھر اس سے توقع رکھی جائے کہ وہ آئندہ شہر نہیں جلائے گا امن نوبل انعام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ جنگ کو مہذب بنا دیتا ہے قتل کو پالیسی کہتا ہے اور تباہی کو حکمت عملی اور پھر تاریخ میں سب کچھ صاف ستھرا دکھائی دیتا ہے۔وینزویلا اگر آج محفوظ نہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہاں امن نہیں تھا بلکہ یہ ہے کہ وہاں وہ طاقت نہیں تھی جو امن کو بموں سے نافذ کر سکے کیونکہ اس دنیا میں امن بھی اسی کو ملتا ہے جس کے پاس اسے منوانے کی طاقت ہو تاریخ گواہ ہے ہر بڑی جنگ سے پہلے امن کی باتیں زیادہ کی جاتی ہیں تاکہ لاشوں کا شور کم سنائی دے اور ضمیر کو وقتی نیند آ جائے۔صدر ٹرمپ کی امن پسندی بھی موسم کی طرح ہے کبھی شمالی کوریا کے ساتھ دھوپ کبھی ایران پر بادل اور کبھی وینزویلا پر طوفان بندن میاں نے کہا امن کی باتیں وہی لوگ زیادہ کرتے ہیں جن کے پاس جنگ کا مکمل انتظام ہو کیونکہ جن کے پاس امن ہوتا ہے انہیں بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی ان کی خاموشی ہی کافی ہوتی ہے۔وہ لمحہ بھر رکا اور پھر بولا اگر نوبل امن انعام واقعی نیت دیکھ کر دیا جاتا تو شاید وہ کسی ماں کے ہاتھ میں ہوتا جس نے جنگ میں بیٹا کھو کر بھی نفرت نہیں پھیلائی کسی مزدور کے ہاتھ میں ہوتا جس نے بھوک کے باوجود کسی کا حق نہیں مارا کسی استاد کے ہاتھ میں ہوتا جس نے اندھیرے میں بھی چراغ جلایا مگر یہ سب لوگ اس فہرست میں اس لیے نہیں آتے کہ ان کے پاس نہ بم ہیں نہ بجٹ نہ میڈیا نہ بیان صدر ٹرمپ کا نوبل کمیٹی کو دو ٹوک جواب دراصل اس پورے سسٹم کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو جنگ کو امن کے ریپر میں لپیٹ کر بیچتا ہے اگر نوبل کمیٹی واقعی غیر جانبدار ہوتی تو وہ سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتی کیونکہ ان ہاتھوں پر بھی تاریخ کا خون لگا ہوا ہے اور وینزویلا پر حملہ صرف ایک ملک پر حملہ نہیں بلکہ اس خیال پر حملہ ہے کہ شاید دنیا میں امن بغیر شرط کے بھی ممکن ہو سکتا ہے۔بندن میاں نے کہا آج امن ایک پروجیکٹ ہے جس کی فائلیں بنتی ہیں پریزنٹیشنز ہوتی ہیں کانفرنسیں سجتی ہیں اور آخر میں کسی غریب ملک پر تجربہ کیا جاتا ہے امن کی لیبارٹری ہمیشہ کمزور ریاستوں میں لگائی جاتی ہے اور نتائج طاقتور اپنی زبان میں شائع کرتے ہیں۔یہ سوال کہ صدر ٹرمپ امن پسند ہیں یا نہیں اب غیر متعلق ہو چکا ہے اصل سوال یہ ہے کہ ان کی امن پسندی کس کے لیے ہے اور کس کے خلاف اگر امن واقعی نوبل انعام سے آتا تو آج دنیا کے نقشے پر سرخ نشان کم اور سبز زیادہ ہوتے مگر یہاں ہر سال سرخ بڑھتے جا رہے ہیں اور انعام بھی۔