اگست 2, 2026

یاروں کا یار رخصت ہوگیا، مگر کئی سوال چھوڑ گیا

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

زندگی بعض اوقات ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی موجودگی صرف ان کے خاندان یا سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ اپنے علاقے کی شناخت بن جاتی ہیں۔ جب ایسی شخصیت اچانک دنیا سے رخصت ہو جائے تو صرف ایک گھر نہیں، ایک شہر سوگوار ہو جاتا ہے۔اوکاڑہ کے معروف کاروباری، سیاسی اور سماجی رہنما چودھری محمد عبداللہ طاہر آرائیں کی اچانک موت بھی ایسا ہی سانحہ ہے، جس نے پورے ضلع اوکاڑہ کو غم میں مبتلا کر دیا۔ 29 جولائی 2026 کو لاہور کے علاقے گلبرگ میں معمول کے طبی معائنے کے لیے جانے والے چودھری عبداللہ طاہر نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ اپنے ڈرائیور کے ہمراہ’ احسن وارث ہومیوپیتھک کلینک‘ پہنچے تھے کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار آئے، فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں چودھری عبداللہ طاہر موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ ڈاکٹر ریاض خان زخمی ہوئے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مقدمہ مرحوم کی والدہ کی مدعیت میں درج کر لیا گیا اور متعلقہ ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس مرحلے پر یہی مناسب ہے کہ حتمی نتائج سامنے آنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔30جولائی کو الرحمت حویلی اوکاڑہ میں ہونے والی نمازِ جنازہ اور اس کے بعد چک 32/2L کے آبائی قبرستان تک کا منظر شاید برسوں تک اوکاڑہ کے لوگوں کے ذہنوں میں تازہ رہے گا۔ ہزاروں افراد، جن میں سیاسی رہنما، سماجی و مذہبی شخصیات، وکلاء، صحافی، کاروباری حضرات، کارکن، اہلِ دیہہ، عزیز و اقارب اور عام شہری شامل تھے، اپنے محبوب ساتھی کو آخری الوداع کہنے کے لیے جمع ہوئے۔ ہر طرف اداسی تھی، ہر آنکھ نم تھی، اور ہر زبان پر مرحوم کے لیے دعا تھی۔چودھری عبداللہ طاہر کا تعلق اوکاڑہ کے آرائیں خاندان سے تھا۔ 2018 کے عام انتخابات میں انہوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر پی پی188 سے انتخاب لڑا۔ وہ کامیاب تو نہ ہو سکے، تاہم تقریباً ڈھائی ہزار ووٹوں کے معمولی فرق نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے حلقے میں مضبوط عوامی حمایت رکھتے تھے۔ انتخابی شکست کے باوجود انہوں نے سیاست کو اقتدار کا نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی کاموں اور فلاحی سرگرمیوں میں مسلسل متحرک رہے۔2024 کے انتخابات میں وہ NA136 (اوکاڑہ) سے PTI ٹکٹ کے امیدوار تھے، لیکن بعد میں پارٹی نے راؤ حسن سکندر کو نامزد کیا؛ انہوں نے پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا۔مرحوم صرف سیاست تک محدود نہیں تھے۔ کاروباری میدان میں بھی ان کا نمایاں مقام تھا۔ ریت کی ٹھیکیداری سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ رہے، جبکہ زراعت اور لائیو اسٹاک میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کے فارم ہاؤس پر اعلیٰ نسل کے گھوڑے، بھینسیں، ہرن اور باغات موجود تھے، جو ان کے ذوق اور دیہی زندگی سے وابستگی کی عکاسی کرتے تھے۔چودھری عبداللہ طاہر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کو اپنی سماجی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ کرکٹ، کبڈی اور دیگر دیہی کھیلوں کے ٹورنامنٹس کا انعقاد، کامیاب کھلاڑیوں کی سرپرستی اور انعامات کی تقسیم ان کی شخصیت کا اہم پہلو تھا۔

