جہلم(چوہدری دانیال عابد) ڈرائیونگ ٹیسٹ موت کے کنویں میں چلنے والی گاڑی گزشتہ ہفتے ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لیے آنے والے 16امیدوار ٹریفک پولیس کے شعبہ لاسنسنگ برانچ نے ہر امیدوار سے گاڑی ٹیسٹ کے فی امیدوار 5 سوروپے وصول کرلیے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کیلیے آنے والے امیدوار سراپاء احتجاج ڈی آئی جی ٹریفک پولیس نے نوٹس لینے اور کار آمد گاڑی لاسنسنگ برانچ کو مہیا کرنے کا مطالبہ کر دیا تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس لاسنسنگ برانچ کے ذمہ داران نے موٹر کار کے حصول کے لیے ٹیسٹ دینے والے امیدواروں سے فی امید وار 5سو روپے وصول کرنے شروع کر رکھے ہیں،ٹیسٹ کے لیے آنے والے امیدواروں نے میڈ یا نمائندگان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ شعبہ لاسنسنگ برانچ کے ذمہ داران نے ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لیے جو مہران گاڑی پولیس لائن میں کھڑی کر رکھی ہے نہ تو اس کی بریک کام کرتی ہے اور نہ ہی گیرکام کرتا ہے مکینکل گاڑی میں درجنوں نقص موجود ہیں لیکن لاسنسنگ برانچ کا عملہ گاڑی کا کام کروانے کی بجائے ڈنگ ٹپاؤ مال بناؤ پالیسی پر گامزن ہے جو کہ حصول لائسنس کے لیے آنے والے نوجوانوں کے ساتھ سخت زیادتی کے مترادف ہے نوجوانوں نے ڈی آئی جی ٹریفک پولیس مرزا فاران بیگ،ڈی پی او جہلم ناصر محمود باجوہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک پولیس کے شعبہ لاسنسنگ برانچ کے ذمہ داران کو گاڑی کی دیکھ بال اور ڈرائیونگ ٹیسٹ کی فیس 5سو روپے وصول کرنے کی بجائے غیر معمولی کمی کی جائے تاکہ بے روزگار نوجوان ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے بعد اپنے ضعیف العمر والدین اور بہن بھائیوں کے لیے رزق حلال کما سکیں۔





