اکتوبر 31, 2026

علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری ،خواتین اور نوجوانوں کے لیے بیداریِ عمل کا سرچشمہ

تحریر : محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

علامہ محمد اقبالؒ برصغیر کی فکری تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جس نے غلام ذہنوں میں آزادی کا چراغ جلایا۔ وہ شاعر بھی تھے، مفکر بھی، اور سب سے بڑھ کر ایک ایسے دردمند انسان جو امتِ مسلمہ کی روحانی و اخلاقی زبوں حالی پر تڑپ اٹھے۔ اقبالؒ نے شاعری کو مقصدِ حیات کا وسیلہ بنایا اور اپنے افکار کے ذریعے نوجوانوں اور خواتین دونوں کو دینِ اسلام کے حقیقی پیغام اور وطن کی خدمت کے جذبے سے روشناس کرایا۔اسی فکر کو اجاگر کرنے کے لیے راقم الحروف محمد مظہررشید چودھری کی میزبانی میں سماجی تنظیم ’ماڈا‘ اوکاڑہ (رجسٹرڈ )کے دفتر میں علامہ محمد اقبالؒ کے یومِ پیدائش کے موقع پر ایک فکری آگاہی پروگرام منعقد ہوا۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی سماجی و قانونی شخصیت مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ہائی کورٹ تھیں جو مسلم لیگ (ن) شعبہ خواتین اوکاڑہ کی ضلعی صدر ہیں اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق سینئر نائب صدر رہ چکی ہیں۔پروگرام کا آغاز کلامِ اقبالؒ سے ہوا، جس نے محفل میں ایک روحانی فضا پیدا کر دی۔ راقم الحروف نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد اقبال ؒ کا فلسفہ خودی دراصل انسان کو اپنی باطنی قوت، ایمان اور عمل کے شعور سے آشنا کرتا ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک خودی کا مفہوم غرور نہیں بلکہ خودشناسی ہے ،اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا، اپنی منزل طے کرنا اور اپنے خالق کے حضور جواب دہی کا احساس پیدا کرنا۔مس صائمہ رشید نے اپنے خطاب میں کہا’اقبالؒ نے ہمیں یہ سکھایا کہ ایمان، علم اور عمل کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ جو شخص اپنی خودی کو پہچان لے، وہ کسی طاقت کے سامنے جھک نہیں سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ اقبالؒ کی شاعری صرف مردوں کے لیے نہیں بلکہ خواتین کے لیے بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اقبالؒ نے عورت کو ملت کی روح اور تربیت گاہِ انسانیت قرار دیا۔مس صائمہ رشید نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کے نزدیک عورت کا کردار معاشرتی زندگی کی بنیاد ہے۔ وہ صرف گھر کی زینت نہیں بلکہ ایک ایسی تربیت گاہ ہے جہاں سے نسلوں کی فکری تعمیر ہوتی ہے۔ اقبالؒ نے عورت کو علم، اخلاق اور کردار کے لحاظ سے معاشرے کی قوتِ محرکہ قرار دیا۔اقبالؒ کے یہ اشعار خواتین کے مقام کو واضح کرتے ہیں ”وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں“انہوں نے کہا کہ اقبالؒ کی فکر میں عورت کو نہ مغربی آزادی کی مصنوعی چمک میں ڈھالا گیا اور نہ مشرقی جبر میں دبایا گیا، بلکہ اسے ایک متوازن کردار دیا گیا جو اپنے ایمان، حیا، اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے نئی نسلوں کو سنوارتی ہے۔راقم الحروف نے اس موقع پر کہا کہ آج کے دور میں خواتین کو اقبالؒ کے پیغام کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ اگر خواتین اپنے کردار اور تربیت کے ذریعے بچوں کے دلوں میں خودی، ایمانی غیرت اور خدمتِ وطن کا جذبہ پیدا کریں تو یہ قوم کبھی پستی میں نہیں رہے گی۔پروگرام کے دوسرے حصے میں گفتگو نوجوانوں کے حوالے سے ہوئی۔ اقبالؒ نے نوجوانوں کو ہمیشہ’ قوم کا سرمایہ، امید اور بنیاد‘ قرار دیا۔ ان کے نزدیک نوجوان وہ شاہین ہیں جو بلند پروازی اور خود اعتمادی کا استعارہ ہیں۔”خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے“اقبالؒ کا نوجوان وہ ہے جو حالات سے گھبراتا نہیں، جو اپنی منزل کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے اور اپنی طاقت ایمان سے حاصل کرتا ہے۔آج کے نوجوان کو موبائل، سوشل میڈیا اور مصنوعی خواہشات کے دھارے میں بہنے کے بجائے اقبال ؒکے شاہین بننے کی ضرورت ہے۔ وہ شاہین جو پہاڑوں کی بلندیوں پر اڑتا ہے، جو بلندی کے سامنے تھک کر نہیں بیٹھتا۔مس صائمہ رشید نے کہاآج کے نوجوان اگر اقبالؒ کی فکر کو سمجھ لیں تو وہ مایوسی سے نکل کر امید، عمل اور ایمان کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو ترقی کی راہ پر لے جانے کے لیے ہمیں اقبالؒ کے شاہین درکار ہیں، نہ کہ محض خواب دیکھنے والے نوجوان۔علامہ اقبالؒ نے تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان سازی کا عمل کہا۔ ان کے نزدیک علم وہ ہے جو انسان کو خدا سے قریب کرے، قوم کے کام آئے، اور معاشرے میں روشنی پھیلائے۔ آج جب ہمارا تعلیمی نظام مغربی تقلید کے بوجھ تلے دب چکا ہے، ہمیں اقبال ؒکے تصورِ تعلیم کی طرف لوٹنا ہوگا جو ایمان، اخلاق اور کردار پر استوار ہے۔راقم الحروف نے کہا کہ اقبالؒ نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ صرف خواب دیکھنا کافی نہیں، بلکہ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت، قربانی اور استقامت درکار ہے۔”ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں“یہ اشعار نوجوانوں کو جمود سے نکال کر مسلسل ترقی اور تخلیقی جدوجہد کا پیغام دیتے ہیں۔اقبالؒ کے نزدیک قوموں کی بیداری عورت اور نوجوان کی باہمی قوت سے جنم لیتی ہے۔ ایک طرف باشعور اور باکردار مائیں ہوں، دوسری طرف خوددار اور محنتی نوجوان، تو کوئی طاقت ایسی قوم کو پست نہیں کر سکتی۔مس صائمہ رشید نے کہا کہ اگر خواتین اقبالؒ کی تعلیمات کو اپنی گھریلو زندگی میں اپنائیں اور نوجوان ان اصولوں کو میدانِ عمل میں لے آئیں، تو پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔”عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے“یہ اشعار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تقدیر محض دعا سے نہیں بلکہ عمل سے بدلتی ہے۔پروگرام کے اختتام پر راقم الحروف نے کہا کہ اقبالؒ کا خواب محض ایک جغرافیائی وطن نہیں تھا بلکہ ایک ایسی فکری و اخلاقی ریاست تھی جو ایمان، عدل اور علم پر قائم ہو۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اقبال ؒکے خوابوں کی تعبیر بنے تو ہمیں اپنی سوچ، تعلیم، سیاست اور معیشت سب کو اقبالؒ کے پیغام سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔یہ اجتماع ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ اقبال ؒ کا پیغام آج بھی زندہ ہے ،ہمیں صرف اس پر چلنے کی ہمت چاہیے۔ خواتین اگر ملت کی تربیت گاہ بن جائیں اور نوجوان اقبالؒ کے شاہین کی طرح بلند پرواز کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان ترقی، امن اور وقار کی نئی بلندیوں کو نہ چھوئے۔اقبالؒ کی شاعری محض ادب نہیں، ایک انقلاب ہے۔ یہ فکر، ایمان، خودی اور عمل کا ایسا مجموعہ ہے جو ہر فرد کو بیدار کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اقبالؒ کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں ،گھروں میں، تعلیمی اداروں میں، دفتروں میں، اور اپنے اجتماعی رویوں میں۔ اقبالؒکا پیغام ہے ”افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا“ علامہ اقبال ؒکے یہ الفاظ آج بھی ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم خواب نہ دیکھیں بلکہ ان خوابوں کی تعبیر بنیں ، دین، وطن اور انسانیت کے لیے۔