ستمبر 18, 2026

28 ویں آئینی ترمیم کے فی الحال کوئی آثار نہیں، مخلوط حکومت میں اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی پراسیس نہیں ہو گا؛ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا اہم بیان

وفاقی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ملک میں فی الحال 28 ویں آئینی ترمیم کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کا معاملہ انتہائی حساس ہوتا ہے، اس لیے حکومت پہلے پارلیمنٹ میں موجود اپنی تمام اتحادی جماعتوں سے تفصیلی مشاورت کرے گی، اور جب اتحادیوں کی طرف سے گرین سگنل یا مثبت اشارہ موصول ہو گا، تو اس کے بعد ہی مزید رہنمائی اور مشاورت کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ قانون نے حکومت کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت ملک میں ایک مخلوط حکومت چلا رہے ہیں، اور ایسی صورتحال میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کوئی بھی آئینی ترمیم کیسے کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک تمام اتحادیوں کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو جاتا، آئینی ترمیم پر کوئی باقاعدہ پراسیس یا کارروائی شروع نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس حوالے سے کچھ بھی واضح نہیں ہے، کیونکہ جب کسی ترمیم کا باقاعدہ ڈرافٹ (مسودہ) تیار ہوتا ہے، تب ہی اس کے اصل خدوخال سامنے آتے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ وفاق کو چلانے کے لیے کچھ سیاسی و انتظامی مسائل درپیش ہیں جن پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ساتھیوں کا مؤقف ہے کہ ملک میں مقامی حکومتوں (بلدیاتی نظام) کو مزید مضبوط اور خود مختار کیا جائے؛ ایم کیو ایم جو تجویز سامنے لائی تھی، وزیرِ اعظم نے اس پر تمام جماعتوں میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپی ہے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ چونکہ وزیرِ اعظم حکومت کی قیادت کر رہے ہیں اور صدرِ مملکت کا تعلق دوسری بڑی اتحادی جماعت سے ہے، اس لیے جب صدر اور وزیرِ اعظم مل بیٹھیں گے تو یہ سیاسی مشاورت مزید آگے بڑھے گی۔