ستمبر 19, 2026

کتاب پڑھانے والے بہت، انسان بنانے والے کتنے؟

از قلم : فیصل جنجوعہ

تعلیمی اداروں میں استاد کو عموماً اس بنیاد پر پرکھا جاتا ہے کہ وہ کتنی اچھی طرح سبق پڑھاتا ہے، کتنے طلبہ امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرتے ہیں اور کتنا نصاب وقت پر مکمل ہوتا ہے۔ لیکن ایک بنیادی سوال اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے: کیا استاد کا کام صرف نصاب مکمل کرنا ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو پھر ہم ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں ڈگریاں تو ہوں گی، مگر کردار کمزور؛ معلومات تو ہوں گی، مگر شعور محدود؛ ہنر تو ہوگا، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور۔ حقیقت یہ ہے کہ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ شخصیت پڑھتا اور بناتا ہے۔
استاد کی تین قسمیں
استادوں کو ان کے کردار اور اثرات کے اعتبار سے تین سطحوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلا استاد صرف پڑھاتا ہے۔ وہ کتاب کھولتا ہے، سبق پڑھاتا ہے، سوالات حل کرواتا ہے، ہوم ورک دیتا ہے اور امتحان کی تیاری کراتا ہے۔ اس کی ذمہ داری زیادہ تر کلاس روم اور نصاب تک محدود رہتی ہے۔ دوسرا استاد پڑھانے کے ساتھ سمجھاتا اور سکھاتا ہے۔
وہ طالب علم کی ذہنی سطح کو سمجھتا ہے، مشکل تصور کو آسان بناتا ہے، سوال پوچھنے کی عادت پیدا کرتا ہے اور رٹے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسا استاد طالب علم کو صرف جواب نہیں دیتا بلکہ جواب تلاش کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ تیسرا استاد اصل معنوں میں معمارِ انسان ہوتا ہے۔ وہ تعلیم کے ساتھ تربیت، تربیت کے ساتھ کردار اور کردار کے ساتھ عملی زندگی کی تیاری کرتا ہے۔ وہ طالب علم کو اس کی عمر، صلاحیت اور ذہنی سطح کے مطابق زندگی کے مسائل سے نمٹنا سکھاتا ہے۔ یہی استاد ذہن سازی کرتا ہے۔استاد کا اپنا کردار ہی سب سے بڑا سبق ہے اگر استاد وقت کا پابند نہیں تو وقت کی پابندی کا سبق بے اثر ہو جاتا ہے۔ اگر استاد نظم و ضبط کی اہمیت بیان کرے مگر خود اس پر عمل نہ کرے تو الفاظ اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔ اگر استاد گفتار میں اخلاق کی بات کرے مگر کردار میں سختی، تحقیر یا ناانصافی نظر آئے تو طالب علم کتاب نہیں بلکہ عملی رویہ سیکھے گا۔ شاگرد استاد کی صرف بات نہیں سنتا، استاد کو دیکھتا بھی ہے۔ استاد کی سیرت، گفتار، کردار، لباس، رویہ، تحمل، دیانت، وقت کی پابندی اور ذمہ داری—یہ سب شاگرد کے لیے خاموش سبق ہیں۔ اسی لیے استاد کی شخصیت خود ایک زندہ نصاب ہے۔ آج تعلیم کے میدان میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات کامیابی کو صرف نمبروں، گریڈز اور نتائج کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ یقیناً اچھے نتائج اہم ہیں، مگر کیا 90 فیصد نمبر لینے والا طالب علم لازماً ذمہ دار، باکردار، بااعتماد، بااخلاق اور عملی زندگی کے لیے تیار بھی ہوتا ہے؟ یہ سوال تعلیمی اداروں، والدین اور اساتذہ سب کو اپنے سامنے رکھنا ہوگا۔ ایک ایسا نوجوان جو مسئلہ حل کر سکے، دلیل سے بات کر سکے، اختلاف برداشت کر سکے، وقت کی قدر کرے، محنت سے نہ گھبرائے، ناکامی سے سیکھے، دوسروں کا احترام کرے اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرے—یہی حقیقی تعلیمی کامیابی ہے۔ استاد کو صرف مضمون کا ماہر نہیں، انسان کا معمار بننا ہوگا، ایک اچھا ریاضی کا استاد ریاضی سمجھاتا ہے، ایک اچھا سائنس کا استاد سائنس سمجھاتا ہے، ایک اچھا زبان کا استاد زبان سکھاتا ہے۔ لیکن ایک عظیم استاد ان سب کے ساتھ زندگی بھی سکھاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کامیابی صرف ذہانت سے نہیں، مستقل مزاجی سے بھی ملتی ہے۔
وہ سمجھاتا ہے کہ ناکامی اختتام نہیں بلکہ اصلاح کا موقع ہے۔ وہ سکھاتا ہے کہ وقت ضائع کرنا دراصل زندگی کا ایک حصہ ضائع کرنا ہے۔ وہ یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ وہ طالب علم کو صرف ملازمت کے قابل نہیں بلکہ معاشرے کا مفید فرد بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ آج ضرورت استاد کی نہیں، "استاد ہونے” کی ہے ہر وہ شخص جو کلاس روم میں کھڑا ہے استاد کہلانے کا حق ضرور رکھتا ہے، مگر استاد ہونے کا حقیقی مقام کردار، علم، تربیت اور اثر سے پیدا ہوتا ہے۔ قومیں صرف نصاب سے نہیں بنتیں۔ قومیں ایسے اساتذہ سے بنتی ہیں جو اپنے شاگردوں میں مقصد پیدا کرتے ہیں، سوال پیدا کرتے ہیں، خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں، کردار پیدا کرتے ہیں اور انہیں عملی زندگی کے لیے تیار کرتے ہیں۔ کیونکہ آج کا طالب علم کل کا ڈاکٹر، انجینئر، استاد، افسر، کاروباری شخص، صحافی، والد، ماں اور معاشرے کا ذمہ دار شہری ہوگا۔ آج استاد جس ذہن کی تعمیر کرے گا، کل وہی ذہن معاشرے کی تعمیر کرے گا۔اسی لیے یہ بات محض شعر نہیں، ایک قومی حقیقت ہے:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
لہٰذا سوال صرف یہ نہیں کہ ہمارے اسکولوں میں کتنے استاد پڑھا رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے، کتنے استاد ایسے ہیں جو پڑھانے کے ساتھ سمجھا رہے ہیں؟ کتنے سمجھانے کے ساتھ تربیت کر رہے ہیں؟ اور کتنے ایسے ہیں جو اپنے شاگردوں کو ایک باشعور، باکردار، ماہر، ہنرمند اور ذمہ دار انسان بنانے کو اپنا اصل مشن سمجھتے ہیں؟ اگر ہم نے اس سوال کا جواب تلاش نہ کیا تو ہم نسلوں کو صرف معلومات دیتے رہیں گے، شعور نہیں؛ ڈگریاں دیتے رہیں گے، کردار نہیں؛ اور امتحان پاس کرواتے رہیں گے، زندگی نہیں۔ استاد کا اصل کمال یہ نہیں کہ اس کے شاگرد اسے یاد رکھیں؛ اصل کمال یہ ہے کہ اس کے شاگرد اس کی دی ہوئی تربیت سے اپنی زندگی اور معاشرے کو بہتر بنا دیں۔