منڈی بہاوالدین (خصوصی رپورٹ) ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں پھالیہ کے گاؤں چوٹ کلاں کے رہائشی محنت کش اللہ دتہ 8 دسمبر 2025 کو ایک خوفناک ایکسیڈنٹ میں جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی اچانک وفات نے ان کے خاندان کو نہ صرف شدید صدمے میں ڈال دیا بلکہ مالی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ مرحوم کے دو چھوٹے بیٹوں، تین بیٹیوں اور بیوہ کو اب نہ صرف روزگار کی فکر ہے بلکہ زرعی ترقیاتی بینک (ZTBL) اور دیگر قرض خواہوں کی تنگ کرنے والی کارروائیوں نے ان کی زندگی مزید اجیرن بنا دی ہے ۔
مرحوم اللہ دتہ ایک سادہ کسان تھے جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے دن رات محنت کرتے تھے۔ ان کے ذمہ ZTBL سے زرعی قرض اور کئی پرائیوٹ افراد کے قرضے تھے، جن کی ادائیگی وہ کمزور مالی حالات کے باوجود اقساط میں کر رہے تھے۔ تاہم، ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ان کی زندگی ختم ہونے سے پہلے ہی آخری قسط باقی تھی۔ اب ان کے یتیم بچوں ، جن کی عمریں چند سال سے لے کر دس بارہ سال تک ہیں اور بیوہ کو نہ صرف خاوند کی کمی کا غم سہنا پڑ رہا ہے بلکہ ZTBL کا عملہ انہیں شدید دباؤ میں لے رہا ہے۔ خاندان کے مطابق، بینک کے نمائندے گھر آ کر دھمکیاں دے رہے ہیں، قرض کی وصولی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وارثوں کی غربت کو نظر انداز کر رہے ہیں، جو SBP کی ہدایات کے برعکس ہے ۔
بیوہ اللہ دتہ نے بتایا، "ہمارے پاس کھانے کو روٹی نہیں، بچوں کی تعلیم اور کفالت کی فکر ہے، لیکن بینک والے ہر روز آ کر تنگ کرتے ہیں۔ مرحوم نے زندگی بھر محنت کی، اب ان کے بچوں کو کیوں سزائیں ملیں؟” خاندان کے مالی حالات اتنا خراب ہے کہ وہ بنیادی ضروریات بھی پورا نہ کر سکیں، اور دیگر قرض خواہ بھی وہی رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی ہمدردی کی خلاف ورزی ہے بلکہ 2025 کی SBP گائیڈ لائنز اور Banking Ombudsman کی ہدایات کی بھی خلاف ورزی ہے، جہاں فوت کی صورت میں minor heirs (چھوٹے بچوں) کو رعایت دی جاتی ہے ۔
اس واقعے نے مقامی سطح پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اللہ دتہ کے خاندان نے حکومت پنجاب، Chief Minister Maryam Nawaz، اور State Bank of Pakistan سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ZTBL کو وارثوں کو تنگ کرنے اور زیادتی سے روکا جائے، قرض معاف کیا جائے، اور خاندان کو مالی امداد دی جائے تاکہ بچوں کی کفالت ممکن ہو سکے۔ مقامی رہنماؤں اور حقوق کے کارکنوں نے بھی اس کی مذمت کی ہے، اور کہا ہے کہ ایسے کیسز میں بینکوں کو انسانی بنیادوں پر رعایت دینی چاہیے، جیسا کہ 2022 میں صدر مملکت نے Bank of Punjab کے کیس میں Rs. 423,556 کی واپسی کا حکم دیا تھا ۔
حکومت پنجاب اور ZTBL انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور غمگین خاندان کو انصاف دیا جائے۔ یہ واقعہ زرعی قرضوں کی وصولی کے نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کرتا ہے، جہاں غریب کسانوں کے خاندانوں کو مزید تکلیف دی جاتی ہے۔ اگر بروقت مدد نہ ملی تو یہ نہ صرف ایک خاندان کی تباہی کا باعث بنے گا بلکہ معاشرے میں عدم اعتماد کو بڑھاوا دے گا ۔





