اکتوبر 29, 2026

کرکٹ ۔۔۔تباہی اور بربادی کی مسلسل کہانی

عرصہ دراز سے کرکٹ کو فالو کر رہے ہیں ، دیکھتے بھی ہیں ، اپنے وقت پہ کھیلتے بھی رہے ہیں ، کرکٹ ایک ایسا کھیل جو پاکستانیوں کو آپس میں جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، خصوصا بیرون ملک رہنے والے افراد کے پاس فارغ وقت میں کوئی مصروفیت نہیں ہوتی تو اس گیم کو فالو کرتے ہیں ، دیکھتے ہیں اور خود کو ان کے درمیان کھیلتا محسوس کرتے ہیں ، لیکن کچھ عرصہ سے اپنی ذاتی پسند اور ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر اس کھیل سے مسلسل کھلواڑ جاری ہے ، اور یہ کوشش ایک مسلسل عمل ہے جس کا سرا یا انجام نظر نہیں آرہا ۔
جیسے ہی پاکستان ٹیم کوئی میچ جیتی ہے ، تو ہر کوئی خوشی سے پھولا نہیں سماتا لیکن جب کوئی میچ ہارے اور چج سے ہارے تو کبھی کوئی محسوس نہیں کرتا لیکن جب مقابلہ ہی نہ کرے یا اپنے سے لو لیول کے حریف سے ہار جائے تو لوگوں کا ناراض ہونا بنتا ہے ، ابھی گزشتہ روز پاکستان بنگلہ دیش سے ایسے ہی ہارا ہے ، کبھی یہ سوچا جاسکتا ہے کہ،عمران ، وسیم ،وقار اور شعیب اختر کی لیگیسی کی حامل ٹیم کے پاس کوئی 150 کی سپیڈ کا باولر ہی نہیں ہے ، اور یہ سلسلہ تقریبا گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے ، پریمیم پھاسٹ بولر کی جگہ جب سے بنی ہے دوسرا باولر ہی نصیب نہیں ہورہا ، بنگلہ دیش کی ٹیم نے اپنی توقع سے بڑھ کر پر فارم کیا ہے ، ان لوگوں نے اپنی گیم کو امپروو کیا ہے ، لیکن ہمارے کپتان صاحب اور دیگر سینئر پلیر پتہ نہیں کیا سوچ کر گراونڈ میں جاتے ہیں ، تو چل تے میں آیا والا کھیل ہے ،کوئی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ، کپتان صاحب صرف اچھی ا نگریزی وجہ سےمسلسل ہارنے کے باوجود ٹکے ہوئے ہیں ، ان کی کرسی باقی رہے ، ملک جائے بھاڑ میں ۔ اتفاق سے 11 شکستیں اتنے میچوں میں کسی کپتان کو نصیب نہیں ہوئیں
پرابلم کی وجہ یہ ہے کہ غیر متعلقہ لوگ اپنی پوزیشن کو سنبھالے ہوئے ہیں ، جن کی ٹی 20 میں جگہ نہیں بنتی وہ کپتان ہیں ، جن کی ون ڈے میں جگہ نہیں بنتی وہ ون ڈے کے کپتان ہیں ، جن کی کہیں بھی جگہ نہیں بنتی وہ ٹیسٹ کے کپتان ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ افراد کو کمان سونپی جائے اور انہیں وقت دیا جائے ۔ سلمان علی آغا ،ٹیسٹ اور ون دے کے بہترین پرفارمر ہیں ، انہیں اس فارمیٹ کی ذمہ داری دی جائے ، جو جس جگہ کا مستحق ہے ، اسے اس کی جگہ کھلایا جائے ، پریمیم پھاسٹ باولر اور کیپر صاحب سے معافی مانگی جائے ، پرانے چلے ہوئے کارتوسوں سے جان چھڑائی جائے ، مینیجمنٹ اور انتطامیہ کا ٹیم میں دخل کم سے کم کیا جائے ۔نئے لڑکے جو ڈومیسٹک میں پرفارم کرکے آئے ہیں ، انہوں نے ذمہ داری دکھائی ہے ،ان کے اوپر اعتماد کیا جائے ، جینوین فاسٹ باولر کو شامل کیا جائے ، کم از کم دو حقیقی رفتار والے فاسٹ باولر ، ایک سپنر اور ایک آلراونڈر کی ٹیم میں لازمی جگہ ہونی چاہیے ، کیپر نیا تلاش کریں ، ٹیسٹ کی ٹیم کو صرف اسی فارمیٹ میں موقع دیں ان کو ذمہ داری کا احساس دلائیں ، کپتان کوئی بھی ہو اس کو اپنی کارکردگی سے دوسروں کی رہنمائی کرنی چاہیے ، رشتے دار ، او2ر سسر کلچر سے چھٹکارا پایا جانا چاہیے ، تو یہ گیم بھی پاکستانیوں کے چہروں پر خوشیاں لاسکتی ہے ، نہیں تو غم تو پہلے ہی وافر ہیں ۔۔بقول کیفی اعظمی ۔۔
تم جو اتنا مسکرا رہے ہو
کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو