تحریر: ڈاکٹر تصور حسین مرزا
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے اگر ایسا پیچیدہ طریقہ کار اختیار کیا جائے جو عام شہری کی سمجھ سے بالاتر ہو تو اس پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ غریب آدمی کو ریلیف حاصل کرنے کے لیے مزید مشکلات میں ڈالنا ریلیف نہیں۔
حکومت اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اس کا سب سے سادہ، شفاف اور مؤثر راستہ یہ ہے کہ پٹرول کی مجموعی قیمت میں براہِ راست کمی کی جائے۔ سبسڈی دینی ہے تو ایسی دی جائے جس کا فائدہ ہر خاص و عام کو ملے، نہ کہ صرف مخصوص افراد ایک مشکل طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ چھوٹی گاڑی ہو یا موٹر سائیکل، شہری ہو یا دیہی، غریب ہو یا متوسط طبقہ، پٹرول استعمال کرنے والا ہر شخص مہنگائی کے اثرات برداشت کر رہا ہے، اس لیے ریلیف بھی آسان، براہِ راست اور غیر پیچیدہ ہونا چاہیے۔
دوسرا اہم مسئلہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی ہے۔ اگر ماہانہ بنیاد پر قیمت مقرر کرنا ممکن نہیں تو کم از کم 15 دن کا واضح وقفہ ضرور ہونا چاہیے۔ قیمت میں استحکام سے ٹرانسپورٹرز کو کرایہ نامے مرتب کرنے، متعلقہ اداروں کو سرکاری نرخ نامے جاری کرنے اور عوام کو اپنے اخراجات کی منصوبہ بندی کرنے میں سہولت ملے گی۔ قیمتیں بار بار بدلیں گی تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے ضروریہ اور دیگر اخراجات میں بھی مسلسل تبدیلی آئے گی۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ آمدن وہیں رہے گی اور اخراجات مسلسل بڑھتے جائیں گے۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی مجموعی قیمت میں حقیقی اور براہِ راست کمی کی جائے، سبسڈی کا فائدہ کسی مخصوص طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے عام صارف تک پہنچایا جائے، چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے نام پر پیچیدہ طریقہ کار ختم کیا جائے، اگر ماہانہ قیمت مقرر کرنا ممکن نہیں تو کم از کم 15 دن تک قیمت مستحکم رکھی جائے اور پٹرولیم قیمتوں میں تبدیلی کے لیے ایک واضح اور قابلِ پیش گوئی نظام بنایا جائے۔ پٹرول کی قیمت میں تبدیلی کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں اور سرکاری نرخ ناموں کے لیے بھی واضح طریقہ کار مقرر کیا جائے۔
عوام کو ایسے ریلیف کی ضرورت نہیں جس کے لیے پہلے درخواستیں، تصدیقیں اور پیچیدہ مراحل طے کرنے پڑیں۔ عوام کو پٹرول پمپ پر کم قیمت چاہیے، کاغذوں میں ریلیف نہیں۔ حکومت اگر عوام کی مشکلات واقعی کم کرنا چاہتی ہے تو جمع تفریق کے پیچیدہ کھیل کے بجائے ایک آسان، شفاف اور براہِ راست ریلیف پالیسی اختیار کرے۔ غریب پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اس لیے ریلیف کے نام پر مزید پیچیدگی پیدا کرنا کسی مذاق سے کم نہیں۔





