غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، تہران کے ساتھ سفارتی مذاکرات مکمل طور پر تعطل کا شکار ہونے کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر دوبارہ فوجی حملے شروع کرنے کی ہولناک تیاریاں تیز کر دی ہیں، جن کا ممکنہ آغاز آئندہ ہفتے سے ہو سکتا ہے۔ عالمی میڈیا نے امریکی دفاعی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب اس وقت ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی، مربوط اور شدید ترین فوجی کارروائیوں کے منصوبے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے زیرِ غور ممکنہ جنگی آپشنز میں ایران کے حساس ترین فوجی اڈوں، دفاعی تنصیبات اور اہم ترین انفراسٹرکچر پر فضائی فورسز کے ذریعے شدید ترین بمباری شامل ہے۔ اس کے علاوہ، خلیج فارس میں واقع ایران کے سب سے بڑے اور اہم ترین تیل برآمدی مرکز "خارگ آئی لینڈ” پر بحری و زمینی راستے سے قبضہ کرنے اور ایرانی جوہری تنصیبات سے حساس جوہری مواد کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے کمانڈوز فورسز کی براہِ راست تعیناتی جیسے جارحانہ اقدامات پر بھی تفصیلی حکمتِ عملی تیار کی جا چکی ہے۔
دوسری جانب، خطے میں کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ایک سینیئر اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے صیہونی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی افواج اس وقت ایران کے خلاف فوری اور فیصلہ کن جنگ کے لیے مکمل طور پر الرٹ پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تل ابیب اب صرف امریکی صدر کی جانب سے ایران سے متعلق حتمی گرین سگنل اور فیصلے کا انتظار کر رہا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی وقت ایک بڑے پیمانے پر جنگ کی چنگاری بھڑک سکتی ہے۔