نادیو نوبل امن انعام ایتھے ہن جنگاں ای ہون گیاں اب بندن میاں کی بیٹھک سے نکل کر عالمی سچ بن چکا ہے کیونکہ یہاں امن بھی جنگ کی اجازت سے آتا ہے اور یہی وہ تضاد ہے جسے تاریخ ہر دور میں دہراتی ہے۔بندن میاں نے بیٹھک کی کھڑکی ذرا سی کھولی تو باہر گلی میں بچوں کی آوازیں آ رہی تھیں وہ بچے جو جنگ کا مطلب نہیں جانتے مگر اس کی قیمت ہمیشہ ادا کرتے ہیں بندن میاں نے کہا دنیا کی ساری جنگیں انہی بچوں سے قرض لیتی ہیں اور امن کے انعام بوڑھے ہاتھوں میں تھما دیے جاتے ہیں یہ عجیب حساب کتاب ہے کہ خون مستقبل دیتا ہے اور تمغے حال سمیٹ لیتا ہے
اس نے کہا نوبل امن انعام کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو تو تمہیں امن کم اور سیاست زیادہ ملے گی کہیں کسی بمبار کو امن کا علمبردار کہا گیا کہیں کسی قبضے کو استحکام کا نام دیا گیا اور کہیں کسی مداخلت کو انسانی خدمت قرار دے کر انعام تھما دیا گیا بندن میاں کے نزدیک مسئلہ کسی ایک صدر یا ایک ملک کا نہیں مسئلہ اس سوچ کا ہے جو طاقت کو اخلاق اور مفاد کو اصول بنا دیتی ہے اور پھر اسی اصول پر امن کی تعریف لکھی جاتی ہے۔وہ بولا امن اگر واقعی نوبل انعام سے جڑا ہوتا تو سب سے پہلے اسلحہ بنانے والی فیکٹریوں کے گیٹ بند ہوتے مگر یہاں تو انہی فیکٹریوں کے مالکان پالیسی ٹیبل پر بیٹھے ہوتے ہیں اور امن کی شرائط طے کرتے ہیں بندن میاں نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا امن کی سب سے بڑی علامت اب یہ ہے کہ جنگ کتنی خوبصورت زبان میں لڑی جا رہی ہے الفاظ جتنے نرم ہوں لاشیں اتنی ہی خاموش دفن ہوتی ہیں
ریڈیو دوبارہ آن ہوا تو تجزیہ کار بول رہا تھا عالمی برادری تشویش میں مبتلا ہے بندن میاں نے سر ہلایا اور کہا عالمی برادری ہمیشہ تشویش میں ہوتی ہے مگر کبھی شرمندگی میں نہیں جاتی تشویش بیانات میں اچھی لگتی ہے شرمندگی فیصلے مانگتی ہے اور فیصلے طاقتور نہیں کرتے وہ صرف نقشے بدلتے ہیں
اس نے کہا میڈیا بھی اس کھیل کا حصہ ہے کیونکہ کیمرہ ہمیشہ وہاں جاتا ہے جہاں طاقت اجازت دے مظلوم کی چیخ اس وقت تک خبر نہیں بنتی جب تک اس میں کسی طاقتور کے مفاد کی آنچ شامل نہ ہو وینزویلا کے بچے اگر کسی اور ملک میں پیدا ہوتے تو شاید آج ہیرو ہوتے مگر یہاں وہ صرف کولیٹرل ڈیمیج کہلاتے ہیں بندن میاں نے کہا یہی وہ لفظ ہے جو انسان کو عدد بنا دیتا ہے اور عدد پر کبھی انعام نہیں ملتا۔وہ لمحہ بھر خاموش رہا پھر بولا دنیا میں سب سے خطرناک جملہ یہ ہے کہ یہ سب امن کے لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ اس جملے کے بعد ہر سوال غیر اخلاقی بنا دیا جاتا ہے ہر اعتراض غداری اور ہر آنسو جذباتیت کہلا دیتا ہے اور پھر طاقت کو مکمل آزادی مل جاتی ہے کہ وہ جو چاہے کرے بندن میاں کے نزدیک یہی وہ مقام ہے جہاں امن کا لفظ مر جاتا ہے اور صرف مفاد زندہ رہتا ہے۔