تحریر: ایم سرور صدیقی
ایک اندھا فقیر چوک میں ”دے جا سخیا راہ ِ خدا“ کی گردان کرتے ہوئے بھیک مانگ رہاتھا ایک شخص نے ترس کھاکر اسے دس روپے کا نوٹ دیا جو اتفاق سے پھٹا ہوا تھا وہ شخص ابھی چند قدم ہی چلاہوگا کہ پیچھے سے اندھے فقیر نے آواز دی سخیا!پھٹا نوٹ ہی دیدیا۔۔ وہ شخص واپس پلٹا حیرانگی سے اس نے فقیرسے پوچھا تم تو اندھے ہوپھر کیسے پتہ چلا نوٹ پھٹاہوا ہے۔۔فقیرنے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا میں اندھا ہوں یا نہیں ہوں تم تو اندھے نہیں ہو۔۔ پھٹا نوٹ دیتے شرم نہیں آتی۔اخبارہی کی خبرہے سعودی عرب میں ایک بھکارن کے مرنے کے بعداس کے کٹیا نما گھرسے کروڑوں مالیت کے کرنسی نوٹ اور سکے ملے۔۔۔ اپنے وطن میں بھی ایسی خبریں سننے اور پڑھنے کوملتی رہتی ہیں پاکستان ہی نہیں بہت سے ممالک میں بھیک مانگنا ایک صنعت بن گئی ہے علاقوں کی باقاعدہ خریدوفروخت ہوتی ہے برصغیرمیں تو یہ پیشہ بڑے جدید طریقوں کاحامل ہے پاکستان،بنگلہ دیش اور بھارت سے مافیاپرکشش تنخواہ پر لاوارث،یتیم اوربوڑھی عورتوں،معذورافراد کوسعودی عرب،دبئی اورکئی خلیجی ممالک میں لے جاکر بھیک منگوانے کی بھی اطلاعات ملتی رہتی ہیں ویسے ملک کوئی بھی چھوٹے بڑے شہروں میں زیادہ بارونق یا معروف مزاروں اورگنجان آبادیوں میں فقیروں کے دادا برسر ِ پیکاررہتے ہیں ایک دوسرے کی برتری یا مداخلت پر لڑائی جھگڑے بھی ہوتے ہیں اور قتل بھی۔۔۔اب تو اس کاروبارمیں بھی مافیاکاراج ہے انہوں نے اس کیلئے بڑے سائٹیفک طریقے اپنا رکھے ہیں ان کے اپنے کئی گروپ بیک وقت کام کررہے ہوتے ہیں کچھ لوگوں نے اپنے گینگ بنارکھے ہیں کچھ افراد کاکام صرف بچوں کے اغواء تک محدود ہے یہ بارونق علاقوں سے بچوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور قریبی مقامات پر اپنے ساتھیوں کے حوالے کردیتے ہیں ریلوے اسٹیشن،لاری اڈہ، مزارات ان کے خاص اہداف ہیں بردہ فروش لاوارث،حالات کے ستائے یا غریب والدین کو بچوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر لے جاتے ہیں اوراگلی پارٹی کو فروخت کرکے دام کھرے کرلیتے ہیں۔۔۔ گینگ کے کچھ کرتا دھرتا بھیک مانگنے والوں کی نگرانی پر ماموررہتے ہیں تاکہ ان کی آمدن کا مستقل ذریعہ بھاگنے کی کوشش نہ کرے یہ لوگ انتہائی ظالم،عیاش اور بے رحم ہوتے ہیں دن کو بھیک مانگنے والے بیشتر بچے رات کو ان کے جنسی تشددکا نشانہ بن جاتے ہیں جبکہ بیشتر خوبرو بھکارنیں غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہوکر معاشرہ میں فسادکا سبب بنتی ہیں اکثراوقات خوبرو بھکاری لڑکیاں نوجوان لڑکوں کو دیوانہ بناکر لوٹ کر فرار ہو جاتی ہیں۔ جبکہ ایسا بھی سننے میں آیاہے بھکاریوں کے ایسے گینگ بھی ہیں جن کی خواتین بھیک مانگنے کے بہانے تانک جھانگ کرکے سن گن لیتی ہیں اور رات کو ان کے مرد ڈکیٹیاں کرتے ہیں اس لئے عوام کو ایسے عناصرسے انتہائی خبرداررہنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں تحقیقی صحافت کے بانی ریاض بٹالوی مشرق اخبار میں معرکۃ الارا فیچر لکھا کرتے تھے اس کیلئے وہ بھیس بدل کر مختلف حلیوں میں جایا کرتے تھے ایک روز ریاض بٹالوی نے بھکاریوں پر فیچر لکھنے کیلئے حلیہ بدل کردفترسے روانہ ہوئے تو انہوں نے رشید نامی چپڑاسی کو بھی اپنے ساتھ لے لیا سارا دن وہ داتا دربار،لاری اڈہ،ریلوے سٹیشن،مال روڈ اوردیگر مقامات پر بھکاریوں کی حرکات و سکنات،طریقہ ئ واردات اوردیگر باتوں کا مشاہدہ کرتے رہے شام ہوئی تو ریاض بٹالوی نے چپڑاسی رشید کو دفتر واپس کیلئے کہا۔
