تحریر: محمد انور بھٹی
مشرقِ وسطیٰ آج تاریخ کے ایک ایسے نازک اور خطرناک ترین موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں بارود کی بو سفارت کاری کی خوشبو پر مکمل طور پر غالب آ چکی ہے اور خطے کے افق پر جنگ کے سیاہ بادل اس طرح چھائے ہوئے ہیں کہ ہر گزرتا لمحہ کسی بڑی عالمی تباہی کی نوید سناتا محسوس ہوتا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اختیار کردہ دوغلی، مبہم اور بار بار بدلتی ہوئی پالیسیوں نے نہ صرف عالمی مبصرین کو شدید شش و پنج اور حیرت میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرز اور ممالک کے لیے بے یقینی کی ایک ایسی مہیب فضا پیدا کر دی ہے جہاں سیاسی اعتماد کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ ایک طرف واشنگٹن سے ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی کامیابی کے بلند بانگ دعوے سنائی دیتے ہیں اور دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نئی امریکی قیادت خطے میں امن اور استحکام لانا چاہتی ہے تو دوسری طرف عین اسی وقت تہران کو سخت ترین معاشی نتائج اور براہِ راست فوجی کارروائی کی ہولناک دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ یہ تضاد عالمی سیاست کی وہ تلخ اور ننگی حقیقت ہے جس میں الفاظ کا استعمال حقائق کو واضح کرنے اور امن کے قیام کے لیے نہیں بلکہ اصل مقاصد کو چھپانے، دباؤ بڑھانے اور اپنی داخلی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے لبنان، شام، غزہ اور خطے کے دیگر مقامات پر جاری اندھی فوجی مہم جوئی اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزیاں اس تاثر کو سو فیصد پختہ کرتی ہیں کہ واشنگٹن کی جانب سے پسِ پردہ دی جانے والی امن کی یقین دہانیوں کا زمینی حقائق سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان میں کوئی عملی اثر باقی رہ گیا ہے۔ اگر امریکہ واقعی خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ کی آگ کو بجھانے میں رتی برابر بھی سنجیدہ ہےتو پھر یہ سوال فطری طور پر ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں ابھرتا ہے کہ اس کا سب سے اہم لاڈلا اور قریبی عسکری اتحادی مسلسل ایسے جارحانہ اقدامات کیوں کر رہا ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسی ہولناک جنگ کی لپیٹ میں دھکیل رہے ہیں جس کا کوئی منطقی اختتام کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہے۔ اسرائیل کی یہ جنگی حکمت عملی دراصل واشنگٹن کی اس منافقانہ پالیسی کا عکس ہے جس میں وہ اپنے اتحادیوں کو سیکیورٹی اور دفاع کے نام پر کھلی چھوٹ دے کر انہیں اپنے استعماری اور جیو پولیٹیکل مقاصد کے لیے بطور آلہ کار استعمال کرتا ہے تاکہ خطے کا توازنِ طاقت ہمیشہ اس کے قبضے میں رہے۔ دوسری جانب ایران بھی اپنے تمام تر جوابی اقدامات کو دفاعی حکمت عملی اور ملکی بقا کا ضامن قرار دیتے ہوئے ڈرون حملوں اور جدید ترین میزائلوں کے مظاہروں کے ذریعے یہ واضح پیغام دینے کی پیہم کوشش کر رہا ہے کہ وہ واشنگٹن اور تل ابیب کے مشترکہ دباؤ کے سامنے کسی بھی صورت خاموش رہنے یا ہتھیار ڈالنے والا ملک نہیں ہے بلکہ وہ ہر جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور عسکری اور تزویراتی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس تمام بھیانک صورت حال کا سب سے تشویشناک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ اصل جنگ صرف میزائلوں، ڈرونز، فضائی حملوں یا جغرافیائی حدود کی نہیں ہے بلکہ یہ ان گہرے اسٹریٹجک مفادات کی جنگ ہے جو بڑی عالمی طاقتیں اکثر اپنے طویل المدتی مقاصد کے حصول کے لیے علاقائی تنازعات کو ایندھن بنا کر لڑتی رہی ہیں۔ تاریخ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ جب بھی سپر پاورز اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے کسی خطے کو اپنے مقاصد کا مرکز بناتی ہیں تو وہاں کے عوام کا مقدر تباہی، ہجرت اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ خدشہ اب کسی بھی صورت بے بنیاد یا فرضی نہیں رہا کہ اگر یہ کشیدگی اسی رفتار سے مزید بڑھی تو اسلامی دنیا کے مختلف ممالک اپنے اپنے معاشی و سیکیورٹی مفادات کے تحت مختلف عالمی اتحادوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں اور نتیجتاً مسلمان ممالک ایک دوسرے کے مدِ مقابل آ کھڑے ہوں گے جو کہ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہوگا۔ یہ وہ خوفناک منظرنامہ ہے جس سے سب سے زیادہ فائدہ صرف اور صرف ان استعماری قوتوں کو پہنچ سکتا ہے جو ایک متحد، مستحکم، خودمختار اور باوقار اسلامی دنیا کو اپنے معاشی مفادات اور عالمی بالادستی کے لیے ہمیشہ سے ایک بہت بڑا چیلنج اور خطرہ سمجھتی آئی ہیں اور جو مسلم دنیا کے وسائل پر قابض رہنا چاہتی ہیں۔ بیرونی طاقتیں کبھی نہیں چاہتیں کہ مسلم دنیا اپنے گراں قدر قدرتی وسائل، پٹرولیم کی دولت اور جغرافیائی اہمیت کو یکجا کر کے عالمی نقشے پر ایک فیصلہ کن اور خودمختار قوت کے طور پر سامنے آئے۔
تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں شدید ترین اتار چڑھاؤ، عالمی منڈیوں کی بے چینی، اسٹاک مارکیٹوں کا اضطراب اور مجموعی معاشی غیر یقینی کی صورت حال اس بحران کے فوری اور تباہ کن اثرات کے طور پر دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں تو اس کی بھاری قیمت صرف اس خطے کے معصوم عوام ہی نہیں بھگتتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اس کا خمیازہ ادا کرتی ہے کیونکہ تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں بالخصوص آبنائے ہرمز اور باب المندب پر منڈلاتا ہوا خطرہ عالمی معیشت کی شہ رگ پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں مہنگائی کا وہ ہولناک عفریت جس نے پہلے ہی ترقی پذیر اور کمزور معیشتوں کی کمر توڑ رکھی ہےمزید بے لگام اور طاقتور ہو کر ابھرا ہے اور تجارتی راستوں کے متاثر ہونے اور انشورنس کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خورونوش ادویات اور خام مال کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جس سے غریب ممالک کے عوام بنیادی ضروریاتِ زندگی سے بھی تیزی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا عالمی معاشی بحران ہے جس کی لہریں افریقہ کے پسماندہ دیہات سے لے کر ایشیا کے گنجان آباد شہروں تک پہنچ رہی ہیں اور ایک نیا انسانی بحران پیدا کر رہی ہیں جسے سنبھالنا اب کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں رہا۔
