اگست 6, 2026

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا، ایران اور عمان عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے

امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ "ایگزیوس” کی رپورٹ کے مطابق دو علاقائی ذرائع اور ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کے بعد سامنے آنے والے اس ممکنہ معاہدے کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو بحال کرنا اور جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کا آغاز کرنا ہے۔ ممکنہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کے انتظام سے متعلق ایران کے بعض مطالبات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ عمان اور ایران کے درمیان 60 روزہ عارضی انتظام طے پانے کا امکان ہے جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عبوری انتظام کے تحت خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہاز ایرانی حدود سے گزرنے والی شمالی لین استعمال کریں گے، جبکہ بحیرہ عرب کی جانب جانے والی ٹریفک عمانی حدود سے گزرنے والی جنوبی لین کے ذریعے ایران کی مشاورت سے روانہ ہوگی۔ اس مدت کے دوران کسی قسم کی فیس یا ٹول وصول نہیں کیا جائے گا۔ فریقین 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کی درمیانی لین سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے پر بھی کام کریں گے، جس کے بعد اسے مستقل انتظامات کے تحت استعمال کیا جا سکے گا۔ مذاکرات میں عمان اور ایران کے علاوہ قطری، پاکستانی اور سعودی حکام نے بھی ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس بھی مذاکرات میں شریک رہا۔ ذرائع کے مطابق ایرانی قیادت نے معاہدے کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا ہے۔