اکتوبر 28, 2026

ایک چالان سے بڑا سوال

تحریر: محمد انور بھٹی

سوشل میڈیا پر آج ایک ایسی خبر گردش کر رہی ہے جس نے دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ ایک ڈرائیور کو دس ہزار روپے کا چالان کیا گیا اور مبینہ طور پر اس نے غصے میں آکر دو ٹریفک پولیس اہلکاروں کو گولی مار دی اور اس کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔ اس خبر کی مکمل حقیقت اور اس کے تمام محرکات کی تصدیق اپنی جگہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن اس خبر نے ہمارے سامنے ایک ایسا سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے جس سے ہم آنکھیں نہیں چرا سکتےہیں آخر ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے اور ہم بحیثیت انسان ایک دوسرے کے ساتھ کہاں کھڑے ہیں۔ ایک چالان اگر کسی انسان کے ہاتھ میں بندوق دے دے تو مسئلہ صرف چالان کا نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے ایک پوری ذہنی کیفیت ایک پورا معاشرتی ماحول ایک بڑھتا ہوا اضطراب اور برداشت کے کم ہوتے ہوئے دائرے کی کہانی چھپی ہوتی ہے۔ ہمیں اس واقعے کو صرف ایک ڈرائیور کی غلطی کہہ کر آگے نہیں بڑھ جانا چاہیے اور نہ ہی صرف پولیس اہلکاروں کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنے دل کو مطمئن کر لینا چاہیے بلکہ ہمیں اس سوال کی تہہ تک جانا ہوگا کہ وہ کون سے حالات ہیں جو ایک انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جہاں اسے اپنی جان بھی عزیز نہیں رہتی اور دوسرے کی جان بھی اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔ انسان جب غصے میں آتا ہے تو اس کا شعور چند لمحوں کے لیے دھندلا سکتا ہے لیکن انسان کو انسان بنانے والی اصل خوبی یہی ہے کہ وہ ان چند لمحوں پر قابو پانے کی صلاحیت پیدا کرے۔ ایک مہذب معاشرے میں قانون ضروری ہے کیونکہ قانون کے بغیر معاشرہ طاقتور اور کمزور کے درمیان ایک ایسی جنگ بن جاتا ہے جس میں انصاف کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتاہے لیکن قانون کا احترام صرف شہری کی ذمہ داری نہیں بلکہ قانون بنانے والے اور قانون نافذ کرنے والے دونوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ قانون اگر شہری کو نظم سکھاتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے کا رویہ اسے قانون سے جوڑتا بھی ہے اور کبھی کبھی بدقسمتی سے قانون سے متنفر بھی کر سکتا ہے۔ ایک شہری کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ قانون توڑے یا کسی اہلکار پر ہاتھ اٹھائے یا کسی کی جان لے لیکن ایک اہلکار کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ قانون کی طاقت کو کسی شہری کی تذلیل کا ذریعہ بنائے۔ ریاست کی طاقت اگر شائستگی کے ساتھ استعمال ہو تو شہری کے دل میں اعتماد پیدا کرتی ہے اور اگر وہ تحقیر سخت کلامی غیر ضروری سختی اور بے جا دباؤ کے ساتھ استعمال ہو تو وہی طاقت دلوں میں خوف کے ساتھ ساتھ نفرت بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے قانون نافذ کرنے والے ہر ادارے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وردی صرف اختیار کی علامت نہیں بلکہ برداشت شائستگی صبر اور ذمہ داری کی بھی علامت ہے۔ ٹریفک پولیس کا کام صرف چالان کرنا نہیں بلکہ سڑک پر نظم قائم کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص ٹریفک قانون توڑتا ہے تو اسے قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے لیکن کارروائی کے ساتھ انسانی احترام بھی باقی رہنا چاہیے۔ ایک چالان ضرور کیا جائے مگر انسان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ ضرور ہو مگر ایسے الفاظ نہ بولے جائیں جو سامنے والے انسان کو اپنی توہین محسوس ہوں۔ ایک اہلکار اگر سخت لہجے کے بجائے سمجھانے کا انداز اختیار کرے تو ممکن ہے ایک ایسا شہری جو قانون سے ناراض تھا وہ قانون کا احترام کرنا شروع کر دے۔ اسی طرح ایک شہری اگر چالان پر اعتراض رکھتا ہے تو اسے گالی دینے دھمکی دینے یا ہاتھ اٹھانے کے بجائے قانونی طریقہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ ریاست نے اختلاف کے لیے راستے بنائے ہیں اور مہذب انسان اختلاف کے باوجود حدود نہیں توڑتا۔ لیکن اس پورے معاملے میں قانون بنانے والوں کے لیے بھی ایک بہت بڑا سبق ہے۔ قانون صرف کاغذ پر لکھی ہوئی شقوں کا نام نہیں بلکہ وہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہونے والی حقیقت ہے۔ جب قانون بنایا جائے تو یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس کا بوجھ ایک عام مزدور ایک رکشہ ڈرائیور ایک چھوٹا کاروبار کرنے والا ایک بزرگ شہری یا ایک غریب خاندان کس طرح برداشت کرے گا۔ جرمانے اور سزائیں قانون کی ضرورت ہو سکتی ہیں مگر قانون کا مقصد شہری کو کچلنا نہیں ہونا چاہیے۔ ایسی سختیاں جو اصلاح کے بجائے انسان کو مایوسی اور بے بسی کی طرف دھکیل دیں ان کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔ ریاست کو نظم بھی قائم کرنا ہے اور شہری کو اپنے ساتھ جوڑے بھی رکھنا ہے۔ قانون ایسا ہونا چاہیے جس کے پیچھے انصاف دکھائی دے نہ کہ صرف طاقت۔ چالان ایسا ہونا چاہیے جو خلاف ورزی روکنے کا ذریعہ بنے نہ کہ شہری کے لیے ذلت کا احساس پیدا کرے۔ اہلکار کا لہجہ ایسا ہونا چاہیے جس سے شہری کو معلوم ہو کہ ریاست اس کے خلاف نہیں بلکہ معاشرے کے نظم کے لیے اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسی طرح شہری کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ غربت مہنگائی پریشانی روزگار کا دباؤ گھریلو مسائل یا ذاتی غصہ کسی دوسرے انسان کی جان لینے کا جواز نہیں بن سکتا۔ اگر ہر شخص اپنی پریشانی کا بدلہ سامنے کھڑے انسان سے لینے لگے تو پھر معاشرہ معاشرہ نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا میدان بن جاتا ہے جہاں ہر شخص دوسرے کے خلاف کھڑا نظر آتا ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہماری زبان کتنی سخت ہو گئی ہے۔ گھر میں باپ بیٹے سے ناراض ہے بھائی بھائی سے ناراض ہے استاد شاگرد سے ناراض ہے دکاندار گاہک سے الجھ رہا ہے ڈرائیور مسافر سے الجھ رہا ہے اہلکار شہری سے الجھ رہا ہے اور سوشل میڈیا پر تو اختلاف اکثر گالی اور تضحیک تک پہنچ جاتا ہے۔ ہم اختلاف کرنا بھول گئے ہیں اور مقابلہ کرنا سیکھ گئے ہیں۔ ہم سمجھانا بھول گئے ہیں اور سنانا سیکھ گئے ہیں۔ ہم بات ختم کرنے کے بجائے انسان کو ختم کرنے والی زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہی رویہ آہستہ آہستہ ہمارے اجتماعی مزاج کو سخت کر رہا ہے۔ انسان کی برداشت بھی ایک حد رکھتی ہے۔ مسلسل معاشی دباؤ مسلسل بے یقینی مسلسل بے عزتی کا احساس مسلسل جھگڑے مسلسل خوف اور مسلسل ذہنی تھکن انسان کو اندر سے توڑ سکتے ہیں لیکن یہاں ایک نہایت اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ کسی انسان کا اندر سے ٹوٹ جانا دوسرے انسان کی جان لینے کا جواز نہیں بنتا۔ اس کے برعکس معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ایسے ٹوٹے ہوئے انسان کو سنبھالنے کے راستے پیدا کرے۔ ہمیں اپنے اداروں میں شکایت کے آسان راستے چاہئیں۔ ہمیں ایسے نظام چاہئیں جہاں ایک عام آدمی اپنی بات عزت کے ساتھ کہہ سکے۔ اسے یہ خوف نہ ہو کہ اگر وہ شکایت کرے گا تو اسے مزید ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تربیت میں صرف قانون اور کارروائی نہیں بلکہ انسانی نفسیات صبر گفتگو تنازع کے پرامن حل اور غصے کو قابو کرنے کی تربیت بھی شامل کرنی چاہیے۔ ایک اہلکار کو یہ سکھایا جانا چاہیے کہ سامنے والا شخص صرف ایک خلاف ورزی کرنے والا نہیں بلکہ ایک انسان ہے جس کے پیچھے ایک خاندان ایک گھر ایک روزگار اور کئی پریشانیاں ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح شہری کو بھی یہ سکھایا جانا چاہیے کہ وردی پہننے والا اہلکار بھی ایک انسان ہے اس کے بھی جذبات ہیں اس کے بھی گھر والے ہیں اور وہ بھی کسی ماں کا بیٹا کسی بچے کا باپ کسی بہن کا بھائی اور کسی خاندان کا سہارا ہو سکتا ہے۔ اختلاف کے ایک لمحے میں ہمیں سامنے والے کی پوری انسانیت دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شاید یہی احساس ہمیں بہت سے سانحات سے بچا سکتا ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آج کا انسان پہلے کی نسبت زیادہ معلومات رکھتا ہے مگر شاید پہلے کی نسبت زیادہ بے چین بھی ہے۔ ہر وقت خبریں ہر وقت بحث ہر وقت مقابلہ ہر وقت معاشی فکر اور ہر وقت دوسروں سے اپنے آپ کو بہتر ثابت کرنے کی دوڑ نے ہمارے اندر سکون کم کر دیا ہے۔ ہم چند سیکنڈ میں غصے میں پیغام بھیج دیتے ہیں چند لمحوں میں کسی کو برا بھلا کہہ دیتے ہیں اور کبھی کبھی چند لمحوں میں ایسا فیصلہ کر بیٹھتے ہیں جس کی سزا پوری زندگی بھگتنا پڑتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ قانون توڑو گے تو سزا ملے گی بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ قانون کیوں ضروری ہے اور غصے میں خود پر قابو رکھنا کیوں ضروری ہے۔ ہمیں انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ کسی سے اختلاف ہو تو ایک قدم پیچھے ہٹ جانے کو شکست نا سمجھا جائے بلکہ عقل مندی سمجھاہے۔ خاموش ہو جانا بزدلی نہیں بلکہ بعض اوقات سب سے بڑی بہادری ہے۔ چند منٹ انتظار کر لینا کمزوری نہیں بلکہ ایک پوری زندگی کو بچانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر کسی اہلکار کا رویہ برا لگا تو شکایت کریں۔ اگر چالان غلط محسوس ہوا تو اپیل کریں۔ اگر قانون نا مناسب محسوس ہوا تو قانونی اور آئینی راستہ اختیار کریں۔ لیکن اپنے ہاتھ میں قانون لینے کا اختیار کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ اور ریاستی اداروں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اختیار جتنا بڑا ہو ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔ ایک عام شہری کی غلطی شاید ایک فرد تک محدود رہ جائے لیکن ایک سرکاری اہلکار کی غیر ضروری سختی پورے ادارے کے بارے میں شہری کے ذہن میں ایک تاثر پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے اختیار کے ساتھ تحمل ضروری ہے اور قانون کے ساتھ انسانیت ضروری ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں قانون سے خوف نہیں بلکہ قانون پر اعتماد ہو۔ جہاں پولیس کو دیکھ کر شہری صرف جرمانے کا تصور نہ کرے بلکہ تحفظ کا احساس کرے۔ جہاں اہلکار شہری کو صرف ایک نمبر یا ایک چالان نہ سمجھے بلکہ ایک انسان سمجھے۔ جہاں شہری اہلکار کو اپنا دشمن نہ سمجھے بلکہ ریاست کا ذمہ دار نمائندہ سمجھے۔ جہاں قانون بنانے والے قانون کے معاشرتی اثرات کو سمجھیں اور قانون نافذ کرنے والے قانون کی روح کو سمجھیں۔ جہاں جرمانہ اصلاح کا ذریعہ ہو انتقام کا نہیں۔ جہاں گفتگو مسئلہ حل کرے اور بندوق صرف ایک خبر بن کر رہ جائے جسے سن کر پورا معاشرہ کانپ اٹھے کہ ہم کہاں پہنچ گئے ہیں۔ ہمیں ہر ایسے واقعے کے بعد صرف چند دن افسوس نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے رویوں کا احتساب بھی کرنا چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ شہری قانون کا احترام کریں تو قانون کو بھی شہری کی عزت کا احترام کرنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ غصے میں ہاتھ نہ اٹھائیں تو ہمیں بھی اپنی زبان کو قابو میں رکھنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کوئی انسان اپنی جان سے مایوس نہ ہو تو ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں شکایت کے لیے دروازے کھلے ہوں جہاں انسان کی بات سنی جائے جہاں اسے مسلسل ذلت کا احساس نہ ہو اور جہاں اختلاف کا انجام دشمنی نہ بنے۔ زندگی بہت قیمتی ہے۔ ایک چالان ختم ہو سکتا ہے ایک جرمانہ ادا ہو سکتا ہے ایک شکایت درج ہو سکتی ہے ایک فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے ایک غلطی کی تلافی ہو سکتی ہے مگر جو جان چلی جائے وہ واپس نہیں آتی۔ ایک گولی صرف ایک جسم کو نہیں چھیدتی بلکہ کئی خاندانوں کے دل میں ایسا زخم چھوڑ جاتی ہے جو برسوں نہیں بھرتا۔ اس لیے ہمیں اپنے معاشرے میں ایک نئی روایت قائم کرنا ہوگی کہ غصے میں فیصلہ نہیں کریں گے۔ توہین محسوس ہو تو جواب میں توہین نہیں کریں گے۔ اختلاف ہو تو قانون کا راستہ اختیار کریں گے۔ اہلکار ہوں تو اختیار کے ساتھ شائستگی اختیار کریں گے۔ قانون بنائیں تو انسان کی زندگی اور حالات کو سامنے رکھیں گے۔ قانون نافذ کریں تو انسان کی عزت کو قانون کی روح سمجھیں گے اور شہری ہوں تو اپنی جان اور دوسرے کی جان کو برابر قیمتی سمجھیں گے۔ شاید آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت کسی نئے قانون سے پہلے ایک نئے رویے کی ہے۔ ایسا رویہ جس میں طاقت کے ساتھ رحم ہو قانون کے ساتھ انصاف ہو اختلاف کے ساتھ برداشت ہو اور انسان کے ساتھ انسانیت ہو۔ ہمیں اپنے معاشرے کو اس مقام سے واپس لانا ہوگا جہاں چند لمحوں کا غصہ موت کا فیصلہ بن جاتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایسا پاکستان چھوڑنا ہے جہاں قانون بھی مضبوط ہو اور دل بھی نرم ہوں جہاں ریاست کا اختیار بھی قائم ہو اور شہری کی عزت بھی محفوظ ہو جہاں سزا بھی قانون کے مطابق ہو اور لہجہ بھی انسانیت کے مطابق ہو۔ یاد رکھیے ایک چالان زندگی سے بڑا نہیں ایک جرمانہ عزت نفس سے بڑا نہیں ایک اختلاف انسانی جان سے بڑا نہیں اور چند لمحوں کا غصہ پوری زندگی سے بڑا نہیں۔ انسان زندہ رہے گا تو اصلاح کا راستہ ہمیشہ کھلا رہے گا لیکن ایک بار زندگی ختم ہو جائے تو نہ معافی کام آتی ہے نہ پچھتاوا نہ دلیل نہ احتجاج۔ اس لیے اپنے لیے بھی رک جائیں اور دوسرے کے لیے بھی رک جائیں۔ بولنے سے پہلے سوچیں۔ فیصلہ کرنے سے پہلے ٹھہریں۔ غصے میں ایک قدم پیچھے ہٹیں اور یاد رکھیں کہ اصل بہادری کسی کو زیر کرنا نہیں بلکہ اپنے غصے کو زیر کرنا ہے۔ یہی ایک انسان کی جیت ہے اور یہی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