ایران اور عمان کے درمیان اسٹریٹجک اہمیت کی حامل بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز” کے انتظام سے متعلق مشترکہ کمیٹی کا پہلا اہم اجلاس منعقد ہوا ہے، جس میں دونوں ممالک نے مستقبل کے انتظامی طریقۂ کار پر مکمل اتفاقِ رائے قائم کر لیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ عمان نے ساحلی ریاست ہونے کے ناطے انتظامی عمل میں شامل ہونے کی حمایت کی ہے اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کے ایرانی مؤقف کی بھی تائید کی ہے۔ دونوں ممالک کے ماہرین پر مشتمل تکنیکی کمیٹیاں آئندہ 7 سے 8 دن میں باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کریں گی تاکہ مجوزہ معاہدے اور بحری راستوں سے متعلق حتمی مسودہ تیار کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور فیس کے معاملے پر ایران اور امریکا کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، ایران عمان کے تعاون سے اس بین الاقوامی تجارتی راستے پر نئی سروس فیس نافذ کرنے کا خواہشمند ہے جبکہ امریکا اس اقدام کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔ دوسری جانب، عمان نے صورتحال کو متوازن رکھنے کے لیے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بحری گزرگاہ پر کوئی نئی پاسنگ فیس عائد نہیں کی جا رہی، بلکہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں اپنی ساحلی حدود کے قریب ایک عارضی بحری راہداری قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ بحری تجارت محفوظ طریقے سے جاری رہ سکے۔





