اکتوبر 31, 2026

پیسہ ضروری ہے، مگر کیا سب کچھ ہے؟

از قلم : فیصل جنجوعہ

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ دور میں پیسہ بنیادی ضروریات پوری کرنے، بچوں کو تعلیم دلانے اور بہتر علاج حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ لیکن مسئلہ پیسہ کمانے میں نہیں، بلکہ اسے زندگی کا واحد مقصد بنا لینے میں ہے۔ جب دولت انسان کی پہچان، عزت اور برتری کا معیار بن جائے تو رشتے مفادات کی نذر ہونے لگتے ہیں، احساسِ ذمہ داری کمزور پڑ جاتا ہے اور انسان دوسروں کو ان کے کردار کے بجائے ان کی مالی حیثیت سے پرکھنے لگتا ہے۔ ہم بچوں کو کامیاب ہونے کے لیے تو کہتے ہیں، مگر انہیں یہ نہیں سمجھاتے کہ کامیابی کے ساتھ اچھا انسان بننا بھی ضروری ہے۔ ہم انہیں زیادہ کمانے کی ترغیب دیتے ہیں، لیکن حلال کمانے، دیانت داری اختیار کرنے اور ضرورت مندوں کا حق ادا کرنے کی تربیت پر کتنی توجہ دیتے ہیں. ہم زبان سے تندرستی کو عظیم نعمت تسلیم کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں اپنی صحت کو مسلسل نظر انداز کرتے ہیں۔ بے ترتیب معمولات، غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی، ذہنی دباؤ اور نیند سے غفلت ہماری زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ پھر جب صحت جواب دینے لگتی ہے تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ دولت ہونے کے باوجود انسان کتنا بے بس ہو سکتا ہے۔ تنقیدی سوال یہ ہے کہ کیا صحت کی اہمیت صرف بیماری کے وقت یاد آنی چاہیے؟ اگر ہم واقعی تندرستی کو رزق سمجھتے ہیں تو ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اس کی حفاظت کو ترجیح دینی ہوگی. ہم سب نیک، فرمانبردار اور باکردار اولاد کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن کیا ہم اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں؟ بچوں سے ادب، سچائی، برداشت اور احترام کی توقع رکھنے والے والدین خود اپنے رویوں کا جائزہ لینے کے لیے کتنے تیار ہیں؟ اگر گھر میں جھوٹ، بدزبانی، نمودونمائش، دوسروں کی تضحیک اور ناجائز فائدہ اٹھانے کو معمول سمجھا جائے تو بچوں میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کیسے پیدا ہوں گی؟ اولاد کی تربیت محض نصیحتوں سے نہیں، عملی مثالوں سے ہوتی ہے۔ والدین کا کردار، گھر کا ماحول اور تعلیمی اداروں کی تربیت مل کر بچے کی شخصیت بناتے ہیں۔ اولاد کی نیکی والدین کے لیے بڑی نعمت ہے، لیکن بچوں کی کامیابی کو صرف والدین کی تربیت کا نتیجہ اور ان کی ناکامی کو صرف والدین کی غلطی قرار دینا بھی درست نہیں۔ تربیت کے ساتھ معاشرتی ماحول، ذاتی فیصلے اور زندگی کے حالات بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں اللہ کی رضا، نیکی اور دیانت داری کی باتیں بہت کی جاتی ہیں، مگر اصل امتحان عملی زندگی میں ہوتا ہے۔ اگر ہم عبادت بھی کریں، لیکن دوسروں کے حقوق پامال کریں؛ رزقِ حلال کی بات بھی کریں، مگر کاروبار میں دھوکا دیں؛ احترام کا درس بھی دیں، مگر کمزور انسان کی تذلیل کریں، تو ہمیں اپنے رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اللہ کی رضا کا راستہ محض دعووں سے نہیں، بلکہ نیت کی درستگی، حقوق العباد کی ادائیگی، دیانت داری، انصاف اور خدمتِ خلق سے بھی وابستہ ہے۔ ہمیں دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے کردار کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ معاشرتی دوغلے پن کا خاتمہ ضروری ہے. ہم ایک طرف قناعت کی تعریف کرتے ہیں اور دوسری طرف نمودونمائش کی دوڑ میں شامل رہتے ہیں۔ ایک طرف سادگی کو پسندیدہ قرار دیتے ہیں، دوسری طرف دوسروں کی مالی حیثیت دیکھ کر ان کی عزت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک طرف نیک اولاد کی خواہش کرتے ہیں، دوسری طرف بچوں پر اخلاقی تربیت کے مقابلے میں مادی کامیابی کا دباؤ زیادہ ڈالتے ہیں۔ یہی تضاد ہماری اصلاح کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ معاشرے صرف خوب صورت نعروں سے نہیں بدلتے؛ تبدیلی اس وقت آتی ہے جب فرد اپنے قول اور فعل کے درمیان فاصلے کو کم کرتا ہے۔ رزق کے مختلف پہلوؤں کو تسلیم کرنا اچھی بات ہے، مگر محض ایک خوب صورت قول دہرانے سے معاشرتی اصلاح ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے طرزِ زندگی، بچوں کی تربیت، مالی ترجیحات اور دوسروں کے ساتھ اپنے رویوں کا تنقیدی جائزہ لیں۔دولت کمائیں، مگر دیانت داری کے ساتھ۔ ترقی کریں، مگر اخلاق کی قیمت پر نہیں۔ اولاد کو تعلیم دیں، مگر کردار سازی کو نظر انداز کرکے نہیں۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں، رشتوں کی قدر کریں اور دوسروں کی عزت کو ان کی مالی حیثیت سے مشروط نہ کریں۔معاشرے کا اصل زوال غربت سے نہیں، بلکہ اس سوچ سے شروع ہوتا ہے جو دولت کو کردار سے، ظاہری کامیابی کو حقیقی خوش حالی سے اور زبانی دعووں کو عملی زندگی سے زیادہ اہمیت دینے لگتی ہے۔