حقیقت پسندانہ تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ اس وقت نہ تو ایران مکمل طور پر ایک ایسی جنگ کا خواہاں ہے جس میں اس کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو جائے نہ ہی امریکہ ایک اور بڑی، مہنگی اور لامتناہی علاقائی جنگ کا بوجھ اٹھانے کی مالی اور عسکری سکت رکھتا ہے اور نہ ہی خود اسرائیل کے لیے طویل المدتی تھکا دینے والی اور کثیر الجہتی محاذ آرائی کو برقرار رکھنا داخلی طور پر آسان ہےلیکن المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات جنگوں کی شروعات نیت سے نہیں بلکہ غلط اندازوں، جذباتی فیصلوں، تزویراتی غلط فہمیوں اور سیاسی انا کے باعث ہوتی ہے جو ایک ایسی آگ بھڑکا دیتی ہیں جسے بعد میں بجھانا دنیا کی تمام طاقتوں کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔ آج دنیا کو درپیش اصل خطرہ کسی فریق کی جنگ کی شعوری خواہش نہیں بلکہ حادثاتی جنگ کے ان امکانات کا مسلسل بڑھنا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی کڑی فوجی نقل و حرکت سے پیدا ہو رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن بظاہر دو بالکل متضاد اور مختلف راستوں کے درمیان کھڑی نظر آتی ہے جہاں ایک طرف وہ اپنے امریکی عوام اور ووٹرز کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ نئی بیرونی جنگوں کے شدید مخالف ہیں اور امریکہ کے سرمائے اور فوجیوں کو غیر ملکی تنازعات سے دور رکھ کر اپنے ملک کی اندرونی حالت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو دوسری طرف اسرائیل کی طاقتور ترین لابی اور واشنگٹن کے روایتی سیکیورٹی ادارے انہیں ہر حال میں اسرائیل کی غیر مشروط عسکری اور سیاسی حمایت جاری رکھنے پر مجبور کرتے ہیں اور یہی وہ تضاد ہے جس کی وجہ سے ان کے بیانات اکثر متضاد، غیر واضح اور شدید الجھن کا شکار محسوس ہوتے ہیں۔
یہ مفروضہ قائم کرنا کہ امریکہ ایک سپر پاور ہونے کے ناطے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی طاقت نہیں رکھتا، سراسر غلط، گمراہ کن اور حقائق سے فرار کے مترادف ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے پاس اسرائیل کو لگام دینے اور اس کی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کے بے شمار ایسے اوزار اور ذرائع موجود ہیں جن کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ عسکری امداد کے تحت ملنے والے جدید ترین ہتھیار، اربوں ڈالر کی مالی معاونت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں حاصل سفارتی تحفظ اور ویٹو کا بے دریغ استعمال اور عالمی سطح پر انٹیلی جنس کا وسیع ترین تعاون وہ ٹھوس عوامل ہیں جن کے ذریعے واشنگٹن اگر واقعی چاہے تو تل ابیب کو چند گھنٹوں کے اندر کسی بھی جارحانہ اقدام سے باز رہنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لہٰذا موجودہ صورت حال کو صرف امریکی کمزوری یا بے بسی قرار دینا درست نہیں ہوگا بلکہ زیادہ سچی اور تلخ بات یہ ہے کہ واشنگٹن دباؤ ڈالنے کے بجائے اپنے اور اسرائیل کے مشترکہ تزویراتی، سیاسی اور نظریاتی مفادات کو عالمی امن، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پامالی پر ترجیح دیتا ہے۔ البتہ اس سکے کا دوسرا رخ بھی انتہائی اہم ہے کہ اسرائیل کی داخلی سیاست، انتہا پسندانہ نظریات اور سیکیورٹی پالیسی ہمیشہ سو فیصد واشنگٹن کے اشاروں پر نہیں چلتی بلکہ کئی تاریخی مواقع پر اسرائیلی قیادت نے امریکی انتظامیہ کی واضح خواہشات اور تنبیہات کے برعکس یکطرفہ فیصلے کیے ہیں جنہوں نے خود امریکہ کو عالمی سطح پر شدید شرمندگی اور سفارتی مشکلات سے دوچار کیا ہے اس لیے یہ کہنا بھی قرینِ انصاف نہیں ہوگا کہ اسرائیل محض ایک کٹھ پتلی ہے بلکہ یہ ایک ایسا گہرا مفاداتی اور تزویراتی گٹھ جوڑ ہے جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں۔
امریکہ کے لیے عالمی تنہائی اور اخلاقی ساکھ کی تباہی کا خطرہ اب کوئی فرضی بات نہیں رہی بلکہ ایک واضح حقیقت بن کر سامنے آ چکا ہے کیونکہ اگر واشنگٹن ایک طرف دنیا کے سامنے مذاکرات، انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور امن کی بالادستی کا راگ الاپتا رہے اور دوسری طرف اس کا اتحادی کھلم کھلا ان تمام قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے فوجی کارروائیاں کرتا رہے تو اس منافقت سے امریکہ کی عالمی ساکھ کو ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے جس کی تلافی اربوں ڈالر کے ہتھیار بھی نہیں کر سکتے۔ یورپ کے روایتی اتحادی، ایشیا کے ابھرتے ہوئے ممالک، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی بیدار ہوتی ہوئی قومیں اب یہ سوال کھلم کھلا اور شدت سے اٹھا رہی ہیں کہ کیا عالمی قوانین، جنیوا کنونشن اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادیں صرف کمزور، غریب اور پسماندہ ممالک کو دبانے اور ان پر پابندیاں لگانے کے لیے ہیں یا ان کا اطلاق امریکہ، اس کے اتحادیوں اور دنیا کی بڑی طاقتوں پر بھی یکساں طور پر ہوتا ہے۔ جب بین الاقوامی انصاف کے نظام میں ایسا واضح اور دہرا معیار دکھائی دینے لگےتو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی اخلاقی قیادت کا طلسم دھول میں مل جاتا ہے اور قوموں کا عالمی نظام سے اعتماد اٹھ جاتا ہے جو کہ لاقانونیت اور عالمی انارکی کو جنم دیتا ہے۔
تاریخ کا گہرا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بڑی اور عظیم سلطنتیں یا سپر پاورز کبھی بھی صرف میدانِ جنگ میں عسکری شکست کھانے سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ ہمیشہ اپنی اخلاقی ساکھ کے بحران، دہرے معیار، اندرونی تضادات اور عالمی اعتماد کے کھو جانے سے اندر سے کھوکھلی ہو کر بکھر جاتی ہیں۔ ماضی قریب میں سوویت یونین کا عبرتناک زوال ہو جس کی بنیادی وجہ اس کا اندرونی معاشی بحران اور نظریاتی کمزوری تھی یا پھر ویتنام اور عراق کی جنگوں کے بعد امریکہ کو درپیش آنے والی طویل معاشی و سیاسی مشکلات یہ تمام مثالیں اس بات کی شاہد ہیں کہ عالمی برادری کے اعتماد کا نقصان اور اخلاقی پوزیشن کا زوال کسی بھی ملک کے لیے ہتھیاروں، بموں اور بارود کی کمی سے ہزار گنا زیادہ مہلک اور نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا موجودہ مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں سب سے درست اور حقیقت پر مبنی تجزیہ یہ ہے کہ امریکہ عسکری طور پر کمزور نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسے ناممکن اور متضاد توازن کو قائم رکھنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جس کی بنیادیں ہی ناانصافی پر رکھی گئی ہیں اور جتنا زیادہ یہ توازن متضاد بیانات اور غیر واضح مبہم پالیسیوں پر قائم رہے گا دنیا بھر میں امریکہ پر یہ سنگین الزام اتنی ہی شدت سے لگے گا کہ وہ امن کا لبادہ اوڑھ کر دراصل جنگی ماحول کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور یہی تضاد آنے والے دنوں میں واشنگٹن کے لیے سب سے بڑا سیاسی، معاشی اور سفارتی چیلنج بن کر ابھرے گا۔
