تحریر: الیاس محمد حسین
سوشل میڈیا پرایک صاحب نے جو سوال اٹھایا ہے سوچیں تو اس میں بڑا دم ہے لیکن یہ دور ِ حاضرکا سب سے بڑا سوال ہے جس کا تسلی بخش جواب سے قلبی اطمینان ہوسکتاہے کہ ڈاکٹر آخر کس بنیاد پر مریضوں کو ہائی کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی بیماری یا گردے کی بیماری کا مریض قرار دے دیتے ہیں؟یہ معیار کون طے کرتا ہے؟
آئیے اس پر تھوڑا سی ریسرچ کرکے دیکھیں تو کئی مزید سوالات جنم لیں گے مثلاً 1979 میں شوگر کی سطح 250 mg/dl کو ذیابیطس سمجھا جاتا تھا اس وقت دنیا کی صرف 3.5% آبادی ٹائپ 2 ذیابیطس میں شمار ہوتی تھی پھر 1997 میں انسولین بنانے والی کمپنیوں کے دباؤ میں آکر ذیابیطس کی حد۔ 200 mg/dl تک گرا دی گئی، جس سے اچانک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3.5% سے 8% ہو گئی یعنی 4.5% زیادہ لوگوں کو بغیر کسی اصل علامت کے ذیابیطس کا لیبل لگا دیا گیا ہے نہ حیرت کی بات کہ اس اقدام سے شوگر کے مریضوں کی تعداد میں ہزاروں کااضافہ ہوگیا بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی 1999 میں دوا ساز کمپنیوں کے اصرار پر 126 کردیا گیا اسی سال عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اس گائیڈلائن کو قبول کر لیا جس سے انسولین کمپنیوں کی چاندی ہوگئی انہوں نے بھاری منافع کمایا اور مزید فیکٹریاں کھول لیں جبکہ 2003 میں امریکن ڈائیبیٹز ایسوسی ایشن (ADA) نے فاسٹنگ شوگر کی سطح کو 100 mg/dl تک کم کر کے پری ڈائیبیٹک کا معیار اپنالیا گیا جس کے نتیجے میں 27% لوگ بلاوجہ ذیابیطس کے زمرے میں آ گئے یعنی جو شوگر کے مریض نہ تھے ان پر بھی ٹھپہ لگ گیا اور نفسیاتی طور پر وہ بھی مریض بن کر شوگرکی ادویات استعمال کرنے لگ گئے مطلب جتنے زیادہ مریض اتنی ہی ادویات کا استعمال۔فارماسوٹیکل کمپنیوں نے عوام میں خوف و ہراس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سینکڑوں طرزکی ذیابیطس کی ادویات بنانا شروع کردیں ڈاکٹروں اور فارماسوٹیکل کمپنیوں کے وارے نیارے ہوگئے فی الحال، ADA کے مطابق کھانے کے بعد شوگر 140 mg/dl کو ذیابیطس سمجھا جاتا ہیاس کی وجہ سے، دنیا کی تقریباً 50% آبادی کو اب ذیابیطس کا لیبل لگ چکا ہے جن میں سے کروڑوں کو واقعی یہ مرض لاحق نہیں یا وہ سرے سے بیمار ہی نہیں ہیں اب شنیدہے کہ بھارتی دوا ساز کمپنیاں اسے مزید کم کر کے HbA1c 5.5% کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاکہ مزید لوگوں کو مریض بنا کر دواؤں کی فروخت بڑھائی جا سکے اب بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ HbA1c 11% تک کو ذیابیطس نہیں سمجھنا چاہیے لیکن ڈاکٹر اپنی من پسند فارماسوٹیکل کمپنیوں کی ادویات کے نسخے لکھ لکھ کر اپنے لئے بے تحاشہ مراعات حاصل کرتے جارہے ہیں کسی کو ترس نہیں آتا لگتاہے ڈاکٹروں اور فارماسوٹیکل کمپنیوں کے مالکان کے دل میں رحم نام کی کوئی چیز نہیں یہ بات قابل ِ غور ہے کہ 2012 میں ایک بڑی دوا ساز کمپنی پر امریکی سپریم کورٹ نے 3 بلین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا.. ان پر الزام تھا کہ 2007–2012 کے درمیان، ان کی تیارکردہ ذیابیطس کی دوا نے دل کے دورے کا خطرہ 43% تک بڑھا دیا تھا حالانکہ اس کے برے اثرات کا کمپنی کو یہ پہلے سے معلوم تھا لیکن منافع کمانے کے لالچ میں اس حقیقت کو جان بوجھ کر چھپایا گیا اس عرصے میں انہوں نے 300 بلین ڈالر کا منافع کمایا۔ یہ ہے آج کا”جدید ترین میڈیکل سسٹم” ہے آپ سوچیں اور غور کرنا شروع کریں کہ آج کی تیزرفتار ترقی،نت نئی ریسرچ اور بے انتہا وسائل کے باوجود بیشتر ڈاکٹر اور سینکڑوں، ہزاروں فارماسوٹیکل کمپنیاں لوگوں کو کتنابے وقوف بنا رہی ہیں جس کا انڈازہ لگانا بھی ممکن نہیں اب شوگر کے امراض کا ہی لے لیجئے معالجین کا اصرارہے کہ ادویات پوری زندگی ہی کھانا پڑیں گی ویسے یہ بھی سننے میں آرہاہے کہ شوگر کو ہمیشہ ہمیشہ ختم کرنے کے لئے بھی تحقیق کی جارہی ہے لیکن
کون جیتاہے توی زلف کے سر ہونے تک
سرے دست تو حالات یہ ہیں کہ مریضوں میں بیماری کا خوف اس قدر طاری کردیا گیاہے کہ وہ دوا کھانے میں ہی اپنی عافیت سمجھنے لگے ہیں یہی وجہ ہے کہ اپنے ادھر ادھر دیکھیں کتنے میڈیکل سٹور، بڑی بڑی فارمیسیاں کھل گئی ہیں جہاں دوا لینے واوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں دراصل عام آدمی نفسیاتی طور پر دب کررہ گیا ہے زیادہ تر لوگوں کو معاشرے کا ہر وقت ڈرلگارہتاہے ماں باپ بھائی کے علاج کے لئے ذراسی تاخیربھی محلے داروں، پڑوسیوں اور رشتے دار وں کو طعنے دینے کا موقعہ فراہم کردیتی ہے دوسرا مہنگے علاج سے مریض اور اس کے لواحقین مطمئن ہوتے ہیں خواہ ایساعلاج کراتے بیٹے مقروض ہو جائیں یا گھر کے برتن بک جائیں آپ ا س بارے میں کیا کہتے ہیں؟




