تحریر: مفتی اکرام اللہ واحدی، کراچی
ایل جی بی ٹی کیو چند دہائیاں پہلے شروع ہونے والی ایک کمیونٹی کا مخفف لفظ ہے جو دنیا میں پھیلا اور پھیلتا جا رہا ہے۔جس میں جنس کی کوئی شناخت نہیں رکھی جاتی اور شعائر اسلام و اخلاق کا بیڑہ غرق کرنا ان کا مقصد عظیم ہے۔ دور جدید کے فتنوں سے ایک ایسا فتنہ جس کے بارے ہمارے دینی و اخلاقی طبقے کو آگاہ کرنا ضروری ہے کیونکہ اس کی حساسیت ایسی ہے کہ جس سے نسل نو تباہ اور اخلاقیات کا جنازہ نکل جاتا ہے۔نوجوان نسل اس کا بہت تیزی سے شکار ہو رہی ہے جس میں اہم کردار ادا کرنے والے مسلم دشمن اور غدار ملت پیش پیش ہیں۔
ملت کفریہ اس بھیانک منصوبہ کو مسلم معاشرے میں عام کرنے کے لیے عرصہ دراز سے کوشاں ہے اور مختلف ناموں سے مختلف تنظیمات و اداروں کے ذریعے بے بہا پیسہ خرچ کر کے اسے عام کر رہے ہیں۔لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ ہمارا اسلامی معاشرہ خصوصا دینی طبقہ اس موقع پر کہاں کھڑا ہے؟ ان کی تقاریر، وعظ ونصیحت، قلم، درس و تدریس کا موضوع کیا ہے؟
تعجب و حیرانگی اس وقت ہوتی ہے جب اس بارے ہمارے اخلاقی و دینی حلقہ کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ یہ چیز کیا ہے کس بلا کا نام ہے۔ اس سے ہو کیا رہا ہے اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔میں مختصرا یہ کوشش کروں گا کہ اس کا معنی و مفہوم اردو زبان میں واضح کر سکوں تاکہ ہمارے اس طبقہ کو اس خطرناک چیز بارے آگاہی ہو سکے اور اس پر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی نسل کا تحفظ کر سکیں۔
”ایل جی بی ٹی کیو“ پانچ حروف پر مشتمل چند الفاظ کا مخفف ہے جبکہ اب اس میں ایک اور لفظ ”اے“ بھی شامل ہو چکا ہے جس کے بعد اس کی تعداد چھ عدد حرف پر ہو چکی ہے۔ جس کا سادہ الفاظ میں معنی یہ ہے کہ ایل سے مراد LESBIAN یعنی ہم جنس پرستی یہ الفاظ عام طور پر ان خواتین سے متعلق بولا جاتا ہے جو آپس میں جنسی تعلق قائم کرتی ہیں یعنی عورت کا تعلق عورت سے یہ سیدھی سادی نسل کشی ہے اور غیر اسلامی و غیر شرعی حرکت ہے لیکن اسے بہت زیادہ پرموٹ کیا جاتا ہے یہاں تک کہ ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر بھی باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے۔
اس کا دوسرا لفظ ”جی“ ہے یعنی GAY جس کا اردو میں مطلب ہم جنس پرستی ہے لیکن یہ خاص مردوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ یعنی مرد کا مرد سے جنسی تعلق قائم کرنا۔ اس کام کے کرنے والی سابقہ قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہو چکا ہے جس کا قرآن مجید میں تفصیل سے ذکر ہے اور ہم اس قوم کو قوم لوط سے جانتے ہیں۔ اس خطرناک غیر شرعی و غیر اخلاقی حرکات پر اللہ کی ناراضگی سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن اسے بھی باقاعدہ طور پر ہمارے معاشرے کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ تیسرا لفظ ”بی“ ہے یعنی BISEXUAL جس کا مطلب ہے مرد و عورت دونوں کو مائل کرے یا دونوں کی طرف مائل ہو۔ آسان الفاظ میں اس کا معنی یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ جنسی تسکین کے لیے مرد و عورت دونوں میں دلچسپی رکھے۔
