لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 1-2 سے اپنے نام کر لی ہے۔ آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا لیکن پاکستانی بولرز کی شاندار کارکردگی کے باعث مہمان ٹیم کی پوری بیٹنگ لائن 157 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ آسٹریلیا کی جانب سے کپتان جوش انگلس نے سب سے زیادہ 65 رنز بنائے، جبکہ مارنس لبوشین اور ایلکس کیری نے 19، 19 رنز کی اننگز کھیلی۔ ایڈم زیمپا 10 رنز بنا سکے اور ان کے علاوہ کوئی بھی آسٹریلوی بلے باز دہرے ہندسے میں داخل نہ ہو سکا۔ پاکستان کی طرف سے شاہین آفریدی نے 3، شاداب خان اور ابرار احمد نے دو، دو جبکہ حارث رؤف نے ایک وکٹ حاصل کی۔
اسپینرز کے لیے سازگار اور مشکل وکٹ پر 158 رنز کے ہدف کا تعاقب پاکستانی ٹیم کے لیے آسان نہ تھا، جہاں اوپنر صاحبزادہ فرحان صرف 6 رنز بنا کر جلد ہی پویلین لوٹ گئے تاہم دوسرے اوپنر معاذ صداقت نے 27 رنز کی برق رفتار اننگز کھیل کر ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا۔ 41 رنز پر دونوں اوپنرز کے آؤٹ ہونے کے بعد نوجوان غازی غوری بھی 8 رنز بنا کر سستے میں چلتے بنے۔ اس مشکل صورتحال میں سلمان علی آغا اور بابر اعظم نے چوتھی وکٹ کے لیے 33 رنز جوڑے، لیکن 93 کے مجموعی اسکور پر سلمان آغا کے آؤٹ ہونے سے ٹیم پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔
بابر اعظم نے پانچویں وکٹ کے لیے عرفات منہاس کے ساتھ مل کر 19 رنز کی شراکت داری قائم کی، مگر 112 کے مجموعے پر بابر اعظم 85 گیندوں پر 40 رنز کی صابرانہ اننگز کھیلنے کے بعد میتھیو کونہمین کی گیند پر بولڈ ہو گئے اور اسی اسکور پر عرفات منہاس بھی آؤٹ ہو گئے۔ چھ وکٹیں جلدی گرنے کے بعد شاداب خان اور عبدالصمد نے پاکستانی اننگز کو سنبھالا اور ساتویں وکٹ کے لیے 49 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے ٹیم کو 42ویں اوور میں فتح دلا دی۔ شاداب خان 29 اور عبدالصمد 18 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے میتھیو کونہمین نے 3 جبکہ نیتن ایلس، میتھیو شارٹ اور میٹ رینشا نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔





