از قلم : فیصل جنجوعہ
بچپن کے امتحانات میں ایک سوال اکثر پوچھا جاتا تھا: ’’اپنے پسندیدہ استاد پر مضمون لکھیں۔‘‘ تب ہم چند خوبصورت جملے لکھ کر سمجھتے تھے کہ استاد کے بارے میں سب کچھ بیان کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس عمر میں استاد کی اصل قدر و قیمت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ کبھی کبھی تو استاد ہمیں ایک ایسی شخصیت محسوس ہوتا تھا جس سے بچنا ہی بہتر ہے۔ ہوم ورک، ڈانٹ، سوالات، ٹیسٹ اور نظم و ضبط—یہ سب اُس وقت ہمیں استاد کی سختی دکھاتے تھے، اُس کی محبت اور مقصد نہیں۔ پھر وقت گزرا، عمر بڑھی، زندگی نے اپنے امتحانات لیے اور استاد کے حقیقی معنی سمجھ آنے لگے۔ تب احساس ہوا کہ جس شخصیت کی ڈانٹ ہمیں ناگوار گزرتی تھی، وہ دراصل ہماری اصلاح کے لیے تھی؛ جس استاد کی پابندی ہمیں بوجھ لگتی تھی، وہ ہمیں زندگی کی پابندی سکھا رہا تھا؛ اور جس کے سوالات سے ہم گھبراتے تھے، وہ ہمیں آنے والی زندگی کے سوالات کا سامنا کرنے کے قابل بنا رہا تھا۔ استاد کی عظمت کو الفاظ کے ترازو میں تولا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک حقیقی ترقی، خوشحالی اور تہذیبی بلندی حاصل نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے اساتذہ کو عزت، احترام، وقار اور معاشرتی اہمیت نہیں دیتی۔ عمارتیں، سڑکیں اور پل قومیں نہیں بناتے؛ قومیں انسان بناتے ہیں، اور انسان بنانے کا بنیادی فریضہ استاد انجام دیتا ہے۔ استاد وہ واحد پیشہ ور ہے جو دوسرے تمام پیشوں کو جنم دیتا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، سائنس دان، افسر، تاجر، صحافی، سیاست دان اور حتیٰ کہ ایک اچھا استاد بھی کبھی کسی استاد ہی کی درسگاہ سے نکلتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ جو شخص معاشرے کے ہر شعبے کے معمار پیدا کرتا ہے، خود اس کی عزت اور مقام کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ استاد کی عظمت کو تسلیم تو کرتا ہے، مگر عملی طور پر اس مقام کے تقاضے پورے کرنے میں اکثر ناکام دکھائی دیتا ہے۔ ہم اپنے بچوں سے بہترین نتائج چاہتے ہیں، مگر استاد کو وہ ماحول، اعتماد اور احترام دینے کے لیے ہمیشہ تیار نہیں ہوتے جس میں وہ بہترین نتائج پیدا کر سکے۔ ہم استاد سے کردار چاہتے ہیں، مگر کبھی اپنے رویوں سے اس کے کردار کو مجروح کرتے ہیں۔ ہم استاد سے تربیت چاہتے ہیں، مگر خود تربیت کی اہمیت بھول جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ استاد بچوں میں نظم و ضبط پیدا کرے، مگر جب استاد نظم و ضبط نافذ کرتا ہے تو بعض اوقات سب سے پہلے اسی کے خلاف شکایت آتی ہے۔ یہ رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ استاد صرف کتاب کا سبق نہیں پڑھاتا، وہ زندگی کا سبق بھی پڑھاتا ہے۔ وہ صرف حروف نہیں جوڑتا، شخصیت بناتا ہے۔ وہ صرف امتحان کی تیاری نہیں کرواتا، زندگی کے امتحانات کے لیے ذہن تیار کرتا ہے۔ وہ صرف نمبر نہیں بڑھاتا، سوچ کا معیار بلند کرتا ہے۔ایک اچھا استاد دھات کو کندن، پتھر کو ہیرا، بنجر زمین کو زرخیز اور صحرا کو گلستان بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں صرف چاک اور کتاب نہیں ہوتی، بلکہ ایک پوری نسل کا مستقبل ہوتا ہے۔ استاد کی کامیابی یہ نہیں کہ اس کا شاگرد صرف اچھے نمبر حاصل کرے؛ استاد کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کا شاگرد اچھا انسان، ذمہ دار شہری، باکردار فرد اور معاشرے کے لیے مفید انسان بنے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم استاد کو صرف ’’ملازم‘‘ سمجھنے کے بجائے قوم کا معمار سمجھیں۔ اس کی محنت کو صرف تنخواہ کے پیمانے سے نہ ناپیں، اس کے مقام کو صرف نتائج کی فہرست سے نہ پرکھیں اور اس کی عظمت کو صرف سالانہ تقریب میں چند تعریفی جملوں تک محدود نہ کریں۔ کیونکہ استاد کی محنت کا اصل نتیجہ اکثر برسوں بعد سامنے آتا ہے۔ کسی استاد کا پڑھایا ہوا سبق شاید طالب علم کو اسی دن یاد نہ رہے، مگر اس کی دی ہوئی تربیت، اس کا اعتماد، اس کی نصیحت اور اس کی شخصیت کا اثر پوری زندگی ساتھ چل سکتا ہے۔ استاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو؛ وہ انمول ہے، اس لیے کہ وہ انسان بناتا ہے۔ وہ عظیم ہے، اس لیے کہ وہ نسلیں سنوارتا ہے۔ اور وہ قابلِ احترام ہے، اس لیے کہ اس کی محنت سے معاشروں کا مستقبل تشکیل پاتا ہے۔ اگر آج ہم واقعی ایک مہذب، تعلیم یافتہ اور کامیاب قوم دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اساتذہ کے مقام کو بلند کرنا ہوگا۔ کیونکہ جس معاشرے میں استاد باوقار ہوتا ہے، وہاں تعلیم باوقار ہوتی ہے، اور جہاں تعلیم باوقار ہو، وہاں مستقبل روشن ہوتا ہے۔ استاد کی عظمت بیان کرنے کے لیے شاید الفاظ ہمیشہ کم پڑ جائیں، مگر دل سے نکلنے والی ایک دعا کافی ہے، اے اللہ! ہر اس استاد کو عزت، صحت، خوشی اور سکون عطا فرما جو خاموشی سے نسلوں کا مستقبل سنوار رہا ہے۔ آمین۔




