کچھ دنوں سے ڈراپ سائٹ سٹوری کا چرچہ ہے ، اس سے پہلے مختلف چرچے بڑی شد و مد سے کیے جا چکے ہیں ، ان کے نتائج سے قطع نظر آج ہم ایک اور پہلو سے اس موضع پر لب کشائی کریں گے ۔یہ سلسلہ نیا نہیں ہے ۔
یہ اتفاقا ت اک بہانا ہے۔ ۔ ۔سلسلہ پیار کا پرانا ہے
گزشتہ کئی سالوں سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ ترقی پزیر ممالک بالعموم اور دیگر ممالک بالخصوص ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت تبدیلیوں کا شکار بنتے اور ہوتے رہے ہیں ، ایران عراق جنگ جو کہ تقریباً دس سال جاری رہی ، اس میں عراق کے پہلے حمائتی اور پشت پناہ ہی اس کے سب سے برے مخالف بنے ، اس کے بعد اسی عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور اس کو عدم استحکام کا ایسا شکار کیا جو کہ ابھی تک سنبھل نہیں پایا بلکہ بین الاقوامی ا سٹیبلشمنٹ کا ایسا مہرہ بن گیا جو ابھی تک معاملات خراب کرنے کے کام آتا ہے ۔
بہت کم اس خرابے کو خراب انجن چلاتا ہے ۔۔۔۔ عموما زور دست دوستاں ہی کام آتا ہے
اس کے بعد کویت میں اپنے اڈے بنانے کا ایسا نادر موقع آیا ، جو بڑے لوگوں کے ابھی تک کام آرہا ہے ، اس کے بعد دوسرے ممالک میں باری باری یہی کھیل دھرایا گیا ، تونس ، لیبیا ، مصر اس کی بڑی مثالیں ہیں ، ہر ملک میں انقلاب درآمد کیا گیا ، اور مقامی نظام جیسا تیسا تھا اس کو لپیٹ کر نیا کچھ کرنے کی کوشش کی گئی ، کہیں یہ سلسلہ جزوی کامیاب ہوا کہیں ریورس کرنا پرا ، مصر میں تھوڑے ہی عرصہ بعد اسی تنخواہ گزارا کرنا پرگیا ۔
دینے آئے تھے ہم کو تسلی ۔۔ وہ تسلی تو کیا ہم کو دیتے
توڑ کر کعبہ دل ہمارا ۔۔۔ حسرتون کے صنم دے گئے ہیں
لیبیا میں حالات اتنے خراب کردیئے گئے کہ اس کی درستگی میں عرصہ لگے گا ، اس ساری تمہید کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بھی کوشش کی گئی ، پانامہ پیپرز کا کارنامہ ہو ، مجھے کیوں نکالا والا نعرہ مستانہ ، اس کے بعد سائفر کی کرامات ہوں یا نئی نکور مینجمنٹ ہمیں ہمیشہ بین الاقو امی اشرافیہ نے ہمیں اپنے زیر دام لانے کی کوشش کی ، اس میں کتنی کامیابی ہوئی یہ تو وقت بتائے گا ، لیکن ان تما م معاملات میں پاکستان اس لحاظ سے بہتر پر فارم کرتا رہا کہ اس کے اپنے محل وقوع کی وجہ سے اپنی بنیادی حفاظت اور سیکورٹی کی خصوصی ساخت کی بنا پر ابھی تک بین الاقو امی اشرافیہ کی چراگاہ بننے سے بالکلیہ محفوظ رہا ہے ، الحمد للہ اس کی وجہ اپنی بنیادی ساخت اور محل وقوع کا خیال کرتے ہوئے اپنی سیکورٹی کا ترجیحی اہتمام ہے ۔
آج کل کی اپوزیشن اور گزشتہ حکومت اپنے وقت میں سارے امور بین الو اقوامی اشرافیہ کی مرضی سے کرتی رہی ہے ، اور اب کی حکومت بھی وہی سلسلہ دہرا رہی ہے ، فرق صرف اتنا ہے کہ گزشتہ سال کی انڈیا کے ساتھ محدود جنگ نے آس پاس کے سمجھدار لوگوں کے نظریات ہمارے متعلق بدل دئیے ہیں ، ہماری حکومت اس تبدیلی کو کیش کرانے کی کوشش کر رہی ہے ، حکومت کوئی بھی ہو اس کا یہی وتیرہ ہوتا ، اس لیے شانت رہیں ، ملکی معاملات میں اپنے وطن کے ساتھ رہیں ، حالات جیسے بھی ہوں ، حکومت کے اوپر کھل کر تنقید کریں ، ملکی سلامتی کے اوپر بات نہ کریں ، یہ ہمارے دائرہ کار سے باہر ہے ۔ جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں وہ اچھے طریقے سے اس کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوئے کوشش کر رہے ہیں ۔ بڑی سپر طاقت کے بد تمیز بڑے صاحب کی زبان سے ابھی تک ہماری بے توقیری کا واقعہ نہ ہونے کا مطلب ہے ہماری اسٹیبلشمنٹ بڑے دھیان اور احتیاط سے اپنا کام کررہی ہے ۔اس لیے حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ کسی بھی ایسی سرگرمی سے خود کو روکا جائے جس میں وطن کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ کیونکہ
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے ۔۔۔ گھر تو آخر اپنا ہے