آج کے اس بھیانک دور میں سب سے مبرم اور اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی دنیا کے تمام ممالک جذباتیت، فرقہ وارانہ تعصبات، داخلی اختلافات اور روایتی علاقائی رقابتوں سے مکمل طور پر اوپر اٹھ کر خالصتاً دانش مندی، دوراندیشی اور اپنے مشترکہ مفادات کو اولیت دیں اور خود کو کسی بھی صورت بیرونی طاقتوں کی پراکسی جنگوں کا ایندھن بننے سے بچائیں۔ اگر مسلم دنیا کے حکمران اور پالیسی ساز اپنے ذاتی اور وقتی مفادات کو قربان کر کے ایکا نہیں کریں گے اور اپنے معاشی و سیاسی تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل نہیں دیں گے تو پھر بیرونی طاقتوں کو ہمارے خلاف کسی نئی سازش کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا اور تلخ ترین سبق یہی ہے کہ قومیں کبھی بھی بیرونی حملوں سے اتنی جلدی تباہ نہیں ہوتیں جتنی وہ اپنی اندرونی تقسیم، غداریوں، اور آپسی نااتفاقی کی وجہ سے اندر سے کمزور ہو کر مٹ جایا کرتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے اس موجودہ بحران کو محض ایران اور اسرائیل کے روایتی یا مذہبی تنازعے کے طور پر دیکھنا سطحی سوچ ہوگی بلکہ اسے عالمی طاقتوں کے مفادات کے ٹکراؤنئے تجارتی راستوں پر قبضے کی جنگ اور ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کی کشمکش کے طور پر دیکھنا اور سمجھنا چاہیے جس میں بیانات روز بدلتے ہیں پرانے اتحادی دشمن اور نئے دشمن اتحادی بن جاتے ہیں لیکن اس پورے شطرنج کے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان، ہلاکتیں اور بربادی ہمیشہ ایک عام بے گناہ انسان، خطے کی کمزور معیشتوں اور امن کی سچی خواہش رکھنے والے عوام کو ہی اٹھانا پڑتی ہے۔
اس مخدوش اور ہولناک صورت حال کا واحد، پائیدار اور حقیقی حل یہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اور بالخصوص اسلامی بلاک بیرونی مداخلت کے سامنے ایک مضبوط اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور اپنی سیکیورٹی، دفاع اور معیشت کا نظام بیرونی بیساکھیوں کے سہارے چھوڑنے کے بجائے اپنے ہاتھوں میں لیں۔ اقوامِ متحدہ کو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے کسی ایک طاقت کا آلہ کار بننے کے بجائے حقیقی معنوں میں غیر جانبدار ہونا پڑے گا اور فلسطین کے دیرینہ، بنیادی اور اصولی مسئلے کا حل جو کہ اس پورے خطے اور دنیا میں بدامنی، نفرت اور جنگوں کی اصل جڑ ہے اقوامِ متحدہ کی اصل قراردادوں کے مطابق اور فلسطینی عوام کی امنگوں کے تحت نکالنا ہوگا کیونکہ اس ناانصافی کے خاتمے کے بغیر مشرقِ وسطیٰ اور دنیا میں امن کا قیام محض ایک دیوانے کا خواب ہی رہے گا۔ عالمی منڈیوں کو استحکام دینے، پٹرولیم کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور دنیا کو مہنگائی کے اس ہولناک عذاب سے نجات دلانے کے لیے ضروری ہے کہ بڑی طاقتیں تجارتی راستوں کو جنگ سے پاک رکھنے کی ضمانت دیں اور جنگی جنون میں مبتلا ممالک پر سخت ترین معاشی اور سیاسی پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ کوئی بھی ملک اپنے ذاتی مفاد کے لیے عالمی امن کو داؤ پر نہ لگا سکے۔ وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ تمام عالمی رہنما اور فریقین اپنی اپنی سیاسی انا، استعماری سوچ اور نسلی و مادی برتری کے خول سے باہر نکلیں اور ایک ایسی منصفانہ دنیا کی تعمیر میں اپنا عملی حصہ ڈالیں جہاں طاقت کے بجائے قانون کی حکمرانی ہوجہاں ہر چھوٹے اور بڑے ملک کی جغرافیائی خود مختاری کا دل سے احترام کیا جائے اور جہاں دنیا کا ہر انسان خوف، بدامنی، جنگ اور مہنگائی کے عفریت سے آزاد ہو کر امن، خوشحالی اور معاشی آسودگی کے ساتھ اپنے بچوں کا مستقبل سنوار سکے کیونکہ امن کا راستہ بندوق کی نالی سے نہیں بلکہ صرف اور صرف سچے انصاف، باہمی احترام اور انسانیت کی بقا کے مخلصانہ عزم سے ہی ممکن ہے۔





