اکتوبر 30, 2026

پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 ایک غیر جمہوری اور مقامی حکومتوں کو بے اختیار کرنے والا قانون ہے; ڈاکٹر حافظ محمد ادریس

ڈنگہ(پریس ریلیز ) آئین پاکستان کی دفعہ 140-A میں واضح طور پر تمام انتظامی، مالی اور سیاسی اختیارات بلدیاتی حکومتوں کو منتقل کرنے کی بات کی گئی ہے جبکہ صوبائی حکومت نے جملہ تمام اختیارات پر مختلف صوبائی ادارے اور اتھارٹیز بنا کر قبضہ کر لیا ہے جو دستور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
امیر جماعت اسلامی ڈنگہ شہر و سربراہ ڈنگہ کو حق دو تحریک ڈاکٹر حافظ محمد ادریس نے کہا ہے کہ غیرجماعتی بنیادوں پر انتخاب غیرجمہوری بھی ہے اور نمائندوں کی خریدوفروخت کا ایک ذریعہ بھی۔ یہ جمہوریت کو گراس روٹ لیول تک لانے کی بجائے ہارس ٹریڈنگ کو گراس روٹ لیول تک لانے کا منصوبہ ہے۔ ووٹر کو براہ راست یوسی چیئرمین منتخب کرنے کا حق نہ دینا عوام کی رائے پر عدم اعتماد کا مظہر اور غیرجمہوری عمل ہے۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 میں ترمیم کر کے آئین پاکستان کی روح کے مطابق تمام انتظامی، مالیاتی اور سیاسی اختیارات منتخب عوامی نمائندوں کو منتقل کیے جائیں۔ یو سی چیئرمین کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے ہو، یوتھ کونسلرز کو بھی براہ راست منتخب کرنے کی شق شامل کی جائے۔ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کروائے جائیں۔ بیوروکریسی کی نوکر شاہی کے ذریعے عوام کے وسائل اور اختیارات کو کنٹرول کرنے کا نظام ختم کیا جائے۔ ضلعی حکومت، ٹاؤن اور تحصیل حکومت کا نظام بحال کیا جائے۔ بااختیار مقامی حکومت کا ڈھانچہ صوبے اور عوام دونوں کے مفاد میں ہے۔