چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران بھارت کے ساتھ تعلقات پر واضح موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جو بھی ہوگا، وہ برابری کی سطح پر ہوگا، اگر بھارتی ٹیم ہینڈ شیک نہیں کرنا چاہتی تو ہمیں بھی اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی انڈر 19 ٹیم کے رویے پر آئی سی سی سے بات ہوگی اور آئی سی سی کو بھارتی رویے کے بارے میں تحریری طور پر آگاہ کیا جا رہا ہے۔
پی ایس ایل کے حوالے سے چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ وسیم اکرم کو پی ایس ایل کا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا گیا ہے اور رواں سال پی ایس ایل 23 مارچ سے شروع کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جو 26 مارچ کی اصل تاریخ سے پہلے ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام فرنچائز کی مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ پی ایس ایل کے اختتام کے بعد ملتان سلطانز کی نیلامی ہوگی اور اس سال پی سی بی خود ٹیم کو آپریٹ کرے گا۔ مزید بتایا گیا کہ پی ایس ایل کی 2 نئی ٹیموں کے لیے 10 پارٹیوں نے کوالیفائی کیا ہے اور ٹیموں کی بڈنگ 8 جنوری کو اسلام آباد میں ہوگی۔
محسن نقوی نے کہا کہ جنوری کے مہینے میں کرکٹ کے اہم ایونٹس ہوں گے، ٹیمیں اچھی فروخت ہوں گی، اور نیوز چینل کو اسپورٹس ایونٹ کی کوریج کے لیے وزیر اطلاعات سے درخواست کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی سی بی کرکٹ اکیڈمی کو ریجن کی بہترین اکیڈمی بنانے کا ہدف رکھتا ہے اور پاکستان شاہینز کو بھی مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
چیئرمین نے ریڈ بال کے کوچ کے انتخاب پر بھی بات کی اور بتایا کہ اس حوالے سے ابھی کام جاری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز میں اب تک تین ٹی ٹوئنٹی میچز شیڈول ہیں۔