نادیو نوبل امن انعام ایتھے ہن جنگاں ای ہون گیاں بندن میاں نے یہ جملہ دوبارہ دہرایا مگر اس بار آواز میں طنز کم اور دکھ زیادہ تھا اس نے کہا یہ فقرہ دراصل اس دنیا کا آئینہ ہے جہاں امن بھی اجازت نامہ مانگتا ہے اور جنگ بغیر اجازت شروع ہو جاتی ہے جہاں امن کے لیے کانفرنسیں ہوتی ہیں اور جنگ کے لیے صرف ایک حکم کافی ہوتا ہے۔اس نے کہا آنے والی نسلیں شاید یہ سوال کریں گی کہ جب دنیا اتنی ترقی کر گئی تھی تو پھر جنگ کیوں نہ رک سکی اور اس سوال کا جواب شاید یہ ہو گا کہ ترقی نے انسان کو طاقتور تو بنا دیا مگر ذمہ دار نہ بنا سکی اور طاقت جب ذمہ داری کے بغیر ہو تو امن صرف تقریر رہ جاتا ہے۔بندن میاں نے کہا اگر کبھی حقیقی امن آیا تو وہ کسی انعام کی صورت نہیں آئے گا وہ خاموشی سے آئے گا کسی ماں کے صبر میں کسی استاد کے قلم میں کسی مزدور کی دیانت میں کسی بچے کی بے خوف نیند میں وہ امن کسی فریم میں نہیں سجے گا کسی اسٹیج پر اعلان نہیں ہو گا مگر وہ سب سے قیمتی ہو گا کیونکہ وہ انسان کو انسان سمجھے گا نہ کہ ہدف۔وینزویلا جل رہا ہے اور دنیا امن کے بیانات پڑھ رہی ہے یہ تضاد بندن میاں کو اندر سے کھا رہا تھا اس نے کہا شاید تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ جنگ کرنے والوں کے نام یاد رکھے جاتے ہیں اور امن بچانے والوں کے نام فٹ نوٹ میں چلے جاتے ہیں مگر فٹ نوٹ ہی اصل متن ہوتا ہے یہ بات بس وقت سمجھاتا ہے۔وہ اٹھا بیٹھک کی دیوار پر لٹکی ایک پرانی تصویر کے سامنے کھڑا ہو گیا تصویر میں ایک مسکراتا ہوا چہرہ تھا جس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے بندن میاں نے کہا شاید یہی اصل امن پسند تھے جن کے نام کہیں درج نہیں مگر جن کی خاموش محنت نے دنیا کو تھوڑا سا بہتر رکھا۔آخر میں وہ واپس اپنی نشست پر بیٹھ گیا باہر بچوں کی آوازیں اب بھی آ رہی تھیں اس نے آہستہ سے کہا شاید حقیقی امن وہی ہے جہاں بچے بغیر خوف کے کھیل سکیں اور جہاں کسی ریڈیو پر جنگ کی خبر سن کر کسی بندن میاں کو مونچھوں کو تاؤ نہ دینا پڑے مگر جب تک طاقت کا خدا زندہ ہے امن کا انعام محض ایک تمغہ ہی رہے گا۔اور بندن میاں کی بیٹھک میں خاموشی چھا گئی وہی خاموشی جو ہر بم کے بعد آتی ہے اور پھر اگلی تقریر کے شور میں دفن ہو جاتی ہے مگر اس خاموشی میں ایک سوال زندہ تھا اور وہ سوال یہی تھا کہ کیا دنیا کبھی اس فقرے سے آگے بڑھے گی یا ہمیشہ یہی کہتی رہے گی۔نادیو نوبل امن انعام ایتھے ہن جنگاں ای ہون گیاں