صاحب! آپ جائیں چپڑاسی نے جواباً کہا۔میں تو اب یہی کام کروں گا مہینے کی تنخواہ تو ایک دن میں اکھٹی ہوگئی ہے۔اوریوں بھکاریوں میں ایک کامزید اضافہ ہوگیا۔ آپ نے اکثردیکھاہوگارمضان شریف یا عیدین کے قریب فقیروں کے غول کے غول گروہ درگروہ شہروں میں واردہوتے ہیں۔۔ ان کا حلیہ، دل سوز صدائیں اور مکالمے اتنے زوداثرہوتے ہیں کہ لوگوں کو ان پر خواہ مخواہ ترس آنے لگتاہے کئی بھکاری اتنے ڈھیٹ ہوتے ہیں کہ بھیک لئے بغیر جان چھوڑنے کو تیارہی نہیں ہوتے ۔۔۔ مذہبی نقطہ نظر سے بھی بھیک مانگنا انتہائی مکروہ کام ہے نبی ئ اکرم ﷺ کا فرمان ہے قیامت کے روز بھکاری کے چہرا سیاہ ہو گا۔۔۔اگر غور کریں تو محسوس ہوگا کہ حقیقتاً بھیک مانگنے والے قابل ِ رحم نہیں یہ معاشرے کے ناسور ہیں جو لوگ واقعی مستحقین ہیں وہ سفیدپوش کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا معیوب سمجھتے ہیں ان کا خیال رکھنا مخیرحضرات کا مذہبی،اخلاقی اور معاشرتی فریضہ ہے۔ سناہے ایک خوش لباس کسی کے انتظارمیں کھڑا تھا کہ ایک بھکاری لنگڑاتے ہوئے اس کے قریب آکر بڑی لجاحت سے کہنے لگا”سخی بادشاہ کی خیر!اللہ کے نام پر 100کانوٹ دیدو
خوش لباس نے جان چھڑانے کے انداز میں کہا نہیں ہے
”چلو50ہی دیدو فقیرنے پھر سوال کیا
”معاف کرو۔۔خوش لباس پھر بولا کہا نا نہیں ہیں۔فقیر بھی بڑا ڈھیٹ تھاکہنے لگامیرے سخی بادشاہ اچھا 10روپے ہی دیدو۔ خوش لباس نے زچ ہوکر کہا جاؤ بابا۔کہہ دیا نہیں ہیں۔اگر تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ہے لنگڑا فقیر بولا پھر یہاں کیا کررہے ہو میرے ساتھ چلو اکھٹے مانگتے ہیں۔عوام کو اس صورت ِ حال سے بچانے کیلئے حکومتوں کو اپنی ترجیحات اور سفارشات تیارکرناہوں گی بھیک مانلنے کو اچھے بھلے لوگوں نے پیشہ بنا لیاہے اس لئے اس کے خلاف ایکشن لیناناگزیرہے فقیروں کو معاشرے کااہم فردبنانے اور انہیں مختلف ہنر سکھانے کیلئے اقدامات کرناہوں گے اس کا بنیادی مقصد معاشرہ سے غربت کا خاتمہ کرکے انہیں خوشحالی کی طرف گامزن ہوناچاہیے اس سے معاشرہ میں مثبت تبدیلی آنے کی توقع ہے بیگرفری کنٹری بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا حالات کا تقاضا بھی ہے اور معاشرے کو سدھانے کا ذریعہ بھی یقیناایسے اقدامات سے معاشرے کا امیج بہترہو سکتاہے۔اب چلتے چلتے ایک واقعہ نما لطیفہ بھی ملاحظہ فرما لیجئے دو بھکاری اٹلی کے شہر روم میں آمنے سامنے بیٹھے بھیک مانگ رہے تھے ایک نے اپنے سامنے صلیب رکھی تھی جب کہ دوسرے نے اپنے سامنے ایک مورتی سجا رکھی تھی جو بھی شخص وہاں سے گزرتا دونوں کو دیکھتا اور عیسائی فقیر کو پیسے ڈال کر چلا جاتا.
یہ سلسلہ جاری تھا کہ وہاں سے اک پادری کا گْزر ہوا اس نے دونوں کو دیکھا پھر ہندو فقیر کو کہا کہ تم غلطی کر رہے ہو یہ ایک عیسائی شہر ہے اور یہاں پر تم کو بھیک نہیں ملے گی اور وہ بھی جب تم ایک عیسائی فقیر کے سامنے بیٹھے ہو یہ کہہ کر پادری نے ایک نوٹ صلیب والے فقیر کو دیا اور وہاں سے چل دیا!!
یہ سن کر مورتی والے فقیر نے اپنے سامنے بیٹھے صلیبی فقیر کو آواز لگائی کہ“شیدے اب یہ ہم پاکستانیوں کو بزنس کے طریقے سمجھاے گا۔“