وہ سمجھتے تھے کہ مصروف اور مثبت سرگرمیوں میں شامل نوجوان ہی معاشرے کا روشن مستقبل ہوتے ہیں۔خاندانی زندگی میں بھی وہ ایک ذمہ دار شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ عوامی طور پر دستیاب معلومات کے مطابق ان کے دو بیٹے، چھ بیٹیاں اور تین ازواج تھیں۔ انہیں جاننے والے اکثر ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک، انصاف اور ذمہ داری کے رویے کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کی والدہ سے محبت بھی مثالی تھی۔ قریبی افراد کے مطابق وہ اکثر کسی نئے کاروبار یا منصوبے کا افتتاح اپنی والدہ کے ہاتھوں کرواتے تھے اور ان کی دعا کو اپنی کامیابی کا سرمایہ سمجھتے تھے۔بطور صحافی میری، یعنی محمد مظہر رشید چودھری کی، چودھری عبداللہ طاہر کے ساتھ تقریباً 16سال پر محیط رفاقت رہی۔ مقامی سیاست، عوامی مسائل اور انتخابی معاملات پر انہوں نے مجھے متعدد خصوصی انٹرویوز دیے۔ اختلافِ رائے کے باوجود وہ ہمیشہ احترام کے دائرے میں گفتگو کرتے۔ وہ مجھے محبت سے ’بھائی جان‘ جبکہ میری بہن مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کو ’باجی‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ ان کے اس خلوص اور عاجزی کو بھلانا آسان نہیں ہوگا۔ان کی زندگی مسلسل آزمائشوں سے بھی عبارت رہی۔ 19 جولائی 2001 کو ان کے چھوٹے بھائی چودھری سیف اللہ طاہر ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ اس کے بعد 7 اگست 2012 کو ان کے والد چودھری رحمت اللہ بھی ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے۔ خاندان کی جانب سے مختلف اوقات میں یہ موقف سامنے آتا رہا کہ ان دونوں اموات کو محض حادثہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، تاہم ان دعوؤں کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ گزشتہ برس(2025) ان کے آبائی ڈیرے پر ہونے والے خونریز حملے نے بھی اس خاندان کو شدید صدمہ پہنچایا، اور اب چودھری عبداللہ طاہر کے قتل نے غم کی ایک اور داستان رقم کر دی۔یہ سانحہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے بھی ایک سوال ہے۔ جب ایک معروف سیاسی و سماجی شخصیت دن دہاڑے فائرنگ کا نشانہ بنتی ہے تو عوام کی نظریں ریاستی اداروں پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ تحقیقات غیر جانبدارانہ، شفاف اور تیز رفتار ہوں، تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں اور اگر کوئی مجرم ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملے۔ انصاف صرف متاثرہ خاندان کا حق نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کی بنیاد بھی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ کسی بھی سانحے کے فوراً بعد افواہوں، غیر مصدقہ اطلاعات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں سے محتاط رہنا چاہیے۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا یہی ہے کہ صرف تصدیق شدہ معلومات عوام تک پہنچائی جائیں اور تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی نتیجے پر نہ پہنچا جائے۔چودھری عبداللہ طاہر اب اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن ان کی سیاسی جدوجہد، سماجی خدمات، نوجوانوں کی سرپرستی، اپنے دوستوں سے خلوص اور والدہ سے محبت کی داستانیں ان کے چاہنے والوں کی یادوں میں زندہ رہیں گی۔ اوکاڑہ نے ایک ایسا نوجوان کھو دیا ہے جسے بہت سے لوگ محبت سے ’یاروں کا یار‘ کہتے تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم چودھری محمد عبداللہ طاہر آرائیں کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی والدہ، اہلِ خانہ، بچوں، دوستوں اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور متعلقہ اداروں کو اس افسوسناک واقعے کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کی توفیق دے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور قانون کی عملداری پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔آمین٭