جون 14, 2026

محرم الحرام اور اتحادِ امت کا پیغام

تحریر:محمدمظہررشید چودھری (03336963372)

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، لیکن اس کی اہمیت صرف ایک نئے سال کے آغاز تک محدود نہیں۔ یہ مہینہ مسلمانوں کو صبر، قربانی، استقامت، حق گوئی اور اتحادِ امت کا وہ عظیم درس دیتا ہے جس کی آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا کے ذریعے مذہبی اختلافات کو ہوا دینے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، محرم الحرام ہمیں اپنے رویوں اور ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔اسی تناظر میں اوکاڑہ میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی ممتاز علمی و دینی شخصیات، راقم الحروف (محمدمظہررشید چودھری)کی میزبانی میں ایک خصوصی مکالمے میں شریک ہوئیں۔ اس نشست میں ممتاز عالم دین مفتی قاری سعید احمد عثمانی،ممبر امن کمیٹی صداقت علی بھٹی ،امام و خطیب مرکزی امام بارگاہ ایوانِ حسین علامہ نجم الحسن کراروی نے اتحادِ امت، مذہبی ہم آہنگی اور پیغامِ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔مفتی قاری سعید احمد عثمانی نے گفتگو کرتے ہوئے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ محرم الحرام کا لفظ ہی عزت و احترام کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی سال کا آغاز حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کی یاد سے اور محرم کے ایام امام حسین ؑاور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد سے وابستہ ہیں۔ یہ دونوں واقعات امت کو صبر، حق پر استقامت اور دین کی خاطر ہر قربانی دینے کا سبق دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اسلام کی اصل روح محبت، اخلاق اور برداشت میں پوشیدہ ہے، اور یہی وہ اقدار ہیں جنہوں نے اسلام کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچایا۔علامہ نجم الحسن کراروی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ مسلمانوں کے درمیان مشترکات اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔ اللہ ایک، رسول اکرم ﷺ ایک، قرآن ایک اور قبلہ ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کربلا کسی ایک مکتبِ فکر کا نہیں بلکہ پوری امت کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے نانا حضرت محمد ﷺ کے دین کی بقا اور سربلندی کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ ان کی جدوجہد ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حق اور انصاف کے لیے ڈٹ جانا چاہیے، لیکن معاشرے میں نفرت اور تفرقہ پیدا نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کربلا کے پیغام کو صحیح تناظر میں سمجھ لیا جائے تو یہ امت کے اتحاد اور باہمی احترام کا مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔ممبر امن کمیٹی صداقت علی بھٹی نے اس امر پر زور دیا کہ تمام مسلمان سب سے پہلے مسلمان اور پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دے کر کمزوری پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن پاکستان خصوصاً اوکاڑہ کی فضاء اس حوالے سے ایک مثبت مثال ہے جہاں مختلف مکاتبِ فکر کے علماءاور عوام امن و محبت کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے مطابق محرم الحرام ہو یا ربیع الاول، تمام مذہبی مواقع پر اتحاد اور بھائی چارے کا مظاہرہ کرنا ہی حقیقی اسلامی رویہ ہے۔مکالمے کا ایک اہم پہلو سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات بھی تھے۔ تمام مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے جسے مثبت یا منفی دونوں انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مفتی قاری سعید احمد عثمانی نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بغیر تحقیق کسی خبر، ویڈیو یا پیغام کو آگے بڑھانا سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ مذہبی منافرت پر مبنی مواد نہ صرف معاشرتی انتشار کا باعث بنتا ہے بلکہ قانونی مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان تحقیق، تصدیق اور ذمہ داری کے اصولوں کو اپنائیں۔علامہ نجم الحسن کراروی نے بھی اس بات پر روشنی ڈالی کہ سوشل میڈیا پر ہر گردش کرنے والی بات درست نہیں ہوتی۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ مستند علماءاور معتبر ذرائع سے رہنمائی حاصل کرے۔ ان کے مطابق معاشرے میں بہت سی غلط فہمیاں صرف اس وجہ سے جنم لیتی ہیں کہ لوگ غیر مصدقہ معلومات کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔گفتگو کے دوران بار بار اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا کہ اختلافِ رائے فطری امر ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ تاریخِ اسلام میں ہمیں بے شمار مثالیں ملتی ہیں جہاں مختلف آراء رکھنے والے علماءاور اکابرین ایک دوسرے کا احترام کرتے رہے۔ یہی رویہ آج بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اگر اختلاف کو برداشت اور احترام کے دائرے میں رکھا جائے تو یہ علمی ترقی کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن جب اسے نفرت اور تعصب کا رنگ دیا جائے تو معاشرتی نقصان کا باعث بنتا ہے۔اس مکالمے کا سب سے اہم اور مشترکہ پیغام یہی تھا کہ محرم الحرام نفرت نہیں بلکہ محبت، تقسیم نہیں بلکہ اتحاد، اور تعصب نہیں بلکہ رواداری کا درس دیتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق اور انصاف کی خاطر قربانی دی جا سکتی ہے، لیکن امت کے شیرازے کو بکھیرنا کسی صورت درست نہیں۔آج پاکستان کو جن داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے، ان کے مقابلے کے لیے قومی یکجہتی، مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام ناگزیر ہیں۔ محرم الحرام کے بابرکت ایام میں ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اختلافات کے بجائے مشترکات کو فروغ دیں گے، نفرت کے بجائے محبت کا پیغام عام کریں گے اور اپنے قول و عمل سے اتحادِ امت کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں گے۔ یہی پیغامِ کربلا ہے، یہی اسلام کی حقیقی روح ہے اور یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے