برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق لبنان کے آرمی چیف جنرل روڈولف ہیکل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی دعوت پر ایک اہم سرکاری دورے کے سلسلے میں پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ لبنانی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں فی الحال اس دورے کی حتمی مدت یا تفصیلی ایجنڈے کے بارے میں کوئی باضابطہ معلومات شیئر نہیں کی گئی ہیں۔ لبنانی عسکری قیادت کا یہ دورہ ایک ایسے انتہائی نازک وقت پر ہو رہا ہے جب پاکستان، ایران اور امریکہ کے مابین جاری شدید تنازعات کے خاتمے اور خطے میں مستقل جنگ بندی کے لیے کلیدی سفارتی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ دوسری جانب لبنان کو مسلسل اسرائیلی جارحیت اور حملوں کا سامنا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے نے مقتدر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف کا یہ دورہ بنیادی طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری وسیع تر پسِ چردہ مذاکرات اور ان میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے، کیونکہ لبنان ان علاقائی مذاکرات میں ایک نہایت اہم اور مرکزی فریق کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس پورے سفارتی منظرنامے میں تہران کا یہ سخت اصرار سامنے آیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ علاقائی جنگ کی روک تھام کے لیے طے پانے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان کو لازمی طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ تاہم، اس سفارتی پیش رفت کے برعکس، گزشتہ روز امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک تہلکہ خیز انٹرویو میں لبنانی صدر جوزف عون نے ایران کے اس موقف پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران، امریکہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں لبنان کو بطورِ سودے بازی استعمال کر رہا ہے جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ صدر جوزف عون نے ایران کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ تمہارا نہیں بلکہ ہمارا ملک ہے اور اس کی خودمختاری کے ذمہ دار ہم خود ہیں، لہٰذا ایران کو لبنان کے اندرونی و بیرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی آئینی و اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ یہی سچائی ایرانی حمایت یافتہ مسلح تنظیم حزب اللہ کو بھی اب ہر صورت سمجھنی ہوگی کہ خطے کے موجودہ حالات میں بیٹھ کر پرامن بات چیت کرنے کے سوا کوئی دوسرا متبادل حل موجود نہیں ہے۔





