اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آئی پور (IPOR) کے حالیہ عوامی سروے میں پاکستان کی ملکی سلامتی اور درپیش چیلنجز سے متعلق عوامی آراء کے اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔ سروے کے مطابق 23 فیصد پاکستانیوں نے بیرونی سازشوں اور غیر ملکی ایجنسیوں کی مداخلت کو ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے، جبکہ 21 فیصد افراد نے بھارت اور افغانستان کے باہمی گٹھ جوڑ کو ملکی امن کے لیے بڑا چیلنج سمجھا۔ اس کے علاوہ 21 فیصد رائے دہندگان نے دہشت گردوں کی مقامی سطح پر سہولت کاری کو اور 12 فیصد افراد نے انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کے لیے درکار وسائل کی کمی کو ملکی سلامتی کے لیے اہم خطرہ قرار دیا ہے۔
سروے میں غیر ملکی این جی اوز (NGOs) اور تھنک ٹینکس کی پاکستان سے متعلق جاری کردہ مختلف رپورٹس کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ 43 فیصد پاکستانیوں نے ان عالمی رپورٹس کو مبالغہ آرائی اور خاص غیر ملکی ایجنڈے کے تابع قرار دے کر رد کر دیا، جبکہ دوسری جانب 25 فیصد افراد کا ماننا تھا کہ یہ رپورٹس حقیقت پر مبنی ہیں۔ مزید برآں، ملک میں منشیات کے مسلسل بڑھتے ہوئے استعمال کی خبروں پر پاکستانی عوام میں شدید تشویش پائی گئی ہے، جہاں 90 فیصد پاکستانیوں نے اس صورتحال پر سخت پریشانی کا اظہار کیا، البتہ 6 فیصد افراد نے اسے غير حقیقی اور بلاوجہ کی تشویش قرار دیا ہے۔





