جولائی 14, 2026

عدلِ فاروقی: جب ایک حکمران راتوں کو اپنی رعایا کی بھوک پر جاگتا تھا (دوسرا اور آخری حصہ)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عظمت صرف اس بات میں نہیں تھی کہ وہ ایک عظیم فاتح تھے، بلکہ ان کی اصل عظمت یہ تھی کہ وہ اقتدار کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک خلافت عزت کا منصب نہیں بلکہ جواب دہی کی ایک بھاری ذمہ داری تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ عمر سے اس کے بارے میں سوال کرے گا۔ اگرچہ یہ جملہ مختلف تاریخی روایات میں منقول ہے، مگر یہ حضرت عمرؓ کی پوری زندگی کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے

انہی احساسات کے تحت آپ کا معمول تھا کہ رات کے اندھیرے میں مدینہ کی گلیوں اور اطراف میں خود گشت کرتے، تاکہ کسی ضرورت مند کی آہ حکمران کے محل تک پہنچنے سے پہلے خود اس کے دروازے تک پہنچ جائے۔

ایک رات آپ اپنے خادم اسلم کے ساتھ مدینہ کے مضافات میں نکلے۔ دور ایک آگ جلتی ہوئی دکھائی دی۔ قریب پہنچے تو ایک ماں اپنے ننھے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ بچے بھوک سے بلک رہے تھے اور چولہے پر ایک ہانڈی چڑھی ہوئی تھی۔ حضرت عمرؓ نے دریافت کیا کہ بچوں کے رونے کی وجہ کیا ہے؟ اس عورت نے درد بھرے لہجے میں کہا: “یہ بھوک سے رو رہے ہیں۔”

آپ نے پوچھا: “ہانڈی میں کیا پک رہا ہے؟”

اس نے جواب دیا: “اس میں صرف پانی اور چند پتھر ہیں۔ میں بچوں کو دھوکا دے رہی ہوں کہ شاید کھانا تیار ہو رہا ہے، اس امید پر وہ روتے روتے سو جائیں۔”

پھر اس نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے اسلامی تاریخ کے عظیم ترین حکمران کے دل کو ہلا کر رکھ دیا:

“اللہ عمر سے میرے اور اپنے درمیان فیصلہ کرے۔ عمر کو ہماری حالت کی خبر ہی نہیں۔”

حضرت عمرؓ نے فوراً بیت المال کا رخ کیا۔ آٹے، گھی اور دیگر ضرورت کی چیزیں ایک تھیلے میں رکھیں۔ خادم نے عرض کیا کہ یہ بوجھ میں اٹھا لیتا ہوں، مگر حضرت عمرؓ نے فرمایا:

“کیا قیامت کے دن بھی تم میرا بوجھ اٹھاؤ گے؟”

یہ کہہ کر انہوں نے خود بوری اپنی پیٹھ پر رکھی، عورت کے گھر پہنچے، اپنے ہاتھ سے چولہا جلایا، کھانا تیار کیا، بچوں کو کھلایا اور اس وقت تک وہاں سے نہ اٹھے جب تک وہ بچے ہنستے کھیلتے سو نہ گئے۔

یہ منظر دنیا کی تمام حکومتوں کے لیے ایک ابدی پیغام ہے کہ حکمران کی عظمت اس کے محل کی بلندی سے نہیں بلکہ اس کے کردار کی بلندی سے ناپی جاتی ہے۔

حضرت عمرؓ کا عدل صرف ضرورت مندوں کی مدد تک محدود نہ تھا بلکہ وہ اپنی انتظامی غلطی بھی بلا تردد تسلیم کر لیتے تھے۔

ایک رات حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک تجارتی قافلے کی حفاظت کرتے ہوئے انہوں نے ایک بچے کے مسلسل رونے کی آواز سنی۔ معلوم ہوا کہ اس کی ماں اسے وقت سے پہلے دودھ چھڑانا چاہتی ہے کیونکہ بیت المال سے وظیفہ صرف دودھ چھڑانے والے بچوں کو ملتا تھا۔ حضرت عمرؓ یہ سن کر بے حد رنجیدہ ہوئے۔ صبح ہوتے ہی اعلان فرمایا کہ آئندہ ہر نومولود مسلمان بچے کا وظیفہ اس کی پیدائش ہی سے مقرر کیا جائے گا۔

یہی وہ قیادت ہے جو اپنی رعایا سے سیکھتی بھی ہے اور اپنی غلطی کی اصلاح بھی کرتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مزاج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ابوبکرؓ کی طبیعت حضرت ابراہیمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی مانند نہایت نرم اور رحمت والی ہے، جبکہ عمرؓ کی طبیعت حضرت نوحؑ اور حضرت موسیٰؑ کی مانند حق کے معاملے میں مضبوط اور بے لاگ ہے۔ (جامع ترمذی)

یہی مضبوطی ان کے ہر فیصلے میں نظر آتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا دل اللہ کے خوف سے ہمیشہ لرزتا رہتا تھا۔

حضرت عمرؓ کی پوری زندگی قرآن کی اس تعلیم کا عملی نمونہ تھی کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے پوری طرح قبول کر لیں۔”
(سورۃ النساء: 65)

حضرت عمرؓ نے اپنی پوری زندگی اسی اصول کے مطابق گزاری۔ ان کے فیصلوں کی بنیاد ذاتی خواہش نہیں بلکہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتی تھی۔

آپ کی شہادت بھی آپ کی زندگی کی طرح عظیم تھی۔ ایک مجوسی غلام ابو لؤلؤ نے، جس کی روزانہ دو درہم خراج کے بارے میں شکایت حضرت عمرؓ نے انصاف کے مطابق مسترد کر دی تھی، فجر کی نماز کے دوران خنجر سے حملہ کر دیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود حضرت عمرؓ کی پہلی فکر اپنی جان نہیں بلکہ نماز تھی۔ جب انہیں بتایا گیا کہ حملہ آور ایک مجوسی تھا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ ان کی موت ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہوئی جو اسلام کا دعوے دار ہو۔ (صحیح بخاری)

یہی وہ کردار تھا جس نے حضرت عمرؓ کو محض ایک خلیفہ نہیں بلکہ تاریخِ انسانیت کا ایک زندہ معیار بنا دیا۔

آج دنیا انصاف، دیانت، شفاف حکمرانی اور عوامی خدمت کے نعرے تو بہت لگاتی ہے، لیکن اگر ان اصولوں کا عملی نمونہ دیکھنا ہو تو مدینہ کی ان خاموش راتوں میں جانا ہوگا، جہاں ایک خلیفہ اپنی رعایا کی بھوک پر رو رہا تھا، اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوری اٹھا رہا تھا، بچوں کے لیے اپنے ہاتھ سے کھانا پکا رہا تھا، اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے خوف سے کانپ رہا تھا۔

یہی عدلِ فاروقی تھا۔ یہی وہ روشنی تھی جس نے نصف دنیا کو اسلام کے عدل سے آشنا کیا، اور یہی وہ کردار ہے جس کی آج بھی امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

اگر ہم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زندگی سے صرف تین سبق اپنا لیں—اللہ کا خوف، انصاف میں بے لاگ ہونا، اور مخلوقِ خدا کی خدمت—تو معاشرے کی بہت سی تاریکیاں خود بخود روشنی میں بدل سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا ایمان، ایسی دیانت اور ایسا احساسِ ذمہ داری عطا فرمائے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا نمایاں وصف تھا۔ آمین۔