ستمبر 13, 2026

پاکستان میں عوامی جلسے سے خطاب کرنا چاہتا تھا، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اسلام آباد سے لاہور پہنچ گئے۔ وہ مختلف مقامات کا دورہ کریں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے علامہ اقبال ایئرپورٹ پر ایرانی صدر کا پرتپاک استقبال کیا اور مہمانوں کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر پرویز رشید، وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری، وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن سمیت دیگر حکام ایئرپورٹ پر موجود تھے۔اس موقع پر ایرانی قونصل جنرل مہران مواحدفر اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔بعدازاں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی مزار اقبال بھی گئے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے جنگ میں فلسطینی کامیاب ہوں گے، غزہ سے متعلق اصولی مؤقف پر پاکستان کو سراہتے ہیں، اپنی قوم اور اپنے مجاہدوں پر بہت ناز ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان آکر اجنبیت کا بالکل احساس نہیں ہوا، پاکستان کے لوگوں میں ایران کے ساتھ خاص وابستگی پائی جاتی ہے، پاکستان کے لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں، پاکستان اور ایران کے دل ہمیشہ ایک ساتھ جڑے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی شخصیت ہمارے لیے بہت اہم ہے، علامہ اقبال نے پیغام دیا کہ کیسے استعمار کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عوامی جلسے سے خطاب کرنا چاہتا تھا، کچھ وجوہات کی وجہ سے عوامی جلسے سے خطاب ممکن نہ ہو پایا۔واضح رہے کہ ابراہیم رئیسی کی لاہور آمد پر آج شہر میں عام تعطیل ہے۔لاہور میں آج سرکاری و نجی ادارے بند ہیں، ایرانی صدر کے آنے پر شہر کی مخصوص سڑکیں بند رکھی جائیں گی۔ایران کے صدر ابراہیم رئیسی دورۂ لاہور کے بعد کراچی جائیں گے جہاں وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دیں گے۔واضح رہے کہ ایران کے صدر کل سے پاکستان کے دورے پر ہیں۔