جون 21, 2026

توکل کے پرندے اور خسارے کا انسان

تحریر: محمد انور بھٹی

کائنات کے اس عظیم الشان کارخانے میں جہاں ہر شے اپنے رب کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہے اگر انسان ذرا دل کی آنکھیں کھول کر دیکھے تو اسے ہر پتے، ہر ڈال اور ہر چڑیا کی چہکار میں معرفتِ الٰہی کے انمول خزانے بکھرے نظر آئیں گے۔ دور بستی سے ہٹ کر ایک پرسکون جھیل کے کنارے، جہاں پانی کے نرم جھرنوں اور لہروں کی سرسراہٹ دل کو عجیب سا سکون بخشتی ہے بندن میاں اکثر خاموشی سے آ بیٹھتے ہیں تاکہ قدرت کے ان انمول مناظر سے اپنے دل کو منور کر سکیں اور اپنی کم مائیگی پر غور کر سکیں۔ وہ خود کو کوئی بڑا دانشور یا فلاسفر نہیں سمجھتے بلکہ کائنات کے اس وسیع نظام میں ایک انتہائی عام، عاجز اور مٹی کے پتلے کی طرح دیکھتے ہیں جو روزمرہ کے عام مشاہدات سے اپنے اندر کی اصلاح کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ آج صبح جب سورج کی پہلی سپید چادر نے جھیل کے شفاف پانی کو اپنی آغوش میں لیا تو بندن میاں کی نظر کنارے پر جھکے شجرِ سایہ دار کی ٹہنی پر موجود اس معصوم، زرد پرندے پر پڑی جو اپنے چھوٹے سے وجود کے ساتھ بظاہر ایک معمولی سی ڈال پر لٹکا ہوا تھا لیکن اس کا حوصلہ اور اس کی محنت کسی عظیم معمار سے کم نہ تھی۔ وہ اپنی چھوٹی سی چونچ میں گھاس کا ایک ایک تنکا لاتا، اسے کمالِ ہنرمندی سے بنتا، ایک ایک گرہ اس مہارت سے لگاتا جیسے اسے فنِ تعمیر کی تمام باریکیاں ازبر ہوں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ہوا میں لہراتا ہوا ایک خوبصورت، محفوظ اور معجزاتی گھر تیار کر لیا۔ اس پرندے کی اس انتھک محنت، اس لگن اور اس کے بعد کے مراحل کو دیکھ کر بندن میاں کے دل میں ایک ایسا فکری ارتعاش پیدا ہوا جس نے انہیں انسان اور پرندے کے مابین ایمان، توکل اور فلسفہِ حیات کا موازنہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ ننھا پرندہ جس بے غرضی سے اپنے گھر کی بنیاد رکھتا ہے اس میں انڈے دیتا ہے راتوں کو جاگ کر اپنے پروں کے نیچے انہیں سینچتا ہے اور پھر جب ان انڈوں سے ننھی جانیں برآمد ہوتی ہیں تو صبحِ صادق سے لے کر شفق کی سرخی جھیل پر پھیلنے تک مسلسل اڑان بھر کر ان کے لیے خوراک اور پانی کا انتظام کرتا ہے تو یہ سارا منظر دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سب سے حیرت انگیز اور کائنات کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ اس معصوم جانور کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ ایک دن ان بچوں کے پر نکل آئیں گے ان کے بازوؤں میں طاقت آ جائے گی اور وہ اس گھونسلے کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ کر نیلگوں آسمان کی وسعتوں میں گم ہو جائیں گے وہ کبھی پلٹ کر اس بوڑھے پرندے کا حال پوچھنے نہیں آئیں گے اور نہ ہی اس کے بڑھاپے میں اس کے لیے دانے کا ایک تنکا لائیں گے۔ اس کے باوجود اس پرندے کے ماتھے پر نہ تو کوئی شکن آتی ہے نہ اس کے دل میں کوئی خوف پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے کیونکہ اس کا اپنے خالق ،اپنے رازق پر ایسا پختہ، غیر متزلزل اور کامل اعتقاد اور بھروسہ ہوتا ہے کہ اسے اپنے بوڑھے ہونے یا بے سہارا ہو جانے کا کوئی اندیشہ ہی نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ جس رب نے اسے آج دانہ دیا ہے وہ کل بھی دے گا اور جس نے اس کی جوانی میں اس کا پیٹ بھرا ہے وہ اس کے کمزور ہو جانے پر بھی اسے بھوکا نہیں سلائے گا۔ اب ذرا اس کے برعکس آج کے اشرف المخلوقات، یعنی انسانوں کے رویے، ان کی سوچ اور مادی فلسفے پر غور کیجیے تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ پستیِ کردار اور بے یقینی کے کس اندھے کنویں میں سب گر چکے ہیں۔ آج کا انسان، جسے عقل و شعور کی دولت سے نوازا گیا، جسے کائنات کا سردار بنایا گیا، وہ اپنی اولاد کی پرورش، تعلیم اور تربیت اس مادی اور تجارتی نظریے پر کرتا ہے کہ یہ اولاد کل کو اس کے بڑھاپے کا سہارا بنے گی، اس کی لاٹھی بنے گی اور اس کے سرمائے کا تحفظ کرے گی۔ انسان کا یہ اندازِ فکر دراصل اس کے دل میں چھپے ہوئے عدمِ تحفظ، حرص اور اپنے رب پر توکل کی شدید کمی کا منہ بولتا ثبوت ہے وہ اولاد کو اللہ کی نعمت اور ایک مقدس امانت سمجھ کر پالنے کے بجائے ایک مستقبل کی سرمایہ کاری یا انشورنس پالیسی کے طور پر دیکھتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان ایک معصوم پرندے سے ہٹ کر خسارے کے سفر پر نکل کھڑا ہوتا ہے۔ عام انسانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، جج اور بڑا سرکاری افسر بنانے کے لیے تو زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں رات دن ایک کر کے دولت پانی کی طرح بہاتے ہیں انہیں دنیا کی مہنگی ترین اور بڑی بڑی یونیورسٹیز میں بھیجتے ہیں تاکہ ان کے ہاتھوں میں اعلٰی ترین تعلیمی سندیں اور ڈگریاں آ جائیں مگر افسوسناک حد تک یہ بھول جاتے ہیں کہ ان ڈگریوں سے وہ اچھے عہدے دار تو بن سکتے ہیں لیکن ایک اچھا انسان نہیں بن سکتے۔ مادی دوڑ نے بچوں کو مشینوں میں تبدیل کر دیا ہے جو صرف نفع اور نقصان کی زبان سمجھتے ہیں انسان نے ان کے ذہنوں کو معلومات کا گودام تو بنا دیا مگر ان کے دلوں کو اخلاقیات، ہمدردی اور انسانیت کے نور سے محروم رکھا جس کی وجہ سے ڈگری یافتہ طبقہ بھی اکثر معاشرتی اقدار کو پامال کرتا نظر آتا ہے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ اولاد کو ایسی فکری اور روحانی تربیت دی جائے کہ وہ سب سے پہلے ایک اچھا انسان بن جائے ایک ایسا انسان جس کے دل میں خوفِ خدا ہو جو دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کر سکے جس کا اخلاق بلند ہو اور جو حلال و حرام کی تمیز جانتا ہو۔ جب کوئی بچہ ایک اچھا انسان بن جاتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے والدین کا حقیقی فرمانبردار بنتا ہے بلکہ وہ معاشرے کے لیے بھی رحمت کا باعث بن جاتا ہے اور جب وہ اچھا انسان بنتا ہے تو کسی بھی والدین کو اپنے یا اس کے دنیاوی مستقبل کی فکر نہیں رہتی اور نہ ہی آخرت میں کسی تنگی کا خوف ہوتا ہے کیونکہ اچھا انسان کبھی اپنے بوڑھے والدین کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا اور نہ ہی وہ معاشرے میں کوئی ایسا قدم اٹھا سکتا ہے جو اس کے والدین کے لیے دنیا یا آخرت میں شرمندگی کا باعث بنے۔ جھیل کے ٹھنڈے پانی پر پڑتی سورج کی کرنوں کو دیکھتے ہوئے بندن میاں اکثر سوچتے ہیں کہ انسان کتنا نادان ہے جو اس ذاتِ باری تعالیٰ کو بھول بیٹھا ہے جس نے اسے عدم سے وجود بخشا، جو ماں کے پیٹ کے تین اندھیروں میں بھی اس کی پرورش کرتا رہا اور جس نے اس کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی ماں کی چھاتیوں میں سفید اور میٹھے دودھ کے چشمے جاری کر دیے۔ اللہ رب العزت کی شانِ کریمی اور اس کی ربوبیت کا یہ عالم ہے کہ وہ پتھر کے اندر چھپے ہوئے کیڑے کو بھی رزق پہنچاتا ہےسمندر اور جھیل کی اتہاہ گہرائیوں میں موجود مخلوقات بھی اس کے دستِ دسترخوان سے فیضیاب ہوتی ہیں اور آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرنے والے پرندے بھی صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ ہو کر اپنے آشیانوں کو لوٹتے ہیں۔ پرندے نہ تو اناج کے گودام بھرتے ہیں، نہ بینک بیلنس بناتے ہیں اور نہ ہی مستقبل کے خوف سے اپنے امروز کو حرام کرتے ہیں ان کا کل سرمایہ صرف اور صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ ہوتا ہے جبکہ انسان، جس کے پاس تجوریاں بھری ہیں، جس کے پاس جائیدادیں ہیں، وہ پھر بھی آنے والے کل کے خوف سے لرزتا رہتا ہے اور اپنی اولاد کو اپنے بڑھاپے کا ضامن سمجھنے لگتا ہے۔ یہ موازنہ اس تلخ حقیقت سے روشناس کرواتا ہے کہ انسان نے مادی ترقی تو بہت کر لی لیکن وہ روحانیت کے اس درجے سے گر گیا جہاں ایک پرندہ کھڑا ہےپرندے کی سوچ خالص، بے لوث اور رب کی رضا کے تابع ہے جبکہ انسان کی سوچ خود غرضی، مطلب پرستی اور مادی حساب کتاب کے گرد گھومتی ہے۔ پرندہ سکھاتا ہے کہ محبت اور فرض کا انجام کسی صلے کی تمنا کے بغیر ہونا چاہیے وہ بچوں کو اڑنا سکھاتا ہے تاکہ وہ کائنات میں اپنا رزق خود تلاش کر سکیں نہ کہ اس لیے کہ وہ باپ کے گھونسلے کو وسعت دیں۔ انسان جب اپنی اولاد سے یہ دنیاوی امیدیں وابستہ کر لیتا ہے اور کل کو جب وہ اولاد اپنی زندگی کی مصروفیت میں اسے بھول جاتی ہے تو انسان مایوسی، ڈپریشن اور شکوے شکایات کا شکار ہو جاتا ہے حالانکہ اس کا یہ دکھ خود اس کی اپنی ناقص سوچ اور کمزور ایمان کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ اگر اس نے اپنی اولاد کو صرف اللہ کی رضا کے لیے پالا ہوتا اسے اچھا انسان بنایا ہوتا اور اپنا توکل صرف اپنے حقیقی مالک پر رکھا ہوتا تو اسے کبھی یہ صدمہ نہ پہنچتا۔ اگر لوگ واقعی اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں دنیاوی ڈگریوں کی ہوس سے نکل کر ان کے کردار کی عمارت کو مضبوط کرنا ہوگا کیونکہ ایک جاہل مگر نیک انسان اپنے والدین کے لیے اس تعلیم یافتہ بدکردار افسر سے ہزار گنا بہتر ہے جو اپنے بوڑھے والدین کو اپنی مصروفیت کا عذر بنا کر تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ انسان کی نادانی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ عارضی سہاروں کو دائمی سمجھ بیٹھتا ہے اور اس لایزال ہستی سے غافل ہو جاتا ہے جس نے کائنات کا پورا نظام ایک باقاعدہ اصول کے تحت چلا رکھا ہے یہ پرندہ اسی نظامِ الٰہی کا ایک ادنیٰ سا گواہ ہے جو بنا کسی تحریری نصاب اور بنا کسی مادی ڈگری کے کائنات کے سب سے بڑے سبق کی عملی تفسیر پیش کر رہا ہے۔ جب بچے صرف مادی ترقی کے راستے پر چلائے جاتے ہیں تو دراصل ان کے اندر کے انسان کو مار دیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر سائنسی و تکنیکی میدان میں تو بہت آگے نکل جاتے ہیں مگر انسانیت، مروت اور قرابت داری کے میدان میں بالکل ناامید کرتے ہیں۔ ایک مہذب اور نیک معاشرے کی بنیاد مادی خوشحالی پر نہیں بلکہ اس کے افراد کے اخلاق اور ان کے اندر موجود خدا ترسی پر ہوتی ہے اور یہی وہ جوہر ہے جسے آج کا انسان یکسر نظرانداز کر چکا ہے۔ جب ایک باپ اپنے بیٹے کو اس نیت سے پڑھاتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر خاندانی وقار اور مادی دولت میں اضافے کا ذریعہ بنے گا تو وہ دراصل اس بچے کے ذہن میں لالچ اور خود غرضی کا بیج بو رہا ہوتا ہے اور پھر وہی بچہ جب بڑا ہو کر اپنے فائدے کے لیے اپنے والدین کو بھی مادی ترازو میں تولنے لگتا ہے تو وہ باپ اپنے نصیب کا شکوہ کرتا ہے حالانکہ یہ اس کی اپنی بوئی ہوئی فصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہی والدین اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ دنیا ایک عارضی امتحان گاہ ہے اور یہاں کی اصل کامیابی اپنے اخلاق کو سنوارنا اور اپنے خالق کو راضی کرنا ہے تو وہ بچہ کبھی اپنے راستے سے نہیں بھٹکے گا وہ دنیا کے کسی بھی اعلیٰ عہدے پر فائز ہو جائے اس کے دل کا جھکاؤ ہمیشہ عاجزی، انکساری اور خدمتِ خلق کی طرف رہے گا۔ ایک اچھا انسان جب ڈاکٹر بنتا ہے تو وہ مریض کو صرف کمائی کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ اس کی خدمت کو عبادت سمجھتا ہے۔ایک اچھا انسان جب انجینئر بنتا ہے تو وہ دیانت داری کی ایسی مثال قائم کرتا ہے جس سے قوم کا سرمایہ محفوظ رہتا ہے اور ایک اچھا انسان جب بڑا سرکاری افسر بنتا ہے تو وہ انصاف اور حق کا ساتھ دیتا ہے جس سے پورے معاشرے میں امن و سکون قائم ہوتا ہے۔ لہٰذا والدین کے لیے سب سے بڑی کامیابی اور ان کی آخرت کا سب سے بہترین سرمایہ ان کی اولاد کا نیک اور اچھا انسان ہونا ہے کیونکہ نیک اولاد جب دنیا سے جانے والے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہے تو وہ دعا عرشِ الٰہی پر قبول ہوتی ہے اور والدین کی آخرت میں درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے جبکہ دنیاوی جائیدادیں اور بینک بیلنس یہیں دھول بن کر اڑ جاتے ہیں۔ اس تمام گفتگو، مشاہدے اور گہرے فکری سفر سے جو عظیم، لافانی اور سبق آموز پیغام ملتا ہے وہ یہ ہے کہ زندگی کا اصل حسن اور بندگی کی اصل معراج اپنے رب پر کامل بھروسہ کرنے اور اولاد کی صحیح معنوں میں اخلاقی تربیت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ کے زاویوں کو تبدیل کرے، اولاد کی پرورش کو ایک مادی سوداگری بنانے کے بجائے اسے ایک مقدس فریضہ اور آخرت کا توشہ سمجھیں اور اپنے دلوں سے مستقبل کا خوف نکال کر توکلِ الٰہی کی شمع روشن کریں۔ جب انسان کا یہ یقین پختہ ہو جائے گا کہ اس کا حقیقی کارساز، اس کا اصل نگہبان اور اس کے بڑھاپے کا سچا سہارا صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے تو اس کے دل سے دنیاوی سہاروں کی تڑپ ختم ہو جائے گی اور وہ اس معصوم پرندے کی طرح آزاد، مطمئن اور پرسکون زندگی گزارنے کے قابل ہو جائے گا کیونکہ دنیا کے سارے سہارے عارضی، فانی اور کمزور ہیں جب کہ رب کا سہارا ازلی, ابدی اور لایزال ہےاور یہی اس کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے جو ایک ننھا پرندہ جھیل کے کنارے لگے شجر کی ڈال سے ہمیں روزانہ اپنی خاموش زبان سے سکھاتا ہے اور احساس دلاتا ہے کہ کامیابی دنیاوی سندوں اور ڈگریوں میں نہیں بلکہ ایک اچھا انسان بننے اور خدا پر توکل کرنے میں ہے۔