یعنی کہ پہلا اور دوسرا لفظ ملکر اس کا معنی واضح کرتے ہیں۔ چوتھا لفظ ”ٹی“ ہے یعنی کہ TRANSGENDERجس کا مطلب ہے مخنث، خواجہ سرا، یعنی نہ مرد ہے نہ عورت چند سال پہلے ان پر ایک ایکٹ بھی پاکستان میں زیر بحث تھا جس کی تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں۔
اسلام نے مخنث کے حقوق بھی بیان کیے ہیں لیکن جو کچھ ہمارے ہاں ہو رہا ہے وہ قطعاً اسلامی نہیں ہے بلکہ اب تو لوگ خود سے اپنے آپ کو ہیجڑہ بنانے پر لگے ہوئے ہیں کیونکہ پیسہ آسانی سے میسر ہو جاتا ہے اور یہ سب روشن خیالی اور میری مرضی کے تحت ہو رہا ہے۔
پانچواں لفظ ”کیو“ ہے یعنی QUEERجس کا لغوی مطلب تو ہے: عجیب، انوکھا، بے ڈھنگا۔ لیکن یہاں اس کا مطلب ہے کہ ابھی مجھے پتہ نہیں کہ میں کیا ہوں میرے جنسی خیالات کیا ہیں کہ میں شاید عورتوں کی طرح ہوں یا شاید مردوں کی طرح۔چھٹا لفظ ”اے“ ہے۔ یعنی ANYTHING ELSEجس کا معنی ہے: اور کچھ۔اس کو ابھی حال ہی میں اس کمیونٹی میں شامل کیا گیا ہے اس لیے یہ عام فہم بالکل نہیں ہے بلکہ جدید ہونے کے ساتھ قابل تفہیم بھی ہے۔
آسان الفاظ میں اگر اس کو واضح کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہیں تو انسان مرد لیکن آپ کا رجحان عورتوں والا ہے یا آپ کہتے ہیں کہ میری روح یا میرا رجحان کسی جانور سے ملتا ہے یعنی اپنے آپ کو انسان سے ہی گرا دینا صرف اس لیے کہ میرے احساسات و رجحانات اس طرف ہیں۔ اس سے بندہ صرف انسان سے ہی نہیں گرتا بلکہ پوری انسانیت سے ہی گر جاتا ہے۔
جون کا مہینہ انہوں نے اپنے لیے خاص کیا ہوا ہے اسے بھرپور طریقہ سے مناتے ہیں اپنے آپ کو پروموٹ کرتے ہیں اپنا پیغام دنیا میں پھیلاتے ہیں اور ان کا مخصوص جھنڈا بھی بنا ہوا ہے جو کہ ہمیں آج کل عام مارکیٹ میں بچوں کے کھلونوں تک پر بنا نظر آ جائے گا کیونکہ اسے غیر محسوس طریقہ سے لوگوں کے ذہنوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ اور اس کا دارومدار سارے کا سارا اس بات پر ہے کہ میں آزاد ہوں میری زندگی ہے میری مرضی ہے میں اسے جس طرح بھی گزاروں۔ یعنی کہ اس چکر باز نعرہ کے بدلے انسانیت سے بھی جاؤ اور اسلام سے بھی،اس سب کی اجازت شریعت اسلامیہ قطعا نہیں دیتی نہ یہ آزادی ہے نہ اس سے کچھ حاصل ہوتا ہے سوائے اس کے کہ بندہ سے بندر بن جایا جائے۔
اسلام کی بات اگر نہ بھی کی جائے تو اچھا معاشرہ اسکی قطعا اجازت نہیں دیتا لیکن کیا کیا جائے اس مغرب کا جس کے پیچھے لگنا آج کل کا فیشن بن چکا ہے اور جسے ترقی دنیا سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز تباہ کرنے پر بضد ہے اور تباہ کیے جا رہے۔ اسے سمجھنا ہوگا، دوسروں کو آگاہ کرنا ہوگا اور اس کی حساسیت کو جان کر آگاہی مہم کا بھرپور آغاز کیا جانا چاہیے تاکہ معاشرے کا تحفظ کر سکیں۔




