اکتوبر 28, 2026

پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر بجٹ اور آئینی ترمیم کی منظوری ناممکن: بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کے تعاون کے بغیر نہ تو بجٹ پاس کروا سکتی ہے اور نہ ہی کوئی آئینی ترمیم منظور کروانے کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ بجٹ مذاکرات کے لیے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں راجہ پرویز اشرف، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان اور نوید قمر شامل ہیں۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ فی الوقت 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے، تاہم مستقبل کے حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اور وہ اس پر ردعمل تب ہی دیں گے جب کوئی تحریری مسودہ سامنے آئے گا۔

خارجہ پالیسی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں گامزن ہے اور اسے ملکی مفادات کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پاک بھارت تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں اور یو اے ای و ایران کے ساتھ متوازن تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی امن کے لیے کوشاں ہیں اور پاکستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں امن کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی میڈیا پر بھارت کے بیانیے کو شکست دینا ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی۔

معاشی صورتحال اور مہنگائی کے حوالے سے چیئرمین پی پی پی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور ان پر مہنگائی کے بم گرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا بجٹ مزید چیلنجز لے کر آ سکتا ہے، اس لیے حکومت کو عوامی ریلیف کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ بلاول بھٹو نے موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول میں ریلیف دینے کے حکومتی فیصلے کو سراہا اور واضح کیا کہ وہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت پر تنقید نہیں کریں گے، کیونکہ ملک کو اس وقت سنگین مالی بحران کا سامنا ہے۔