امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل امریکا میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے، اور یہ ایک واضح حقیقت ہے۔ امریکی پوڈکاسٹر جو روگن سے گفتگو کرتے ہوئے وینس نے تسلیم کیا کہ اگرچہ اسرائیل امریکا کا اتحادی ہے، لیکن وہ امریکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی بھرپور کوشش کرتا ہے، اور اس معاملے میں وہ کافی مؤثر بھی ہے۔
امریکی میڈیا کے حالیہ سروے کے مطابق امریکا میں اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں کی شرح صرف 32 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 39 فیصد لوگ منفی رائے رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرز، بالخصوص نوجوانوں میں اسرائیل کی حمایت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
JD Vance exposes Israel:
— Clash Report (@clashreport) July 15, 2026
Israel is losing the public opinion battle in the United States of America. It is a simple and obvious fact.
Donald Trump has said that publicly. It's a simple and obvious fact.
Source: Joe Rogan Experience pic.twitter.com/EHxa2Rxqoe
جے ڈی وینس نے جیفری ایپسٹین کے حوالے سے بھی سنسنی خیز انکشافات کیے اور دعویٰ کیا کہ ایپسٹین کے امریکی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی انٹیلی جنس کے عناصر سے بھی گہرے روابط تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایپسٹین کے اسرائیلی سیاست کے بائیں بازو کے حلقوں سے زیادہ قریبی تعلقات تھے، جبکہ امریکا میں اس کی رسائی ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے بااثر افراد تک تھی۔
ایران کے حوالے سے جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ تنازع کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ سفارت کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجے گا اور ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ صرف ایک عارضی حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور تیل و گیس کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانا ہے۔ وینس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں بھاری رقوم خرچ کیں، تاہم وہ ہر حال میں امریکی مفادات کو ترجیح دیں گے۔





