نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے حکومت کی جانب سے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف پیکج کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا متبادل قرار دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان آئی پی پیز اور پیٹرولیم لیوی پر تفصیلی اور تکنیکی گفتگو ہوئی، جس میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر توانائی اویس لغاری نے بریفنگ دی۔ لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ لیوی کے خاتمے سے عوام کو فی لیٹر 103 روپے تک کا حقیقی ریلیف مل سکتا ہے، جبکہ حکومت کا حالیہ ریلیف پیکج محض ایک دھوکا ہے۔
مذاکراتی عمل کی تفصیلات بتاتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیر توانائی نے آئی پی پیز کے معاملے پر اپنا موقف پیش کیا اور حکومت نے تسلیم کیا کہ جماعت اسلامی کے گزشتہ احتجاجی تحریک کے باعث 54 آئی پی پیز کے معاملات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے عملدرآمد نہ کیا تو جماعت اسلامی کا اعلان کردہ لانگ مارچ 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ہر صورت پیش قدمی کرے گا۔ یاد رہے کہ مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی کے خلاف ملک بھر میں جماعت اسلامی کے دھرنے اور احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔





